قرآنِ کریم (سورۃ المائدہ آیت 89) و احادیثِ شریفہ کی روشنی میں قسم کھانے سے متعلق چند ضروری واہم مسائل پیش خدمت ہیں۔
٭ اللہ تعالا کے نام یا اُس کی صفات کے علاوہ کسی بھی چیز کی قسم کھانا جائز نہیں۔ مثلاً: تیری قسم یا تیرے سر کی قسم۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جوشخص قسم کھانا ہی چاہے، تواُسے چاہیے کہ وہ صرف اللہ تعالا کے نام ہی کی قسم کھائے۔ ورنہ چپ رہے۔ (بخاری و مسلم)
نیز حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے اللہ تعالا کے علاوہ کسی چیز کی قسم کھائی ، گویا اُس نے کفر و شرک کیا۔ (ترمذی، ابوداود)
لہٰذا ہمیں حتی الامکان قسم کھانے سے بچنا چاہیے۔ اگر ہمیں قسم کھانی ہی پڑے، تو صرف اللہ تعالا کی قسم کھائیں۔
ڈاکٹر محمد نجیب قاسم سنبھلی کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/dr-muhammad-najeeb-qasmi/
٭ آیندہ زمانے میں کسی جائز کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھانے کو ’’یمین منعقدہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کا حکم یہ ہے کہ اس کے توڑنے کی صورت میں کفارہ واجب ہوتا ہے۔ مثلاً: کسی شخص نے قسم کھائی کہ میں فُلاں کام نہیں کروں گا۔ پھر وہ کام کرلے، تو اُس پر قسم کا کفارہ واجب ہے۔ قسم کا کفارہ یہ ہے: دس مسکینوں کو متوسط درجہ کا کھانا کھلانا یا دس مسکینوں کو بقدرِ ستر پوشی کپڑا دینا یا ایک غلام آزاد کرانا۔ اگر ان مذکورہ تین کفاروں میں سے کسی ایک کے ادا کرنے پر قدرت نہ ہو، تو قسم توڑنے والے کو تین دن کے مسلسل روزے رکھنے ہوں گے۔ ہاں اگر کسی شخص نے ناجائز امر مثلاً نماز نہ پڑھنے کی قسم کھائی، تو اُس کی قسم کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا۔ لہٰذا اُس کو نماز پڑھنی ہی ہوگی۔ البتہ کوئی کفارہ اس کے ذمے نہیں ہوگا۔
٭ کسی گذشتہ واقعہ کو اپنے نزدیک سچا سمجھ کر قسم کھائے اور حقیقت میں وہ غلط ہو۔ مثلاً: کسی کے ذریعے سے یہ معلوم ہوا کہ فُلاں شخص آگیا ہے۔ اُس پر اعتماد کرکے اُس نے قسم کھالی۔ پھر معلوم ہوا کہ وہ نہیں آیا۔ اسی طرح بِلا قصد زبان سے قسم کے الفاظ نکل جائیں، جیسے لا و اللہ، بلی و اللہ، قسم خدا کی۔ اس طرح کی قسم کھانے کو ’’یمین لغو‘‘ کہا جاتا ہے۔ ایسی قسم کھانا بڑا گناہ تو نہیں، البتہ آدابِ گفت گو کے خلاف ہے۔ لہٰذا اس طرح کی قسم کھانے سے بھی حتی الامکان بچنا چاہیے۔
٭ جھوٹی قسم کھانا گناہ کبیرہ ہے:۔ جھوٹی قسم کھانا بہت بڑا گناہ ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شرک، والدین کی نافرمانی اور کسی کا ناحق قتل کرنے کی طرح جھوٹی قسم کھانے کو بھی بڑے گناہوں میں شمار کیا ہے۔ (صحیح بخاری)
دیگر متعلقہ مضامین:
حقوقِ انسانی قرآن و حدیث کی روشنی میں 
نبی اور رسول کا فرق  
قرآن میں سائنسی حقائق 
امام مسجد صاحب کے نام کھلا خط
مثلاً: کسی شخص نے کوئی کام کرلیا ہے اور وہ جانتا ہے کہ مَیں نے یہ کام کیا ہے، اور پھر جان بوجھ کر قسم کھالے کہ مَیں نے یہ کام نہیں کیا۔ اس طرح کی جھوٹی قسم کھانا بہت بڑا گناہ ہے اور دنیا وآخرت میں وبال کا سبب ہے۔ ایسے شخص کے لیے اللہ تعالا سے توبہ واستغفار کرنا لازم ہے۔ اگر یہ جھوٹی قسم قرآنِ کریم پر ہاتھ رکھ کرکھائی جائے، تو اس کاگناہ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ جھوٹی قسم انسان کو گناہ اور وبال میں غرق کردینے والی ہے۔ اس لیے اس قسم کو ’’یمین غموس‘‘ کہا جاتا ہے۔ یمین کے معنی قسم اور غموس کے معنی ڈبو دینے والے کے ہیں، یعنی وہ قسم جو انسان کو ہلاک کرنے والی ہے۔ جمہور علما کے نزدیک جھوٹی قسم کھانے پر کوئی کفارہ نہیں، لیکن گناہِ کبیرہ ہونے کی وجہ سے اللہ تعالا سے معافی اور توبہ و استغفار ضروری ہے۔ البتہ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ جھوٹی قسم پر توبہ واستغفار کے ساتھ کفارہ بھی لازم ہے۔
اگر کسی شخص نے جھوٹی قسم کھالی، پھر وہ اللہ تعالا سے توبہ واستغفار کرتا ہے اور اللہ کے سامنے اپنے کیے ہوئے گناہ پر نادم بھی ہے اور آیندہ نہ کرنے کا عزم بھی کرتا ہے، تو اس کی آخرت میں کوئی پکڑ نہیں ہوگی، اِن شاء اللہ۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں پوری امتِ مسلمہ کا اتفاق ہے کہ اگر بندہ سچے دل سے توبہ کرے، تو اللہ تعالا دنیا میں بڑے بڑے گناہوں کو معاف کردیتا ہے، یہاں تک کہ شرک جو سب سے بڑا گناہ ہے، وہ بھی دنیا میں معافی مانگنے پر معاف کردیا جاتا ہے۔
سورۃ الزمر آیت نمبر 53 میں فرمان الٰہی ہے: کہہ دو کہ ا ے میرے وہ بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کررکھی ہے(یعنی گناہ کر رکھے ہیں) اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ یقین جانواللہ سارے کے سارے گناہ معاف کردیتا ہے۔ یقینا وہ بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
اسی طرح سورۃ النساء آیت نمبر 48 میں اللہ تعالا ارشاد فرماتا ہے: بے شک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے اور اس سے کم تر ہر بات کو جس کے لیے چاہتا ہے، معاف کردیتا ہے۔
آخرت میں اللہ تعالا گناہوں کو معاف کرے گا یا نہیں، ہمیں معلوم نہیں، لہٰذا ہمیں دنیا میں رہ کر تمام گناہوں سے بچنا چاہیے کہ نہ معلوم کون سا گناہ ہمیں جہنم میں لے جانے کا سبب بن جائے۔ جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھانا یقینا گناہِ کبیرہ ہے، لیکن اگر کوئی شخص صرف اور صرف دو فریق کو جھگڑوں سے محفوظ رکھنے کے لیے جھوٹی قسم کھاتاہے اور پھر اللہ سے معافی بھی مانگتا ہے، تو اُس کی آخرت میں پکڑ نہیں ہوگی، اِن شاء اللہ!
٭ خلاصۂ کلام:۔ ہمیں حتی الامکان قسم کھانے سے بچنا چاہیے۔ اگر ہمیں قسم کھانی ہی پڑے، تو صرف اللہ تعالا کے نام کی قسم کھائیں۔ اللہ تعالا کے علاوہ کسی چیز کی قسم کھانا جائز نہیں۔ جھوٹی قسم کھانا بہت بڑا گناہ ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چار بڑے گناہوں میں شمار کیا ہے۔ آیندہ زمانے میں کسی جائز کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھانے کے توڑنے کی صورت میں کفارہ واجب ہوتا ہے، یعنی دس مسکینوں کو متوسط درجہ کا کھانا کھلانا یا دس مسکینوں کو بقدرِ ستر پوشی کپڑا دینا یا ایک غلام آزاد کرانا۔ اگر ان مذکورہ تین کفاروں میں سے کسی ایک کے ادا کرنے پر قدرت نہ ہو تو قسم توڑنے والے کو تین دن کے مسلسل روزہ رکھنے ہوں گے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔