پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسدادِ تمباکو نوشی کا عالمی دن منانے کا مقصد انسانی صحت کو لاحق خطرات اور اس کے مضر اثرات کے متعلق عوام کو آگاہی فراہم کرنا ہے۔
31 مئی کے دن دنیا بھر کی طرح پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں بھی محکمۂ صحت اور مختلف سماجی تنظیموں کے زیرِ اہتمام تمباکو نوشی کے خلاف سیمینار، واک اور مختلف تقاریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں مقررین تمباکو نوشی کی تباہ کاریوں سے عوام کو آگاہ کرتے رہے۔
عالمی ماہرینِ صحت کے مطابق تمباکو نوشی دنیا بھر میں ہائی بلڈ پریشر کے بعد اموات کی دوسری بڑی وجہ ہے۔ آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ دنیا بھر کی ایک ارب سے زاید آبادی سگریٹ اور تمباکو نوشی کی لت میں مبتلا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سگریٹ اور تمباکو نوشی کے باعث ہر چھے سیکنڈ کے بعد ایک شخص موت کو گلے لگا رہا ہے۔ ا س طرح دنیا بھر میں ہر سال 60 لاکھ افراد تمباکو نوشی کے باعث موت کے منھ میں چلے جاتے ہیں…… جن میں سے تقریباً چھے لاکھ سے زیادہ افراد ایسے ہوتے ہیں جو خود تمباکو نوشی نہیں کرتے بلکہ تمباکو نوشی کے ماحول میں موجود ہونے کے سبب اس کے خطرناک دھوئیں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ پاکستان، بھارت، فلپائن، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں سگریٹ اور تمباکو نوش لوگوں کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس اضافے کا بڑا سبب ان ممالک کا نوجوان طبقہ ہے۔
سگریٹ، پائپ، سگار، حقہ، شیشہ اور تمباکو کو کھانے والا استعمال جیسا کہ پان، چھالیہ، گٹکا وغیرہ اور تمباکو سونگھنا……تمام تر عادات انتہائی خطرناک ہیں۔ سگریٹ میں موجود نکوٹین انسان کے اعصاب پر اس طرح سوار ہوتی ہے کہ وہ سگریٹ پیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ تمباکو میں موجود نکوٹین دماغ میں موجود کیمیکل مثلاً ڈوپامائن اور اینڈروفائن کی سطح بڑھا دیتا ہے…… جس کی وجہ سے نشہ کی عادت پڑتی ہے۔ یہ کیمیکل خوشی یا مستی کی حسیات کو بیدار کردیتا ہے جس سے جسم کو تمباکو مصنوعات کی طلب ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ ان عادات کو ترک کرنا کسی بھی فرد کے لیے بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ کیوں کہ جسم میں نکوٹین کی کمی سے طبیعت میں پریشانی، اضطراب، بے چینی اور ڈپریشن کے ساتھ ذہنی توجہ کا فقدان رہنے لگتا ہے۔
تمباکو نوشی بہت آہستگی کے ساتھ جسم کے مختلف اعضا کو نقصان پہنچانا شروع کرتی ہے اور متاثرہ افراد کو کئی سالوں تک اپنے اندر ہونے والے نقصانات کا علم ہی نہیں ہوپاتا…… اور جب یہ نقصانات واضح ہونا شروع ہوتے ہیں، تب تک جسم تمباکو کے نشے کا مکمل طور پر عادی ہوچکا ہوتا ہے اور اس سے جان چھڑانا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق تمباکو اور اس کے دھوئیں میں تقریباً چار ہزار کیمیکل موجود ہوتے ہیں جن میں اڑھائی سو کے قریب انسانی صحت کے لیے نہایت نقصان دہ پائے گئے ہیں اور پچاس سے زاید ایسے کیمیکل موجود ہوتے ہیں جو کینسر کا باعث بن سکتے ہیں۔
سگریٹ نوش سانس کی بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے،جن میں برونکائٹس (COPD) اور ایفی زیما (Emphysema) قابلِ ذکر ہیں۔ ایفی زیما میں پھیپھڑوں میں ہوا کی جگہیں بڑھ جاتی ہیں، اس سے سانس لینے میں شدید دشواری اور انفکشن یعنی نمونیا ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ اس حالت میں پھیپھڑوں کے ٹشو ہمیشہ کے لیے ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں جس سے مریض کو شدید کھانسی اور دمہ کی علامات پیدا ہوجاتی ہیں۔
تمباکو نوشی کی وجہ سے دل کے دورہ (ہارٹ اٹیک) ہونے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ عام افراد کی نسبت سگریٹ نوش کو دل کی بیماری ہونے کا خطرہ دگنا ہوتا ہے۔
تمباکو کا دھواں خون کی شریانوں کو سخت کرنے کا باعث بنتا ہے۔ اس طرح دل کے پٹھوں کو خون کی فراہمی رُک جاتی ہے…… جو ’’ہارٹ اٹیک‘‘ کا باعث بنتا ہے۔ سگریٹ نوشی سے دماغ کو خون کی فراہمی بھی کم ہوجاتی ہے اور ہیمرج سٹروک (Stroke Hemorrhagic) جس میں دماغ میں موجود خون کی شریانیں پھٹ جاتی ہیں…… کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔
تمباکو نوشی کا سب سے زیادہ اور خطرناک نقصان پھیپھڑوں کو ہوتا ہے۔ پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا تقریباً 90 فی صد لوگ موجودہ یا سابقہ تمباکو نوش ہوتے ہیں۔ آپ جتنے زیادہ سگریٹ پیتے ہیں اتنا ہی پھیپھڑوں کا کینسر ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ سگریٹ پینے والی خواتین میں بھی بریسٹ کینسر ہونے کا احتمال رہتا ہے۔ اسی طرح سگریٹ اور تمباکو نوشی منھ، گلا، خوراک کی نالی کے کینسر، معدہ، جگر، مثانہ، لبلبہ اور گردے کے کینسرکا باعث بنتا ہے۔ سگریٹ نوش کی طرح اس کے گھر اور ساتھ کام کرنے والوں میں بھی سگریٹ کے دھوئیں کی وجہ سے ان بیماریوں کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔
اگر سگریٹ نوش کی بات کی جائے، تو یہ فقط اپنے لیے خطرہ نہیں بنتا بلکہ اس کی وجہ سے دوسروں کی صحت کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔
پاکستان میں تمباکو نوشی کے عفریت سے نمٹنے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ حکومت کی جانب سے 18 سال سے سرکاری دفاتر اور عوامی مقامات پر تمباکو نوشی پر پابندی کا قانون نافذ ہے…… اور حکومت نے انسدادِ تمباکو نوشی کے لیے سگریٹ کے پیکٹ پر رنگین تصویری تنبیہی پیغامات بھی پرنٹ کروا دیے ہیں…… لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے۔ انسدادِ تمباکو نوشی کے لیے مزید سخت اقدامات اور قوانین پر سنجیدگی سے عمل درآمد کی ضرورت ہے…… جب کہ مضمرات سے آگاہی کے باوجود سگریٹ نوشی کرنے والوں کی بڑی تعداد پڑھے لکھے طبقے مثلاً وکلا، ڈاکٹر، صحافی، پولیس افسران اور انجینئر جیسے پیشوں سے وابستہ افراد کی ہے…… جو مزید افراد کو سگریٹ نوش بنانے کا بھی ذریعہ بن رہے ہیں۔
تمباکو سے بننے والا سگریٹ انسان کے اپنے ہاتھوں بنا ایسا زہرِ قاتل ہے جو انسان کی تمام ترقوتوں اور صلاحیتوں کے پرخچے اُڑا دیتا ہے…… جب کہ انسان کس قدر قیمتی ہے، اس کی قدر و قیمت کا خود اسے اندازہ ہی نہیں۔
قارئین! تمباکو نوشی کے خلاف عالمی دن کے موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم ہمیشہ تمباکو نوشی کی پیشکش سے انکار کریں گے، اور یہ افراد تمباکو نوشی کو عادت کو ترک کرنے کی سنجیدہ کوششیں کریں گے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔