طاقت، بیانیے اور سفارت کاری کی آزمایش

جمعہ کے دن جب مَیں یہ سطور لکھ رہا ہوں، تو بہ ظاہر حالات پُرسکون اور معمولاتِ زندگی بہ حال ہیں۔ سرحدی علاقوں میں دونوں جانب پہرہ دار چوکس کھڑے ہیں۔ سرحد کے اُس پار کابل میں بھی دن کا آغاز نسبتاً پُرسکون انداز میں ہوا ہے، اگرچہ رات بھر وہاں پاکستانی طیاروں کی بمباری […]
تیزی سے بدلتا عالمی منظرنامہ

20ویں صدی کے اختتام تک عالمی سیاست ایک نازک مگر قائم توازن کے سہارے کھڑی تھی۔ دو بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے مقابل موجود تھیں، اختلافات شدید تھے، مگر ایک حد بھی موجود تھی۔ اس حد نے دنیا کو مکمل تباہی سے بچائے رکھا۔ پھر وہ مرحلہ آیا، جب ایک طاقت بکھر گئی اور دوسری […]