’’بُرقع‘‘ (عربی، اسمِ مذکر) کا املا عام طور پر ’’بُرقعہ‘‘ لکھا جاتا ہے۔
’’فرہنگِ آصفیہ‘‘، ’’نوراللغات‘‘، ’’علمی اُردو لغت (متوسط)‘‘ اور ’’جدید اُردو لغت‘‘ کے مطابق دُرست املا ’’بُرقع‘‘ ہے۔
قیوم ملک نے اپنی تالیف ’’اُردو میں عربی الفاظ کا تلفظ‘‘ (مطبوعہ نیشنل بُک فاؤنڈیشن، اشاعتِ پنجم، نومبر 2019ء) کے صفحہ نمبر 137 پر باقاعدہ طور پر ان الفاظ میں صراحت کی ہے: ’’اُردو میں بُرقع، بُرقعہ غلط ہے۔‘‘
’’بُرقع‘‘ کے معنی ’’نقاب‘‘، ’’لباس‘‘ اور ’’پوشاک‘‘ کے ہیں۔
عرش گیاوی کی ایک غزل کا مطلع اس حوالے سے سند کے طور پر درج کیا جاتا ہے:
نہ بُرقع رُخ پہ ہوگا اور نہ پردہ درمیاں ہوگا
قیامت میں یہ اے پردہ نشیں! پردہ کہاں ہوگا