39 total views, 1 views today

’’مسٹنڈا‘‘ (ہندی، اسمِ مذکر) کا اِملا عام طور پر ’’مشٹنڈا‘‘ لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔
’’فرہنگِ آصفیہ‘‘ اور ’’جہانگیر اُردو لغت‘‘ میں ’’مشٹنڈا‘‘ اِملا سرے سے درج ہی نہیں۔ البتہ ’’نوراللغات‘‘ اور ’’علمی اُردو لغت (متوسط) میں ’’مشٹنڈا‘‘ گرچہ درج ہے مگر فوقیت ’’مسٹنڈا‘‘ کو دی گئی ہے۔ مذکورہ تمام لغات میں ’’مسٹنڈا‘‘ کا تلفظ کچھ یوں درج کیا گیا ہے: ’’مُ۔ س۔ ٹَ۔ ن۔ ڈَ۔ ا‘‘ جب کہ اس کے معنی ’’بہت موٹا‘‘، ’’فربہ اندام‘‘ اور’’ہٹا کٹا‘‘ کے ہیں۔
صاحبِ آصفیہ نے اس کو عورتوں کی زبان کا لفظ گردانا ہے اور مونث کے طور پر ’’مسٹنڈی‘‘ درج کیا ہے۔
اس کے علاوہ سب سے معتبر حوالہ رشید حسن خان کی کتاب ’’اُردو املا‘‘ (مطبوعہ زُبیر بکس، اشاعت 2015ء) ہے جو مذکورہ کتاب کے صفحہ نمبر 97 پر دُرست اِملا ’’مسٹنڈا‘‘ رقم کرتے ہیں نہ کہ ’’مشٹنڈا‘‘، اس لیے ہمیں بھی اس لفظ کا اِملا رقم کرتے ہوئے ’’مسٹنڈا‘‘ ہی کو ترجیح دینی چاہیے۔
اس حوالے سے محمد احمد کی ایک مِزاحیہ نظم کے یہ دو اشعار ملاحظہ ہوں:
اُڑاتے روز تھے انڈے پراٹھے
پر اب کھاتے ہیں ہر سنڈے پراٹھے
یہاں ہم کھا رہے ہیں چائے روٹی
وہاں کھاتے ہیں مُسٹنڈے پراٹھے