43 total views, 3 views today

کرۂ ارض پر بسنے والوں کے لیے آکسیجن کے بعد پانی قدرتِ الٰہی کی انمول نعمت ہے جس کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں۔ یوں تو اس خطۂ ارض کا تین چوتھائی حصہ پانی پر مشتمل ہے…… لیکن صاف پانی کے بے جا اصراف کی وجہ سے آج تمام لوگوں تک معیاری پانی کا پہنچنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ ڈھیر سارے لوگ صاف پانی کی عظیم نعمت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے ہسپتالوں میں غیر معیاری اور گندے پانی کے استعمال کے سبب بیمار ہونے والے مریضوں کی کمی نہیں۔
پانی کی خصوصی اہمیت کے پیشِ نظر ہر سال 22مارچ کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں پانی کا عالمی دن (World Water Day) منایا جاتا ہے، جس کا آغاز 1992 ء میں اقوام متحدہ کی منعقدہ کانفرنس کی سفارش پر ہوا تھا۔ اس دن کے منانے کا مقصد پانی کی انسانی زندگی اور صحت کے لیے اہمیت اور اِفادیت کے بارے میں آگاہی کے ساتھ ساتھ پانی کے غیر ضروری استعمال سے اجتناب اور اسے محفوظ بنانے کی ضرورت پر زور دینا ہے۔ اسی مناسبت سے سماجی و فلاحی تنظیموں کے زیرِ اہتمام مختلف سمینار اور آگاہی واک کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
پانی کی مختلف صورتیں ہیں، بارانِ رحمت کی صورت میں بادلوں کے برسنے سے جہاں زمینیں سیراب ہوتی ہیں، وہاں یہ انسانی پیاس بجھانے کے بھی کام آتا ہے۔ اسی طرح سرد علاقوں میں جب گرمی کی شدت سے گلیشیر پگھلتے ہیں اور وہ پانی بلندی سے میدانی علاقوں کی طرف بہتا آتا ہے، تو اس سے بھی اِستفادہ کیا جاتا ہے۔
قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشادِ باری تعالا ہے: ’’ہم نے ہر چیز پانی سے پیدا کی ہے۔‘‘ بہترین پانی بے رنگ و بے بوہوتا ہے۔ پانی کی مختلف شکلوں کو مختلف نام دیے جاتے ہیں۔ پانی اوپر اٹھے تو بھاپ، نیچے گرے تو بارش، جم کر گرے تو اولا، گر کر جمے تو برف، پھول پر گرے تو شبنم، پھول سے نکلے تو عرق، آنکھ سے نکلے تو آنسو، بہے تو دریا، قدم اسماعیل علیہ السلام سے نکلے تو زم زم…… اور رسولِ پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی انگلی مبارک سے نکلے، تو آبِ کوثر کہلاتا ہے۔
پانی نہ صرف انسانی حیات بلکہ جانور، پودے، پھل پھول، فصلوں اور زمینوں کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے…… پانی کی بدولت جسم کے ان گنت نظام کام کرتے ہیں۔ غذا کے بغیر انسان کئی ہفتے زندہ رہ سکتا ہے…… مگر پانی کے بغیر زیادہ عرصے زندہ نہیں رہا جاسکتا۔
ماہرینِ صحت کے مطابق ایک صحت مند انسان کو روزانہ آٹھ سے د س گلاس پانی ضرور پینا چاہیے۔ پانی کاشت کاری کے لیے بھی بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے…… لیکن ہمارے حکم رانوں کی عدم توجہی کے باعث ملک میں بسنے والوں کو کہیں پینے کا پانی تک میسر نہیں…… اور کہیں قوم کو سیلاب کا دکھ جھیلنا پڑتا ہے۔ ماضی میں پانی کی فراوانی کی وجہ سے ہی پانچ دریاؤں کی دھرتی پنجاب کو خصوصی اہمیت حاصل تھی…… مگر بد قسمتی سے دریائے راوی، ستلج اوربیاس تو بھارت نے پہلے خشک کردیے…… اور اب چناب، جہلم اور سندھ کے پانی کے درپے ہے…… جس کا اعلان بھارتی وزیراعظم کئی بار کرچکے ہیں کہ ’’پاکستان پانی کی بوند بوند کو ترسے گا۔‘‘
اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ پنجاب کا 75 فیصد علاقہ دریائی پانی میسر نہ ہونے کی بنا پر اپنی ذرخیزی تیزی سے کھو رہا ہے…… جب کہ پاکستانی حکم ران کبھی امریکہ کی طرف، تو کبھی ورلڈ بنک کی طرف دیکھتے نظر آتے ہیں…… جب کہ بھارت دریائے چناب، جہلم، نیلم اور سندھ پر بھی ڈیموں کی تعمیر شروع کرچکا ہے۔
جیسے جیسے دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے، پانی کی اہمیت بھی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں پانی کو ذخیرہ کرنے کے اقدامات بھی ہوتے چلے آ رہے ہیں…… مگر کالا باغ ڈیم جس سے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی جڑی ہوئی ہے، بدقسمتی سے اس منصوبے کو عاقبت نااندیشی اور موہوم خدشات کے باعث متنازعہ اور پیچیدہ بنا دیا گیاہے۔
پانی کے محاذ پر ہماری بے پروائی اور خاموشی مجرمانہ حد تک پہنچ چکی ہے۔ اگر یہ کہا جائے، تو غلط نہ ہوگا کہ صرف پنجاب ہی نہیں صوبہ سندھ کا 50 ہزار مربع کلومیٹر علاقہ خشک سالی کا شکار ہوچکا ہے۔
مون سون کے موسم میں جب بارشیں ہوتی ہیں، تو وہ سیلاب کی شکل اختیار کرکے کھڑی فصلوں کو بہاکر لے جاتی ہیں۔ موسمِ برسات میں لاکھوں کیوسک پانی سمندر میں گر کر ضایع ہوجاتا ہے…… جس کی پاکستانی روپوں میں قیمت ایک کھرب سے زاید بنتی ہے۔ دریائے ستلج جس میں پانی صرف موسمِ برسات میں آتا ہے…… اس دریا کے صحرائی علاقوں میں اگر تین چار ڈیم تعمیر کرلیے جائیں، توبرسات کا پانی ان ڈیموں میں محفوظ کرکے اس پانی کو ٹریٹ منٹ پلانٹ کے ذریعے مقامی آبادی کے لیے پینے کے قابل بنایاجاسکتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ کالا باغ ڈیم سمیت دیگر بڑے ڈیم بنانے کا آغاز کردینا چاہیے۔ بطورِ خاص ان علاقوں میں جہاں موسم برسات میں شدید ترین سیلاب آتا ہے…… اور بستیاں اور کھیتوں میں کھڑی فصلیں برباد ہوجاتی ہیں۔
………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔