کبھی خواب نہ دیکھنا (چوبیس ویں قسط)

سابق ریاست میں کوالٹی کنٹرول کا ایک بہت موثر نظام تھا، جس پر اگر حقیقتاً عمل کیا جاتا، تو بڑی کامیابی حاصل ہوتی۔ لیکن کچھ بے پروا عناصر نے اپنے عامیانہ مفادات کے لیے اس ’’سیٹ اَپ‘‘ کو سبوتاژ کیا۔ مثال کے طور پر، ہر تحصیل دار کو تحریری ہدایت دی گئی تھی کہ وہ […]
ایمن اُداسؔ کی کہانی: کچھ اُن کی کچھ میری زبانی

یہ 2002ء کی بات ہے۔ دلہ زاک روڑ پشاور تب اتنا آباد نہیں تھا، مگر فلیٹس کے سلسلے تعمیر ہو رہے تھے۔ روزگار کے سلسلے میں، مَیں بھی پشاور میں مقیم تھا۔ وہ انتہائی کٹھن اور دل برداشتہ دور تھا۔ تنہائی اور بے بسی میں سوات ہی سے میرا ایک ساتھی ’’تلک راج‘‘ میرا فلیٹ […]