اسلام کا محترم و مکرم مہینا یعنی ’’رمضان‘‘ تقریباً آدھا گزر چکا ہے اور آدھا باقی ہے۔ عمومی طور پر رمضان کا جو دینی نظریہ ہے، وہ یہ ہے کہ اس ماہِ مقدس میں ثواب کے کاموں کا اجر کئی درجہ زیادہ ہوتا ہے۔ خدا کی رحمت اس ماہ میں سب سے زیادہ جوش میں ہوتی ہے۔ یہ مہینا ایک مسلمان کو اپنے گناہ بخشوانے کا مکمل موقع دیتا ہے…… لیکن اس کے ساتھ یہ بھی تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اس ماہ میں کیے گئے گناہ بھی زیادہ عذاب کا موجب بن سکتے ہیں۔
سید فیاض حسین گیلانی کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/fayaz/
دنیا بھر میں بہ ہرحال رمضان کے مہینے کا ایک خاص احترام کیا جاتا ہے اور اس مہینے میں قربِ خداوندی تو ہے ہی، لیکن انسانی حقوق کے حوالے سے بہت حساسیت پائی جاتی ہے۔ عرب ملک یا اسلامی دنیا تو ایک طرف، مغرب کے بیشتر وہ ممالک کہ جہاں اکثریت یا تو عیسائی مذہب ماننے والوں کی ہے، یا پھر لادین و ملحد نظریات کے حمایتی ہیں…… وہاں بھی احترامِ رمضان کا خیال رکھا جاتا ہے۔ بہت سے مغربی ممالک میں خاص کر اشیائے خور و نوش کے حوالے سے خاص سہولت دی جاتی ہے۔ مثلاً: آج کل سوشل میڈیا پر اٹلی اور برطانیہ کی کچھ تجارتی کمپنیوں اور دُکانوں کی تصاویر وائرل ہیں کہ جہاں قیمتوں کو نصف کیا گیا ہے۔ اسی طرح برسبین آسٹریلیا کا ایک سٹور ہے، جہاں بہت واضح الفاظ میں تحریر کیا گیا ہے کہ ماہِ رمضان میں مسلم کمیونٹی کے لیے تمام اجزا پر خصوصی رعایت دی جائے گی۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اخلاقی رویے بھی رمضان کی برکات میں سے ہیں، لیکن پھر جب ہم پاکستان کو دیکھتے ہیں، تو ہماری دینی غیرت شرمندہ ہوتی ہے۔ ہمارا انسانی وقار جعلی محسوس ہوتا ہے اور سچ یہ ہے کہ خود کو مسلمان کہلوانے میں شرمندگی سی محسوس ہوتی ہے۔
یہاں ہم حکومتی اقدامات یا ریاستی پالیسیوں کی بات نہیں کرتے، بلکہ عام عوام کے مجموعی رویے کی بات کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اس ماہِ مقدس میں ہمارا ایک عام پولیس مین ہو، یا عدالت کا ریڈر، انکم ٹیکس کلرک ہو، واپڈا کا لائن مین ہو یا پھر ضلعی افسر…… بجائے اس ماہ میں رشوت سے توبہ کرکے خدا سے معافی اور مستقبل میں بہتر کردار کی توفیق مانگے، وہ اِس ماہِ مقدس میں رشوت کا ریٹ یہ کَہ کر بڑھا دیتا ہے کہ رمضان میں خرچہ بھی زیادہ ہے اور اُوپر کا تقاضا بھی زیادہ ہے۔ اس طرح رمضان میں بجائے اپنا کام دل جمعی سے اور دیانت داری سے کیا جائے، عام عوام کے لیے تو اُن دفاتر میں کوئی ریلیف ہی نہیں۔ ہر شخص روزہ ہونے کا بہانا کر کے عوام کو خجل خوار کیے جا رہا ہے۔
اسی طرح رمضان میں سب سے بڑا ظلم ہمارا تاجر طبقہ کرتا ہے۔ دنیا بھر میں رمضان کا مطلب دنیا لٹا کر یعنی سخاوت کرکے آخرت کا توشہ جمع کرنا ہوتا ہے، لیکن پاکستان کے تاجر جیتے رہیں کہ جہاں رمضان کے ماہ کو ’’سیزن‘‘ کہا جاتا ہے، اور ہمارے تاجر اپنی آخرت گنوا کر دنیا کو سنوارنے کی شاید ناکام کوشش کرتے ہیں۔
دیگر متعلقہ مضامین: 
رمضان المبارک اور مسلمان تاجر 
رمضان، رحمتوں اور برکتوں کا مہینا  
رمضان کا عشرۂ مغفرت  
رمضان میں صحت کے لیے یہ تباہ کن عادت جان لیں 
مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ ہم لوگ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے بعد کس طرح اور کس منھ سے پنج وقتہ نماز کے لیے مسجد پہنچ جاتے ہیں؟
مَیں نے ایک دفعہ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک تحریر میں پڑھا تھا کہ تمام عبادات حقوق اﷲ سے منسوب ہیں، اور خدا کو بہ ذاتِ خود تو اُن عبادات کی قطعی کوئی ضرورت نہیں، بلکہ یہ تمام عبادات خالصتاً اس وجہ سے ہیں کہ ایک انسان کے اندر تقوا اور پرہیز گاری پیدا ہوجائے۔ اس کے اخلاقی رویوں میں مثبت تبدیلی ہو۔
اس حوالے سے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک بہت دل چسپ مثال پیش کی۔ مولانا کہتے ہیں: ’’مثال کے طور پر آپ کا ارادہ راولپنڈی سے لاہور جانے کا ہے۔ اس کے لیے یقینا آپ کو ایک گاڑی، ایک ڈرائیور، تیل، پٹرول اور پانی کی ضرورت ہوگی۔ آپ کو زادِ راہ کے لیے کچھ اضافی چیزوں کی ضرورت ہوگی…… لیکن آپ کا اصل مقصد راولپنڈی سے لاہور جانا ہے۔ اگر آپ گاڑی، پٹرول، ڈرائیور مطلب ہر چیز کا بندوبست کرلیتے ہیں اور بستر سے اُٹھتے ہی نہیں، تو مطلب آپ کا مقصد فوت ہوگیا اور گاڑی ڈرائیور وغیرہ کا اہتمام بے فائدہ رہا۔‘‘
مولانا آگے فرماتے ہیں کہ جو فرض یا نفلی عبادات ہیں، وہ بہ ذاتِ خود مقصد نہیں، بلکہ مقاصد کے حصول کے لیے مددگاری سامان ہیں…… اور اسی وجہ سے جب کعبہ تبدیل ہوا اور مدینہ کے نو مسلم آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سوالات کرتے تھے اس بارے، تو قرآن نے کہا کہ اہم یہ نہیں کہ تم اپنا منھ مشرق کی طرف کرتے ہو یا مغرب کی طرف…… بلکہ اہم یہ ہے کہ تمھارے اندر تقوا اور پرہیز گاری پیدا ہو جائے…… لیکن پاکستان کی حالت یہ ہے کہ رمضان سے دو دن قبل کیلا 100 روپیا درجن تھا، جب کہ رمضان میں اچانک 300 روپیا ہوگیا۔ سیب کی قیمت دُگنی بڑھ گئی۔ چنا جو رمضان میں بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے، اُس کی قیمت 3 گنا بڑھ گئی۔ اسی طرح دوسری اجناس آٹا، چاول، دالیں اور سبزیوں کو بھی پر لگ گئے۔ اب دُکان دار سے شکوہ شکایت کرو، تو وہ الزام ہول سیلر پر ڈالتا ہے، ہول سیلر آڑھتی پر، آڑھتی زمین دار یا درآمد کندہ پر، و علیٰ ہذا القیاس…… لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم ریڑھی والے یا دُکان دار سے لے کر درآمد کندہ تک ہر شخص اس مکروہ اور انسانیت دشمن حرکت میں ملوث ہوتا ہے۔
ہم نے تو کتنے ہی دُکان داروں سے یہ سنا ہے کہ ایک رمضان صحیح لگ جائے، تو پورے سال کا خرچہ نکل آتا ہے۔
ایک اور برائی جو عمومی طور پر رمضان میں نظر آتی ہے، وہ بے صبری اور عدم برداشت ہے۔ روزہ بنیادی طورپر صبر کا درس دیتا ہے، لیکن پاکستان میں یہ دیکھا گیا ہے کہ ہمارے اکثر لوگ روزہ رکھ کر اس طرح کا رویہ اختیار کرتے ہیں کہ جیسے کسی پر احسان کر رہے ہوں۔ مثلاً: اگر کوئی صاحب کسی دفتر میں کام کرتے ہیں، تو دوپہر کی شروعات کے ساتھ اُن کے نیچے کام کرنے والا عملہ انتہائی خوف سے دُبک کر بیٹھا ہوتا ہے۔ اُن کو معلوم ہوتا ہے کہ اگر کچھ معمولی سا بھی غلط کام کیا، تو صاحب کی طرف سے جھاڑ ملے گی۔ پھر اُس دفتر میں آنے والے زائرین اکثر بِنا کام ہوئے واپس جاتے دیکھے گئے۔ کیوں کہ صاحب کا موڈ روزہ کی وجہ سے خراب خراب سا رہتا ہے۔ سو عوام کے کام ہونا ممکن نہیں ہوتا۔ اُس کے بعد جب حضرت صاحب گھر جاتے ہیں، تو خاندان، بیوی بچوں حتی کہ ماں تک کی بھی خیر نہیں۔ تمام خاندان کے افراد سہمے سہمے بیٹھے ہوں گے۔ کیوں کہ صاحب روزہ دار ہیں۔ حالاں کہ ہم بہت دیانت داری سے یہ سمجھتے ہیں کہ یہ رویہ بنیادی طور پر ہی روزہ کے مقصد اور تعلیمات کے خلاف ہے اور اس قسم کا رویہ رکھنے والے خواتین حضرات روزہ نہ رکھیں، تو شاید زیادہ بہتر ہو۔
مزید رمضان میں ایک اور برائی بہت زیادہ ہوتی ہے پاکستان میں، اور وہ ہے خود نمائی اور دوسروں کو متاثر کرنے کی عادت۔ مثلاً: بہت سے ایسے افراد روزانہ کی بنیاد پر ہم دیکھتے ہیں کہ جو یوں کلامِ محفل ہوتے ہیں کہ آج بیگم رات ہی کو کھیر فرج میں رکھ دی تھی کہ جس کی وجہ سے کھیر زیادہ ٹھنڈی ہوگئی۔ آج چکن قورمہ میں نمک بہت کم تھا۔ نہاری میں سبز مرچ کا استعمال زیادہ کیا گیا تھا وغیرہ وغیرہ۔ یہ تمام کھانوں کی فہرست بہ طورِ علم نہیں دی جاتی، بلکہ یہ دوسرے لوگوں پر اپنی دولت کا رُعب جھاڑنے کا ایک طریقہ ہے۔ اس کے علاوہ ہم کو افطار پارٹیاں دینے کا بھی حسبِ استطاعت شوق ضرور ہے۔ حالاں کہ اسلام نے رمضان میں غربا و مساکین کا خیال رکھنے کا درس دیا ہے، لیکن ہم اُدھر توجہ نہیں دیتے، مگر اِفطار پارٹی لازمی دیتے ہیں۔ اُس اِفطار پارٹی میں کوئی غریب، مسکین یا یتیم مستفید نہیں ہوتا، بلکہ یا تو ہمارے اپنے دوست رشتہ دار ہوتے ہیں کہ جن کو متاثر کرنے کے لیے ہم یہ سب اہتمام کرتے ہیں، یا پھر ہم انتظامی و سیاسی قیادت کی منت ترلے کرکے ان کو مدعو کرتے ہیں۔ اس کے بعد اس تقریب کی بہت خوب صورت تصاویر اور ویڈیوز بنائی جاتی ہیں۔ پھر بہت اہتمام سے اُن کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا جاتا ہے اور دوستوں کو متاثر کرنے کے لیے ٹیگ کیا جاتا ہے۔ یعنی اِفطار سے زیادہ دولت کی نمایش اور حلقۂ احباب کو متاثر کرنا لازم سمجھا جاتا ہے۔
المختصر، دنیا بھر کی برائیاں ہم کرتے ہیں رمضان کے مقدس اور محترم مہینے میں، لیکن 27ویں رات شبِ بیداری کر کے دکھلاوے کے ذکر و اذکار کرکے خوش ہوتے ہیں کہ سارے سال کے گناہ بخشوا لیے۔ کچھ احباب تو منافع خوری اور رشوت ستانی سے کمائے گئے مال سے عمرہ وغیرہ بھی کر آتے ہیں، اس خوش فہمی کے ساتھ کہ اَب ساری عمر کے گناہ ختم اور ہم بالکل معصوم جیسے ماں کے پیٹ سے ابھی دنیا میں آگئے۔ ویسے ہمیں اب تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ روزہ تو محض منھ بند کرکے کھانے سے پرہیز کا نام نہیں، بلکہ ہر قسم کی اخلاقی برائیوں سے اجتناب کا نام ہے۔
قارئین، اب آخر میں ایک لطیفہ پڑھ لیں۔ کہتے ہیں کہ چند نوجوان کہیں جا رہے تھے، تو اُنھوں نے دیکھا کہ ایک بزرگ شخصیت رمضان میں کھانا کھا رہی ہے۔ نوجوانوں نے طنز کیا کہ بابا جی رمضان ہے۔ بابا جی مسکرائے اور کہا، ہاں بیٹا! ہمیں معلوم ہے کہ رمضان ہے۔ تب نوجوانوں نے پھر طنز کیا کہ بابا جی رمضان میں روزہ رکھتے ہیں۔ بابا جی نے جواباً کہا، جی بیٹا! مَیں روزے سے ہوں۔ نوجوان حیرت زدہ ہوئے اور کہا کہ بابا جی، لیکن آپ تو کھانا کھا رہے ہیں! تب بابا جی نے بہت گہری بات کی۔ کہا، بیٹا! روزہ کا مطلب آنکھ، کان، زبان، ہاتھ، پیر، دل، پیٹ، شرم گاہ وغیرہ ہر چیز کا روزہ ہوتا ہے۔ آپ کے جسم کا کوئی عضو غلط کاری میں ملوث نہ ہو۔ مَیں اپنے اعضائے جسمانی کو ممکنہ طور پر غلط کاریوں سے روکتا ہوں۔ آنکھ سے غلط نہیں دیکھتا، دل سے غلط نہیں سوچتا، زبان سے غلط نہیں کہتا وغیرہ۔ البتہ شوگر کا مریض ہوں، سو دن میں دو بار تھوڑا بہت کھاتا ہوں بہ امرِ مجبوری…… تو تم کیسے کَہ سکتے ہو کہ روزہ نہیں۔
اس کے بعد بابا جی نے کہاں: ہاں بیٹا! کیا تم لوگ مکمل روزہ رکھتے ہو یا پھر صرف معدے کو ہی سزا دیتے ہو۔
یوں تمام نوجوانوں نے شرمندگی سے سر جھکا لیے۔ آئیں، ربِ کریم سے دعا کریں کہ وہ ہمیں اس رمضان کی برکت سے سچا اور باکردار مسلمان بننے کی توفیق دے اور ہم سب پر رحمتِ عظیم نازل کرے، آمین!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔