’’گزارش‘‘ (فارسی، اسمِ مونث) کا املا عام طور پر ’’گذارش‘‘ لکھا جاتا ہے۔
’’فرہنگِ آصفیہ‘‘، ’’نوراللغات‘‘، ’’جدید اُردو لغت‘‘ اور ’’علمی اُردو لغت (متوسط)‘‘ کے مطابق دُرست املا ’’گزارش‘‘ ہے نہ کہ ’’گذارش‘‘ جب کہ اس کے معنی ’’غرض‘‘، ’’بیان‘‘، ’’درخواست‘‘ وغیرہ کے ہیں۔
صاحبِ نور نے باقاعدہ طور پر ان الفاظ میں صراحت درج کی ہے: ’’گزارش کا املا ذال سے غلط ہے۔‘‘
رشید حسن خان نے ’’اُردو املا‘‘ (مطبوعہ ’’زبیر بُکس‘‘، سنہ اشاعت 2015ء) کے صفحہ نمبر 156 پر اس حوالے سے تفصیلاً بات کی ہے، ملاحظہ ہو: ’’پہلا لفظ ہے: گزارش، یہ لفظ درخواستوں اور خطوں میں اکثر لکھا جاتا ہے۔ اس کے معنی ہیں: عرض کرنا، پیش کرنا۔ اگر اس کو ’’گذارش‘‘ (ذال سے) لکھا جائے گا، تو یہ گذاشتن سے مشتق قرار پائے گا اور اس کے معنی ہوں گے: چھوڑنا۔ اس صورت میں یہ بالکل مختلف لفظ ہوجائے گا۔ ‘‘
رشید حسن خان ثبوت کے طور پر چند اشعار پیش کرتے ہیں، یہاں صرف غالبؔ کے اک شعر پر اکتفا کیا جا رہا ہے:
منظور ہے گزارشِ احوالِ واقعی
اپنا بیانِ حسنِ طبیعت نہیں مجھے
نوراللغات میں بھی سند کے طور پر حضرتِ منیرؔ کا یہ شعر درج ملتا ہے کہ
گزارش ہے منیرِؔ مدح خواں کی
گزارش ہے فقیرِ خستہ جاں کی