72 total views, 1 views today

وکی پیڈیا کے مطابق اے آر رحمان (A. R. Rahman) ہندوستان کے معروف موسیقار اور گلوکار 6 جنوری 1966ء کو چنائے میں پیدا ہوئے۔
پورا نام ’’اللہ رکھا رحمان‘‘ ہے۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے ان کا نام ’’دلیپ کمار‘‘ تھا۔ گھر کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کم عمری ہی میں کام کرنا شروع کر دیا۔ ’’کی بورڈ پلیئر‘‘ بنے…… لیکن انہیں پتا تھا کہ ان کی منزل یہ نہیں۔ اس لیے پہلے پیانو اور پھرگٹار بجانا سیکھا۔ اس دوران میں چنائے کے چند نوجوانوں کے ساتھ مل کر اپنا ایک مقامی بینڈ ’’نمیسیس ایونیو‘‘ بنایا۔
ان کی زندگی کا سفر آسان نہیں تھا۔ گھر کی ذمہ داری اور ساتھ میں موسیقی سیکھنے کا جنون۔ انہیں تیلگو میوزک ڈائریکٹر کے ساتھ ’’ورلڈ ٹور‘‘ پر جانے کا موقع ملا۔ یہاں ان کا فن دنیا کے سامنے آیا اور پھر انہیں آکسفورڈ کی ٹرینیٹی کالج کی سکالر شپ ملی جس نے رحمان کی موسیقی کی تشنگی کو پورا کرنے کا بھر پور موقع فراہم کیا اور انہوں نے موسیقی میں گریجویشن کیا۔
اے آر رحمان نے بھی دیگر موسیقاروں کی طرح اشتہارات کے لیے موسیقی سے شروعات کی۔ یہ دور اُن کے لیے جدوجہد کا دور تھا۔ جنوبی ہند سے تعلق رکھنے والے فلمساز ’’منی رتنم‘‘ نے ان کے ہنر کو پہچانا اور اپنی فلم ’’روجا‘‘ میں رحمان کو موسیقی دینے کا موقع دیا۔ رحمان کی موسیقی نے پہلی ہی فلم میں وہ جادو دکھایا کہ انہیں اس فلم کے لیے نیشنل ایوارڈ ملا۔اس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ بالی وڈ فلموں کی لائن لگ گئی لیکن ہر فلم میں کام کرنا منظور نہیں کیا۔ ان کی فلم ’’دل سے‘ ‘ کے گیتوں نے ہنگامہ مچا دیا اور گلزار کے ساتھ جوڑی جم گئی۔ ’’رنگیلا‘‘، ’’تال‘‘، ’’سودیس‘‘، ’’رنگ دے بسنتی‘‘، ’’گرو‘‘ اور ’’جودھا اکبر‘‘ وہ چند فلمیں ہیں جن کی موسیقی نے انہیں بالی وڈ میں بلندیوں پر پہنچا دیا۔ صرف بالی وڈ میں موسیقی دینے پر اکتفا نہیں کیا۔ ہالی وڈ فلم ’’لارڈز آف دی رنگز‘‘ اور پھر براڈ وے سٹیج ڈراما ’’بامبے ڈریمز‘‘ کا میوزک دیا۔ سنہ 2005ء میں اپنا جدید آلات سے لیس سٹوڈیو بنایا جو اس وقت ایشیا کا سب سے بڑا سٹوڈیو مانا جاتا ہے۔
’’بافٹا‘‘، ’’گولڈن گلوب‘‘، ’’سیٹیلائٹ‘‘ اور ’’کرٹکس چوائس‘‘ ایوارڈز مل چکے ہیں جب کہ ملکی سطح پر انہیں چار نیشنل ایوارڈز اور سات فلم فیئر ایوارڈز ملے ہیں۔ تامل فلموں میں بھی اے آر رحمان کی موسیقی بہت مقبول ہے۔ اس انڈسٹری نے انہیں پورے 12 ایوارڈ دیے۔ 2009ء میں ان کو ’’سلم ڈاگ‘‘ فلم کے لیے بہترین موسیقی دینے پر اکیڈیمی ایوارڈز یا آسکر سے نوازا گیا۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی موسیقار تھے ۔