65 total views, 1 views today

وکی پیڈیا کے مطابق ملکہ پکھراج (Malika Pukhraj) مقبول غزل اور لوک گلوکارہ 4 فروری 2004ء کو لاہور میں انتقال کرگئیں۔
1912ء کو ریاست جموں و کشمیر میں پیشہ ور موسیقاروں کے گلوکار گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ عام طور پر ’’ملکہ‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ حفیظ جالندھری کی نظم’’ ابھی تو میں جوان ہوں‘‘ کی پیش کش کے لیے مقبول تھیں، جسے نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی بے حد سراہا گیا۔
اکھنور کے علاقے میں ایک روحانی دان، بابا روتی رام ’’مجذوب‘‘ نے پیدائش کے وقت نام ’’ملیکا‘‘ رکھا۔ ان کی خالہ نے خود پکھراج (پیلا نیلم) رکھا، جو خود ایک پیشہ ور گلوکارہ اور ناچنے والی تھیں۔ ملکہ پکھراج نے اپنی روایتی موسیقی کی تربیت معروف گلوکار استاد بڈے غلام علی خان کے والد استاد علی بخش قصوری سے حاصل کی۔
1980ء میں صدرِ پاکستان کی طرف سے تمغائے حسن کارکردگی ایوارڈ حاصل کیا۔ 1977ء میں، جب آل انڈیا ریڈیو، جس کے لیے انہوں نے 1947ء میں تقسیمِ ہند تک گانا گایا تھا، یہ ریڈیو اپنی گولڈن جوبلی منا رہی تھی، تو ملکہ پکھراج کو ہندوستان بلایا گیا اور ’’لیجنڈ آف وائس‘‘ ایوارڈ سے نوازا گیا۔