95 total views, 1 views today

وکی پیڈیا کے مطابق عزت لکھنوی (Izzat Lakhnavi) پاکستان کے نام ور سوز خواں، نوحہ خواں اور شاعر 16جنوری 1981ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔
1932ء کو لکھنؤ، محلہ اشرف آباد (متحدہ ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ اصل نام مرزا آغا محمد عزت الزماں تھا۔ ابتدائی تعلیم مدرسۂ حسینیہ، امام باڑہ میاں داراب علی خان مرحوم، مولوی گنج لکھنؤ میں حاصل کی۔ اس کے بعد مدرسہ سلطان المدارس نزد میڈیکل کالج لکھنؤ میں بھی زیرِ تعلیم رہے۔ شیعہ ڈگری کالج ڈالی گنج لکھنؤکے طالب علم رہے۔ قانون کی ڈگری لکھنؤ سے حاصل کی۔ وکالت کا آغاز بذریعہ جگت بہادر، سریواستو ایڈووکیٹ، مولوی گنج، لکھنؤ کے ساتھ کیا۔ 15 اگست 1958ء کو ترکِ وطن کیا اور کراچی پہنچے۔ کراچی کے عدالتی ماحول سے بد دل ہو کر بینک افسری کا امتحان دیا اور حبیب بنک کراچی سے منسلک ہوگئے۔ 1959ء میں لکھنؤ جا کر اپنے کنبے کو بھی ہمراہ لے آئے۔ 1963ء میں حبیب بنک کی ملازمت ترک کر کے یونائٹیڈ بینک میں ملازمت اختیار کی، لیکن جلد ہی پریمیر بنک کھلنے کا اعلان ہوا اور عزت لکھنوی اس میں ایک اعلا عہدے پر فائز ہوگئے۔1965ء میں سٹینڈرڈ بینک کا قیام عمل میں آیا اور وہاں بحیثیتِ منیجر خدمات انجام دیں۔ تا دمِ مرگ اسی سے وابستہ رہے۔
طالب علمی کے زمانے میں شیعہ کالج لکھنؤ میں کوئی بھی تقریب ہوتی، تو اپنی آواز میں تلاوتِ سورۂ رحمان اور سورہ و الشمس سے پروگرام کا آغاز کیا کرتے۔ جو راجہ صاحب محمود آباد اور نواب رام پور کو بے حد پسند تھی۔
عزت لکھنوی دورِ طالب علمی میں یونین کے سیکرٹری اور میگزین محراب کے ایڈیٹر بھی رہے۔کراچی ٹی وی اسٹیشن قایم ہوا، تو اس وقت سے لے کر تادمِ مرگ محرم کے شامِ غریباں کی نشریات میں ان کا پڑھا ہوا نوحہ نشر کیا جاتا رہا۔ ان کے مقبول نوحوں میں ان کا اپنا لکھا ہوا نوحہ ’’گونج رہی ہے یہ صدا یاحسین ‘‘ آج بھی محافل و مجالس میں پڑھا جاتا ہے۔