بورڈ آف پیس: انسانی بحران یا عالمی مفادات؟

فلسطین اور کشمیر کا تنازع طویل عرصہ سے عالمی سیاست کا موضوع بنا ہوا ہے۔ گذشتہ ڈھائی سالوں سے اسرائیل کی بربریت، تشدد، بمباری اور ظلم و ستم نے فلسطینیوں کو اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے کہ تاریخ میں جس کی مثال نہیں ملتی۔ امریکہ کی اشیرباد اور پشت پناہی سے نتین یاہو نے […]
خاموش بلوچستان اور چیختے سوالات

نیا سال شروع ہوئے پورا ایک مہینا گزر چکا ہے، مگر طبیعت ابھی مائل نہیں ہوئی۔ دل لکھنے کو بالکل نہیں چاہ رہا۔ گاؤں میں تعطیلات سے لطف اندوز ہو رہا ہوں۔ چہار سو پہاڑوں نے برف کی چادر اوڑھ رکھی ہے۔ چمکتی دھوپ میں خنک ہوا کا مزا ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ اس […]
ماہ صیام اور دمہ کے مسائل

رمضان کی آمد آمد ہے۔ ایک طرف رمضان اپنے ساتھ رحمتیں اور برکتیں لاتا ہے، تو دوسری طرف دمہ اور سانس کے جملہ امراض کے مریضوں پر تھوڑا گراں گزرتا ہے، جس کی بنیادی وجہ عالمی موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے سوات کی خشک سردی اور سحری افطار میں مرغن غذاؤں کے ساتھ گھی، چکنائی اور […]
تعلیم کا اصل مقصد (فکری مکالمہ)

تعلیم کا مقصد صرف انسان کو روزگار کے قابل بنانا یا اسے معاشی دوڑ میں شامل کرنا نہیں، بل کہ اس کی اصل غایت انسان کو انسان بنانا ہے۔ ایسا انسان جو صرف زندہ رہنا نہ جانتا ہو، بل کہ باوقار، بامقصد اور باشعور زندگی جینے کا سلیقہ بھی رکھتا ہو۔ زندہ رہنا تو فطری […]
قومی بدانتظامی یا سرمایہ داری کا بحران؟ (مارکسی تجزیہ)

’’مملکتِ خدادا‘‘ پاکستان میں سوشل ازم کو ماضی کا ایک ناکام خواب بنا کر پیش کیا جاتا ہے، مگر سچ یہ ہے کہ سوشل ازم کو بدنام کرنے کا عمل آج بھی پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے یہ کام بندوق، کوڑے اور فتوے سے ہوتا تھا، آج یہ […]
سیاسی بقا کی فقہ

قانون اور سیاسی طاقت کا سنگم اکثر ایک ایسا میدانِ جنگ تخلیق کرتا ہے، جہاں عدالتیں طاقت کی کش مہ کش کا ثانوی تھیٹر بن جاتی ہیں۔ پاکستان میں جمہوری نمایندگی اور ادارہ جاتی دباو کے درمیان جاری کش مہ کش میں قانونی نظام کو اکثر ریاست کی جانب سے اختلافِ رائے کو کچلنے کے […]
شوگر کے مریض اور روزہ (ماہرانہ تجزیہ)

رمضان کے دوران میں شوگر (ذیابیطس) کے مریضوں کے لیے روزہ رکھنا ایک احتیاط طلب معاملہ ہے۔ صحیح منصوبہ بندی اور احتیاط کے ساتھ یہ ممکن ہوسکتا ہے، لیکن کچھ صورتوں میں یہ صحت کے لیے سنگین خطرہ بھی بن سکتا ہے۔ شوگر کے مریضوں کے روزہ رکھنے کے حوالے سے خطرے کی سطح مریض […]
ذہنی اذیتوں کا مداوا… آہ، ڈاکٹر حیدر علی

مینگروال تہذیب میں بہت سے جملوں کے معنی ہوسکتا ہے کچھ اور ہوں مگر ان کا استعمال اور مطلب مینگروال خوب سمجھتے اور محسوس کرتے ہیں۔ قارئین! بات آبائی مینگروال تہذیب اور شہریوں کی ہو رہی ہے۔ بیش تر لوگوں کو پتا ہوگا کہ ڈاکٹر حیدر علی صاحب کا انتقال ہوگیا ہے، یہ ایک افسوس […]
جمعیت العلمائے اسلام کی خدمات کا مختصر بیانیہ

یہ پاؤں شاید عام نگاہ میں محض تھکے ہوئے قدم ہوں، مگر اہل بصیرت جانتے ہیں کہ یہی قدم تاریخ کے وہ روشن صفحات ہیں، جن پر دین اور انسانیت کی خدمت کے نقوش ثبت ہوتے ہیں۔ خاک آلود اُنگلیاں، گھسے ہوئے ناخن، چلچلاتی دھوپ اور پتھریلے راستوں کی تھکن، یہ سب قربانی نہیں، بل […]
کیا ہم واقعی باشعور لوگ ہیں…؟

’’خیبر پختونخوا کے عوام سب سے زیادہ باشعور ہیں۔‘‘یہ جملہ اتنی بار دہرایا جاچکا ہے کہ اب یہ نعرہ کم اور طنز زیادہ لگتا ہے۔ باشعور ہونا کوئی معمولی دعوا نہیں، یہ ایک بھاری ذمے داری ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس شعور کا اظہار سڑکوں، اسپتالوں، اسکولوں، روزگار اور ترقیاتی منصوبوں میں کم […]
ہائبرڈ جمہوریت کے تجربات و ثمرات

پاکستان میں جمہور اور جمہوریت کے نام پر جو کھلواڑ کھیلا گیا اور اب بھی جاری ہے، وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ موجودہ ہائبرڈ جمہوری نظام سے پیدا ہونے والے بعض لوگ یہ دعوا کرتے ہیں، یا دل کو بہلانے کے لیے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ’’بدترین جمہوریت، آمریت سے بہتر ہے۔‘‘ […]
’’کیس نمبر 9‘‘، اردو ادب کی مقصدی روایت کا احیا

اردو ادب کی تاریخ گواہ ہے کہ جب داستانوں کے مافوق الفطرت کرداروں اور طلسماتی فضاؤں نے انسانی شعور کو محض تخیلاتی دنیا تک محدود کر دیا تھا، تب سرسید احمد خان نے اپنے قریبی رفیق مولوی نذیر احمد کو ایک نیا راستہ دکھایا تھا۔ سرسید کا موقف تھا کہ ادب محض وقت گزاری یا […]
پاکستان میں طبقاتی نظام (مارکسی مطالعہ)

کارل مارکس کا یہ قول کہ ’’اب تک کی تمام تاریخ طبقاتی جد و جہد کی تاریخ ہے‘‘ اگر کسی ایک ملک پر پوری شدت کے ساتھ صادق آتا ہے، تو وہ پاکستان ہے۔ یہاں طبقاتی تقسیم محض معاشی نہیں، بل کہ سیاسی، سماجی، ثقافتی اور حتیٰ کہ جغرافیائی صورت اختیار کرچکی ہے۔ مارکس کی […]
خلائی مخلوق… حقیقت یا محض انسانی تجسس؟

قارئینِ کرام! اگر دیکھا جائے، تو اس صدی کے اہم ترین سوالات میں سے ایک یہ ہے کہ کیا ہماری زمین کے علاوہ بھی کائنات میں کہیں زندگی موجود ہے؟ کیا خلا کی بے پایاں وسعتوں میں ایسے سیارے موجود ہوسکتے ہیں، جہاں ہماری ہی طرح کی مخلوق آباد ہوں؟ کیا دوسرے نظام ہائے شمسی […]
اڑان پاکستان یا تجربات کا تکرار؟

وفاقی حکومت کے زیرِ اہتمام وزارت منصوبہ بندی و خصوصی اقدامات نے ’’اڑان پاکستان‘‘ کے نام سے ایک منصوبہ شروع کیا ہے۔ اس کا مقصد نام ہی سے واضح ہے۔ اللہ کرے پاکستان واقعی اڑان بھرے اور عوام کو سکھ کا سانس نصیب ہو… مگر شکی مزاجیوں کا کہنا ہے کہ اعلانات سے تقدیریں نہیں […]
مولانا فضل الرحمان کا ریاست سے مکالمہ

قومی اسمبلی کے فلور پر مولانا فضل الرحمان مدظلہ کا حالیہ خطاب کسی سیاسی مصلحت کا اسیر نہیں تھا۔ یہ ایک بغاوتِ شعور تھی۔ یہ تقریر اس نظام کے منھ پر طمانچہ تھی، جو خود کو جمہوریت کہتا ہے، مگر اندر سے جبر، منافقت اور غلامی کا مجموعہ بن چکا ہے۔ یہ خطاب اُن ایوانوں […]
برف باری: امیر کی تصویر، غریب کی خاموش چیخ

جب برف امیر کے لیے تفریح اور غریب کے لیے زندگی کا کڑا امتحان بن جائے، تو سمجھ لیں کہ مسئلہ موسم کا نہیں، بل کہ انتظامیہ کا ہے۔گذشتہ شب سوات اور باقی شمالی علاقوں میں برف باری کا سلسلہ شروع ہوا، تو پہاڑوں نے سفید چادر اوڑھ لی۔ درختوں نے خاموشی کا لباس پہن […]
کرسٹل میتھ (آئس): نوجوان نسل پر مہلک یلغار

پاکستان میں منشیات کے مسئلے کو طویل عرصے تک روایتی زاویے سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ افیون، ہیروئن اور چرس ہماری اجتماعی سوچ میں اس مسئلے کی نمایندہ علامات بن چکی ہیں…… مگر گذشتہ ایک دہائی میں کچھ اس قسم کی منشیات تیزی سے پھیلی ہیں، جنھوں نے نشہ آور چیزوں کے پورے تصور کو […]
امن عالم ٹرمپ کے نوبل انعام سے مشروط

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دوسرا صدارتی دور صرف امریکی سیاست تک محدود نہیں رہا، بل کہ اس نے عالمی نظام کو ایک نئی بے یقینی، اضطراب اور خوف کی کیفیت میں دھکیل دیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ وہ سیاست دان ہیں، جو روایتی سفارت کاری، بین الاقوامی قوانین یا اخلاقی اُصولوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ […]
عدل و انصاف… ریاست کا سب سے بڑا بحران

پاکستان کو درپیش بے شمار مسائل میں اگر کسی ایک بنیادی سبب کی نشان دہی کی جائے، تو وہ بلاشبہ عدل و انصاف کا فقدان ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس معاشرے میں انصاف بروقت، غیر جانب دار اور مساوی بنیادوں پر فراہم نہ ہو، وہاں بداعتمادی، انتشار، لاقانونیت اور بالآخر ریاستی کم […]
وفاق، وسائل اور ناانصافی

پاکستان کے قیام کا تصور تھا کہ ہر صوبہ برابری کی بنیاد پر فیڈریشن کا حصہ ہوگا اور وفاق کا مرکزی ڈھانچا انصاف پر مبنی ہوگا، جہاں کسی ایک صوبے کو دوسرے صوبے پر اجارہ داری حاصل نہیں ہوگی۔تاریخ کی طویل مسافت اور روزمرہ کی تلخ حقیقتوں نے یہ واضح کر دیا کہ یہ تصور […]