’’ناراضی‘‘ (فارسی، اسمِ مونث) کا املا عام طور پر ’’ناراضگی‘‘ لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔
’’نوراللغات‘‘ کے مطابق دُرست املا ’’ناراضی‘‘ ہے۔ ’’ناراضگی‘‘ کے ذیل میں درج ہے: ’’عام عورتیں ناراضگی بولتی ہیں۔‘‘
’’جہانگیر اُردو لغت (جدید)‘‘ میں ’’ناراضگی‘‘ درج ہے مگر ذیل میں یہ صراحت کی گئی ہے: ’’فصیح: ناراضی۔‘‘
’’فرہنگِ آصفیہ‘‘ اور ’’علمی اُردو لغت (متوسط)‘‘ میں ’’ناراضی‘‘ اور ’’ناراضگی‘‘ دونوں قسم کا املا بغیر کسی صراحت کے درج ہے۔
پروفیسر نذیر احمد تشنہ اس حوالے سے اپنی تالیف ’’نادراتِ اُردو‘‘ (مطبوعہ ’’الفیصل ناشران، لاہور‘‘، سنہ اشاعت 2011ء) کے صفحہ نمبر 280 پر درج کرتے ہیں: ’’ناراضگی لکھنا دُرست نہیں۔ اس طرح حیرانی اور درستی کو بھی حیرانگی اور درستگی لکھنا فصیح نہیں۔‘‘
اس حوالے سے ایک عام سا قاعدہ جو گرامر کی کتابوں میں وضع کیا گیا ہے، کچھ یوں ہے کہ اُردو اور فارسی کے وہ الفاظ جن کے آخر میں ’’ہ‘‘ ہو، تو قاعدے کے مطابق لفظ کو ’’گی‘‘ کے ساتھ بدلا جائے گا۔ مثلاً آوارہ سے آوارگی، روانہ سے روانگی، دیوانہ سے دیوانگی، زندہ سے زندگی وغیرہ۔ اس قاعدے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ’’ناراضی‘‘ پڑھنا اور لکھنا فصیح ہوگا۔