مزدور کو اٹھنا ہوگا

مالک سرمایہ دار صرف پیسہ لگاتا ہے اور قدر زائد، فاضل منافع بھی اس کی جیب میں جاتا ہے۔ آرام دہ موٹرکاریں، ہوائی جہاز، بلٹ پروف گاڑیاں، بیسوں کنال زمین، کوٹھیاں، نوکر چاکر، عبادات کیلئے الگ مزین مساجد، سرکاری پروٹوکول، سیکورٹی، سرکاری مراعات، بہترین تعلیم، بہترین طعام، بہترین آرام گاہیں، اکانومی کلاس میں سفر، ٹیکسوں سے چھوٹ وغیرہ سب صرف سرمایہ کیلئے ہے۔ دوسری طرف فقر و فاقے، نیستی، تنگ دستی اور خودکشیاں وغیرہ ہیں۔

مزدورو، اٹھو! اپنا حق چھین لو، کوئی ظالم سامراج آپ کا حق آپ کی جھولی میں نہیں ڈالے گا۔ اس کیلئے جد جہد فرض ہے۔ یہ مانگنے سے نہیں ملے گا۔ اپنی آنے والی نسلوں پر رحم کرنا ہوگا۔ یہ نظام مزدورکے کندھوں پر کھڑا ہے۔ عددی لحاظ سے سرمایہ دار اشرافیہ صرف پانچ فیصد […]