سوئے سکردو (قافلۂ ہم سفراں)

وہ جو کہتے ہیں کہ کوئی سفر لا حاصل نہیں ہوتا ہے۔ منزل ملے یا نہ ملے، منزل کی طرف جانے والے راستے بہت کچھ سکھا دیتے ہیں۔ہمارا اس سال (2025ء) کا سفر جانبِ سکردو تھا۔ سکردو خوابوں کی سرزمین ہے ۔ پریوں کا مسکن ہے۔ نیک سیرت، سادہ، بھلے مانس اور فرشتہ صفت لوگوں […]
سیلاب، ماضی کے جھروکے سے

مَیں نے دورانِ ملازمت دریائے سوات کے سیلاب کا دو دفعہ عملی مشاہدہ کیا ہے۔ دونوں دفعہ ہم محدود وسائل کے باوجود ’’ایوب برج‘‘ کو بچانے میں کام یاب ہوئے تھے۔ پہلی بار 1985ء میں اور دوسری بار 1987ء میں۔لیکن حالیہ سیلاب کی مچائی ہوئی تباہی کی اس سے پہلے نظیر نہیں ملتی…… آخر اس […]
تعلیم دشمنی یا انتظامی ناکامی؟

صوبہ خیبر پختونخوا کے کالجوں سے بی ایس ڈگری پروگرام کے خاتمے کا فیصلہ نہ صرف قابلِ افسوس ہے، بل کہ یہ تعلیمی محرومیوں میں اضافے کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسے وقت میں جب شرحِ خواندگی میں اضافہ اور اعلا تعلیم تک رسائی کو وسعت دینا قومی ترجیح ہونی چاہیے، حکومت […]
اصل امتحان سیلاب کے بعد ہے

پاکستان کی زمین پر ایک بار پھر آزمایش کا موسم اُترا ہے۔ آسمان سے برسنے والی بارشیں جب پہاڑوں کی چوٹیوں سے ٹکرائیں، تو پہاڑوں نے چیخ مار کر اپنی جڑوں سے پانی چھوڑ دیا۔ ندیاں بپھر گئیں، دریا غضب ناک ہو گئے، کھیت سمندر بن گئے اور بستیاں ملبے میں دب گئیں۔ کہیں کسی […]
فکری سانحہ

سیاسی و نظریاتی یرغمالی پن شاید آج کے دور کا سب سے خطرناک ذہنی مرض بن چکا ہے۔ ایسے افراد جو کسی خاص فکر، جماعت یا شخصیت کے اندھے پیروکار بن جاتے ہیں، اُن کے لیے دنیا صرف ایک رنگ رکھتی ہے، اُن کی پسند کا۔ باقی سب یا تو غلط ہیں یا پھر دشمن……!ایسے […]
اپنے حصے کی شمع جلانے کی ضرورت

جس معاشرے میں سچائی کو جھوٹ، دیانت کو بے وقوفی اور خیانت کو ہوش یاری سمجھا جانے لگے ، وہاں ایک ذی شعور شخص کے دل میں بے چینی اور سوالات کا جنم لینا فطری امر ہے۔ آج ہمارا معاشرہ اخلاقی، سماجی، تعلیمی، عدالتی اور خاندانی زوال کی ایسی دلدل میں دھنس چکا ہے، جہاں […]
سوات سیلاب، ایک المیہ اور اس کے اثرات

(یہ تحریر دراصل فضل مولا زاہد کے ایک انگریزی آرٹیکل کا ترجمہ ہے، جسے انھوں نے معروف نشریاتی ادارے ’’فرائڈے ٹائمز‘‘ کے لیے لکھا ہے، مترجم) پندرہ اگست کی صبح کا سورج مینگورہ میں طلوع ہوچکا تھا۔ صبح آٹھ سے دس بجے کے درمیان بچے اپنی کمرائے جماعت میں بیٹھے تھے، دکان دار دکانوں کے […]
’’ابراہیمی معاہدہ‘‘میری نظر میں

صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں مشرقِ وسطیٰ میں امن اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے ستمبر 2020ء کو اسرائیل، متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش کے درمیان ایک معاہدہ کرایا، جسے ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ کا نام دیا۔ معاہدے کا نام ابراہیم (ابراہام) رکھنے کا مقصد یہ بتایا گیا کہ مسیحی، یہودی […]
پاکستانی سیاست کا مختصر تجزیہ

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا تجزیہ کرنے پر یہ بات بڑی واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ تمام حکومتوں نے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے قانون سازی کی ہے، مگر اس کے باوجود ملک میں ایسا موثر سسٹم قائم نہیں کیا جا سکا، جس کے تحت ادارے اور حکومتی ڈھانچا ایک مستقل […]
پانی کے طوفان اور دلوں کے چراغ

بونیر میں قیامت خیز سیلاب آیا اور اپنے ساتھ سب کچھ بہاکر لے گیا، تو طعنہ دیا گیا کہ ’’پیربابا رحمۃ اللہ علیہ کہاں گئے ؟‘‘لاہور پانی میں ڈوبا، تو زبانوں سے تیر برسنے لگے کہ ’’علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے کیا کیا؟‘‘قصور میں جل تھل ایک ہوا، تو طنز ابھرا،’’ بلھا شاہ کتھے […]
آفتوں میں متحد ہونے والی قوم

گلگت، سوات اور بونیر میں سیلاب متاثرین کے مسائل جوں کے توں تھے کہ پنجاب میں بھی سیلاب نے لاکھوں لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ خدا کرے کہ یہ پانی بہ خیر سندھ سے گزر جائے ۔ پورے ملک میں انسانی اور مالی نقصانات کا درست تخمینہ ابھی تک نہیں لگایا جا سکا۔ […]
تعلیمی اصلاحات یا بیوروکریسی کی افزایش؟

پاکستان کی تاریخ میں اگر کوئی چیز مستقل ہے، تو وہ ہے ’’نازک موڑ‘‘۔ ملک کبھی معیشت کے نازک موڑ پر پسینہ پونچھتا ہے، توکبھی سیاست کے نازک موڑ پر اندھی گلیوں میں بھٹکتا ہے…… اور کبھی خارجہ پالیسی کے نازک موڑ کے کچے گھاٹ پر پاؤں ٹٹولتا ہے، جب کہ تعلیم ہمیشہ ہر نازک […]
سوات کی تقسیم: ترقی کا خواب یا نیا امتحان؟

حالیہ دنوں میں سوات کو دو انتظامی اضلاع میں تقسیم کرنے کی تجویز نے نہ صرف مقامی سطح پر بحث کو جنم دیا ہے، بل کہ عوامی خدشات بھی بڑھا دیے ہیں۔ اربابِ اختیار اسے ترقی اور سہولیات کی فراہمی کے لیے ناگزیر قرار دے رہے ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا صرف […]
برصغیر کی غیر فطری تقسیم اور ’’ہمارے اعمال‘‘

برطانوی سامراج کی برصغیر کی غیر فطری تقسیم کی جھلک آج بھی نظر آتی ہے۔ اِس وقت برصغیر پاک و ہند سیلابی صورتِ حال اور موسمی تغیرات کی زد میں ہے۔ انڈس بیسن کا نظام، جہاں معاون دریا دریائے سندھ میں آکر ایک مکمل دھارا بناتے ہیں، صدیوں تک قدرتی توازن کا ضامن رہا…… لیکن […]
ایکیگائی، جاپانیوں کی طویل زندگی کا راز

دنیا کے نقشے پر جاپان ایک ایسا ملک ہے، جس نے دنیا کو صرف ٹیکنالوجی، نظم و ضبط اور جدت ہی نہیں دی، بل کہ ایک حیران کن سماجی اور حیاتیاتی راز بھی عطا کیا ہے۔ وہ راز ہے ’’طویل اور صحت مند زندگی‘‘۔اقوامِ متحدہ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق جاپان میں اوسط […]
کرۂ ارض، تسخیر سے نگہ داشت تک

بونیر، سوات، باجوڑ اور شانگلہ میں سیلابوں کی وجہ سے حالیہ اندوہ ناک تباہی نے ہم سب کو ’’کلائمیٹ چینج‘‘ کا ماہر بنا دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی مضامین دھڑا دھڑ لکھے اور شاید پڑھے بھی جا رہے ہیں۔ بہ ظاہر یہ ایک اچھا رجحان ہے، تاہم آیا یہ وقتی اگہی کسی دیرپا عمل […]
طوفانوں میں گھرا، مگر بقا کی جنگ لڑتا ایران

ایران آج ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے، جہاں اس کی تاریخ، اس کی جغرافیائی سیاست اور اس کی قومی شناخت ایک امتحان سے گزر رہی ہے۔جون 2025ء کی 12 روزہ جنگ، جو اس نے اسرائیل کے ساتھ لڑی، اُس کے بعد امریکی فوجی مداخلت نے اسے ایک نئے چیلنج سے دوچار کیا۔ یہ […]
سیلاب کی تباہ کاریاں اور ہماری ذمے داریاں

سوات اور بونیر میں حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کا صحیح تخمینہ لگانا ابھی شاید مکمل نہیں ہوا ہوگا، لیکن اندازہ یہ لگایاجا رہا ہے کہ بونیر میں مالی نقصان کے ساتھ ساتھ بے شمار جانی نقصان ہوا ہے…… جب کہ سوات میں جانی نقصان بونیر کے مقابلے میں تو کم ہے، لیکن […]
جمہوریت، نادیدہ قوتوں کے ہاتھوں کا کھلونا

پاکستان میں جمہوریت، مقتدرہ یا یوں کَہ لیں کہ چند نادیدہ قوتوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن چکی ہے۔ وہ جیسے چاہیں نچالیتے ہیں۔ اس میں جتنا قصور نچانے والوں کا ہے، اُس سے زیادہ قصور اُن سیاسی عمائدین کا ہے، جو پاؤں میں گھنگرو باندھ کر طبلے کی تاپ پر ناچتے ہیں۔ مقتدرہ اور […]
سیلاب کی تاریکی میں مدارس کی روشنی
حالیہ تباہ کن سیلاب نے خیبر پختونخوا کی حسین وادیوں سوات اور بونیر کو ایسی کڑی آزمایش سے دوچار کر دیا ہے، جس کی مثال برسوں میں مشکل سے ملے گی۔ یہ وہ خطے ہیں جو کبھی اپنی دل کش وادیوں، بہتے جھرنوں اور سرسبز کھیتوں کے سبب جنت نظیر کہلاتے تھے، مگر اب ان […]
نج کاری کے سائے میں دم توڑتی تعلیم

ابھی ہم تعلیم کے معیار، نصاب کی اصلاح، یا ٹیکنالوجی کے استعمال جیسے مباحث میں اُلجھے ہوئے تھے کہ ایک اور خطرناک بحث نے سر اُٹھالیا، ’’سرکاری تعلیمی اداروں کی نج کاری۔‘‘گویا جن سکولوں میں غریب کا بچہ دو وقت کی روٹی کی قیمت پر پڑھنے آتا ہے، اَب وہاں بھی دولت کی دیوار کھڑی […]