’’برخاست‘‘ (فارسی، اسمِ صفت) کا اِملا عام طور پر ’’برخواست‘‘ لکھا جاتا ہے۔
’’فرہنگِ آصفیہ‘‘، ’’نور اللغات‘‘، ’’جدید اُردو لغت‘‘ اور ’’جہانگیر اُردو لغت (جدید)‘‘ کے مطابق دُرست اِملا ’’برخاست‘‘ ہے نہ کہ ’’برخواست‘‘ جب کہ اس کے معنی ’’بند‘‘، ’’ختم‘‘، ’’ملازمت سے علاحدہ‘‘، ’’برطرف‘‘ اور ’’موقوف‘‘ کے ہیں۔
اُردو کے چند چوٹی کے نشریاتی اداروں نے ’’برخاست‘‘ کی جگہ ’’برخواست‘‘ لکھ کر غلط اِملا رایج کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
صاحبِ آصفیہ نے اسے ’’برخاست ہونا‘‘ اور صاحبِ نور نے باقاعدہ جملۂ معترضہ میں یہ وضاحت کی ہے’’کرنا، ہونا کے ساتھ۔‘‘
صاحبِ نور نے یہ فقرہ بھی درج کیا ہے:’’باورچی کو برخاست کردیا۔‘‘
’’برخاست‘‘ کے حوالے سے ایک اور مستند حوالہ رشید حسن خان کی کتاب ’’اُردو املا‘‘ (مطبوعہ زُبیر بکس، اشاعت 2015ء) میں ہاتھ آتا ہے۔ مذکورہ کتاب کے صفحہ نمبر 272 پر موصوف لکھتے ہیں: ’’درخواست کے قیاس پر ’’برخاست‘‘ کو ’’برخواست‘‘ لکھنا غلط ہے۔ خواستن، جس کے معنی ہیں: چاہنا، اس میں واوِ معدولہ ہے، اور خاستن ایک دوسرا مصدر ہے، جس کے معنی ہیں: اُٹھنا۔ اِسی سے ’’برخاست‘‘ بنا ہے، جیسے: محفل برخاست ہوگئی یا فُلاں شخص کو برخاست کردیا گیا، یعنی نوکری سے الگ کردیا گیا۔‘‘
صاحبِ نور نے سند کے طور پر حضرتِ امیرؔ کا یہ شعر بھی درج کیا ہے:
سمجھے کہ عرضِ حال کرے گا ضرور امیرؔ
دربار اس کے آتے ہی برخاست کردیا