فلسفہ تا سیاست: عطاء اللہ جان کی ہمہ جہت فکر

ہر ہفتے کی شام شہید عطاء اللہ جان ایڈوکیٹ کے ساتھ ایک سنجیدہ محفل جمتی تھی۔ مختلف موضوعات پر گفت گو ہوتی، بعض بحثیں ادھوری رہ جاتیں اور کئی سوالات اپنے پیچھے پیغامات چھوڑ جاتے۔ہیگل کے بارے میں شہید جان کا خیال تھا: ’’اس فلسفی (ہیگل) کو کھل کر بیان کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ ہیگل […]
بدلتے ہوئے عالمی اقتصادی توازن کا جائزہ

سنہ 2026 عیسوی کی عالمی معیشت کا منظرنامہ ایک ایسے دور کی عکاسی کرتا ہے، جس میں طاقت، وسائل، پیداوار اور اقتصادی اثر و رسوخ کی جغرافیائی تقسیم تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ دنیا کی مجموعی معیشت جس کا حجم تقریباً 219 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے، اب ایک نئی حقیقت کی طرف […]
پاکستان افغانستان تنازع اور بگرام ایئربیس

قارئینِ کرام! اس تحریر میں ہم پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر اور اُن عوامل کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے، جنھوں نے دونوں برادر اسلامی ممالک کو ایک نہایت نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ صورتِ حال اس حد تک کشیدہ ہوچکی ہے کہ پاکستان نے کئی […]
مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کی بساط اور اردوان

گذشتہ دو دہائیوں کے دوران میں مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست کی تشکیل میں رجب طیب اردوان کا کردار مرکزی، متنازع اور گہرے اثرات کا حامل رہا ہے۔ ترکی کے صدر کی حیثیت سے اردوان نے انقرہ کو ایک طرف اسرائیلی اسٹریٹجک توسیع پسندی، جسے علاقائی بیانیے میں اکثر’’صیہونی وژن‘‘ کے طور پر پیش کیا […]
عوامی وسائل اور طاقت کا سوال

آج کے دور میں ریاست کو اکثر اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے گویا وہ کوئی ایسی مقدس ہستی ہو، جس پر سوال اٹھانا مناسب نہ ہو اور جو معاشرے سے بالا تر مقام رکھتی ہو۔ وزرا اور سرکاری اہل کار بعض اوقات ایسی تعبیرات اختیار کرتے ہیں، جن سے یہ تاثر ابھرتا ہے […]
ہیروشیما سے غزہ تک (مختصر جائزہ)

دنیا میں ہر طاقت ور ملک، یا کسی طاقت ور ملک کا بادشاہ، صدر اور وزیرِ اعظم، کم زوروں کے لیے کسی عذابِ خداوندی سے کم نہیں ہوتا… لیکن اس دورِ جدید میں بھی بعض طاقت ور ممالک دوسروں کو جینے کا حق دینے پر آمادہ نہیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران میں امریکہ نے […]
تیزی سے بدلتا عالمی منظرنامہ

20ویں صدی کے اختتام تک عالمی سیاست ایک نازک مگر قائم توازن کے سہارے کھڑی تھی۔ دو بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے مقابل موجود تھیں، اختلافات شدید تھے، مگر ایک حد بھی موجود تھی۔ اس حد نے دنیا کو مکمل تباہی سے بچائے رکھا۔ پھر وہ مرحلہ آیا، جب ایک طاقت بکھر گئی اور دوسری […]
سوشل میڈیا، ثقافتی اظہار اور فکری تقسیم

گذشتہ دو دہائیوں میں خیبر پختونخوا کا سماجی و سیاسی منظرنامہ غیر معمولی تغیرات سے گزرا ہے۔ عسکریت پسندی، ریاستی آپریشنز، نقلِ مکانی، عالمی سیاست کے اثرات، اور اب سوشل میڈیا کی برق رفتار دنیا، یہ سب عوامل مل کر ایک ایسا ماحول تشکیل دے چکے ہیں، جہاں ہر واقعہ فوری طور پر ایک وسیع […]
خود احتسابی کا عمل جاری رہنا چاہے

گذشتہ چند دنوں سے چند پشتون لکھاری پشتون سماج کے اندر غیرت اور پشتون ولی کے نام سے ثقافتی انتہا پسندی پر لکھ رہے ہیں اور اس عمل کو خود احتسابی سے جوڑ رہے ہیں۔ کسی بھی سماج کی ترقی کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنے اندر جھانکے اور جہالت کے دور کے اُن فرسودہ […]
بھٹو کا سوشلزم… ادھورا مگر روشن خواب

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کچھ شخصیات محض راہ نما نہیں ہوتے، بل کہ عہد بن جاتے ہیں۔ وہ اپنے زمانے سے آگے کا خواب دیکھتے ہیں اور عوام کے شعور میں ایک نئی زبان پیدا کرتے ہیں۔ 1970ء کی دہائی میں ایسا ہی ایک عہد جنم لیتا ہے، جب ذوالفقار علی بھٹو نے سیاست […]
جعلی اشیائے خور و نوش اور صحت عامہ کا بحران

آج کے دور میں جہاں ترقی اور جدیدیت کی باتیں کی جا رہی ہیں، وہیں ہماری روزمرہ کی ضروریات کی اشیا، جنھیں ہم اپنی زندگی کے معمولات میں شامل کرچکے ہیں، نہ صرف ہماری صحت کے لیے خطرہ بن چکی ہیں، بل کہ ایک گہری اجتماعی اور اخلاقی بدحالی کا بھی سبب بن رہی ہیں۔ […]
پاکستان، بنیادی حقوق کی بھاری قیمت کیوں؟

فلاحی ریاستوں میں یہ تصور ایک مسلمہ حقیقت سمجھا جاتا ہے کہ صحت، تعلیم اور انصاف ہر شہری کو بلامعاوضہ یا کم از کم ضرورت کے وقت بغیر بہ راہِ راست ادائی کے میسر ہوں۔ اِسکنڈے نیویا سے لے کر مغربی یورپ تک، شہری نسبتاً زیادہ ٹیکس اس یقین کے ساتھ ادا کرتے ہیں کہ […]
پنجاب دا سلطان…؟

حکومتِ پنجاب کی ہدایت پر ’’پنجاب بیوٹی فیکشن پراجیکٹ‘‘ (Punjab Beautification Project) کے تحت ضلع جہلم کی تحصیل دینہ میں نصب شیر شاہ سوری کا مجسمہ ہٹاکر اُس کی جگہ ’’سلطان سارنگ گھکڑ‘‘ کا مجسمہ نصب کر دیا گیا ہے۔ مجسمے کی تختی کی نقاب کشائی دینہ کی اسسٹنٹ کمشنر محترمہ صفا عبد نے کی۔ […]
اسٹیبلشمنٹ کا مارکسی تجزیہ

ریاست، اقتدار اور طاقت کے سوال پر جب ہم مارکسی عدسے سے نظر ڈالتے ہیں، تو ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ محض ایک مبہم سیاسی اصطلاح نہیں رہتی، بل کہ ایک واضح اور متعین طبقاتی مفہوم اختیار کرلیتی ہے۔ عام سیاسی گفت گو میں اسٹیبلشمنٹ سے مراد عموماً فوج، بیوروکریسی یا خفیہ ادارے لی جاتی ہے، مگر مارکسزم اس […]
سوات: گندھارا ورثہ اور معاشی امکانات

سوات کی وادی، جسے مشرق کا سوئٹزرلینڈ کہا جاتا ہے، محض بلند و بالا برف پوش چوٹیوں، گنگناتی جھیلوں اور سرسبز چراگاہوں کا نام نہیں، بل کہ یہ خطہ انسانی تاریخ کی اَن گنت تہوں کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ حال ہی میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے بدھ مت کے پیروکاروں […]
نام نہاد غیرت کا المیہ

غیرت ایک لفظ ہے، جس کو پختونوں کے ساتھ نتھی کیا گیا ہے۔ پختونوں کے ساتھ جہاں کئی اور زیادتیاں کی گئی ہیں، وہاں ان کی جھوٹ پر مبنی ذہن سازی بھی کی گئی ہے۔ اسی ذہنیت نے پختون کو خود ساختہ تصورات کے ساتھ باندھ رکھا ہے، جس میں شان دار ماضی کی دل […]
پاکستان کا طبقاتی بحران (مارکسی تناظر)

یہ ایک ایسا عہد ہے جس میں پاکستان بہ ظاہر سیاسی نعروں، معاشی پیکجوں اور وقتی اصلاحات کے شور میں گھرا ہوا ہے… مگر اس شور کے پیچھے ایک گہری خاموشی بھی موجود ہے۔ وہ خاموشی جو مزدور کے خالی ہاتھوں، کسان کے بنجر کھیتوں اور متوسط طبقے کے ٹوٹتے خوابوں میں سنائی دیتی ہے۔ […]
سوات، سماجی ہم آہنگی کو درپیش چیلنجز

قارئینِ کرام! اگر سوات کے موجودہ حالات کا تھوڑا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے، تو یہ افسوس ناک حقیقت پوری شدت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ ہمارا معاشرہ آہستہ آہستہ انتشار اور تقسیم در تقسیم کا شکار ہو رہا ہے۔ معمولی نوعیت کے اختلافات کو غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا […]
ماہِ رمضان کی اصل عبادت

رمضان المبارک محض روزے رکھنے اور عبادات بڑھانے کا نام نہیں، بل کہ یہ انسانیت کے درد کو محسوس کرنے اور معاشرے کے کم زور طبقات کے ساتھ عملی ہم دردی کا مہینا ہے۔ یہ وہ مقدس زمانہ ہے، جس میں ایک صاحبِ استطاعت شخص خود بھوک اور پیاس کی کیفیت سے گزرتا ہے، تاکہ […]
سیاست یا سلامتی… خیبر پختونخوا کا المیہ

خیبر پختونخوا ایک بار پھر خون میں نہا گیا۔ پیر کے روز پیش آنے والے المناک واقعات نے 21 گھروں کے چراغ بجھا دیے، جن میں 12 سیکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں، بل کہ وہ انسانی زندگیاں ہیں، جن کے ساتھ خاندانوں کے خواب، امیدیں اور مستقبل وابستہ تھے… […]
ہجرت، شناخت اور جرائم (سوات کا بدلتا منظرنامہ)

سوات کی آبادیاتی ساخت میں گذشتہ دو ڈھائی دہائیوں میں غیر معمولی رفتار سے تبدیل ہوئی ہے۔ یہ تبدیلی محض عددی اضافہ یا کمی تک محدود نہیں، بل کہ اس نے سماجی تنظیم، ثقافتی ہم آہنگی، شہری نظم و نسق اور جرائم کی نوعیت تک کو متاثر کیا ہے۔ ایک طرف وادی کے اندر ماحولیاتی […]