شرمیلا فاروقی کا دعوا اور مولانا کا تاریخی مؤقف

پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں بعض مباحث ایسے ہیں، جو محض وقتی سیاسی شور نہیں ہوتے، بل کہ وہ قوم کے فکری رُخ، نظریاتی سمت اور تہذیبی شناخت کا تعین کرتے ہیں۔ کثرتِ ازدواج سے لے کر کم عمری کی شادی تک، یہ مباحث محض قانون سازی کے سوالات نہیں، بل کہ اُس بنیادی مسئلے […]
طاقت کی پولرائزیشن اور آئینی خلاف ورزیوں کے اثرات

پاکستان کا موجودہ آئین اس مقصد کے تحت تشکیل دیا گیا تھا کہ ریاست کے تمام ستونوں کے درمیان توازن قائم رہے، عوام کے بنیادی حقوق محفوظ ہوں اور اقتدار قانون کے تابع ہو… مگر گذشتہ کئی دہائیوں سے اس آئین کو بار بار معطل، معطل شدہ صورت میں نافذ یا ترامیم کے ذریعے کم […]
27ویں ترمیم، جمہوریت کا نیا امتحان

آئینِ پاکستان میں ترامیم کا سلسلہ ہماری سیاسی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے، جو کبھی بند نہیں ہوا۔ ہر دورِ حکومت میں اقتدار کے ایوانوں میں آئینی تبدیلیوں کی بازگشت سنائی دیتی رہی ہے۔ کبھی طاقت ور طبقے نے اپنی بالادستی کو دوام بخشنے کے لیے آئین میں رد و بدل کیا، تو کبھی […]