چند دن قبل متحدہ علما کونسل کے تحت راولپنڈی آرٹس کونسل میں ایک محفل کہ جو بسلسلۂ شہادت امام حسین و شہادت امام زین العابدین تھی، کا انعقاد کیا گیا۔ مَیں ذاتی طور پر متحدہ علما کونسل اور ان کے ذمے داران جناب علامہ سلیم حیدر، جناب آغا نیئر جعفری اور ان کے ساتھ باہمی رواداری تنظیم کے پیر عظمت ﷲ وغیرہ کے کام اور کوششوں سے بہت متاثر ہوں۔ یہ حضرات معاشرے میں رواداری، باہمی احترام اور ایک دوسرے کو قبول کرنے کا بے انتہا جذبہ رکھتے ہیں۔ یہ محفل بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ سٹیج پر شیعہ، سنی اور دیو بندی علما کا ایک گل دستہ سجا تھا۔ سو ہم ایک دفعہ پھر ان علما حضرات خصوصاً مولانا سلیم حیدر حفظ اﷲ کے مشکور ہیں کہ جو معاشرے میں امن کے لیے مخلص جدو جہد میں مصروف ہیں۔
بہرحال ایک دعوت نامہ اس احقر کو بھی موصول ہوا اور اس بامقصد و مقدس محفل میں شامل ہونا احقر واسطے باعثِ فخر و انبساط تھا۔ اس محفل میں تمام مکتبہ فکر کے علما شریک تھے اور ہر ایک نے بہت پُراثر خطاب فرمایا۔
اس مقدس محفل میں اس ناچیز نے جو تقریر کی اس کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔
بعد از تعریف و سلام کے، مَیں سٹیج پر بیٹھے ہوئے معززین خصوصاً پیر عظمت اﷲ، محترم مولانانیئر جعفری، سید جاوید علی امن کمیٹی راولپنڈی اور خصوصاً علامہ سلیم حیدر صاحب کا مشکور ہوں کہ جنھوں نے اس پُروقار تقریب کا انعقاد کیا۔
جناب والا! جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ یہ تقریب بسلسلۂ شہدائے کربلا منعقد کی گئی ہے…… لیکن مجھے افسوس ہے کہ ہم اور خاص کر ہمارے مذہبی اکابرین اس موقع پر مقصدِ کربلا پر بات نہیں کرتے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ جس طرح ہم ہر سال میلادِ رسولؐ مناتے ہیں، وہاں ہم نعتیں پڑھتے ہیں، شانِ رسولؐ بیان کرتے ہیں …… لیکن پیغامِ رسولؐ پر بات نہیں کرتے…… بالکل ایسے ہی ہم کربلا کے حوالے سے فضیلتِ حسین بیان کرتے ہیں، واقعاتِ کربلا بیان کرتے ہیں…… لیکن مقصدِ کربلا کی بات نہیں کرتے۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ فضیلتِ حسین اور واقعاتِ کربلا وہ چیزیں ہیں کہ جن کو نہ ہم تبدیل کرسکتے ہیں…… نہ کمی بیشی ہی کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کوئی مانے تب بھی حسین کا ناناؐ رحمت العالمین و سلطان البشر ہے اور حسین کا دادا محافظِ نبوت ہے۔ حسین کی نانی ملکۂ عرب اور دادی خدمت گارِ رسولؐ ہے۔ حسین کا بابا امام المتعقین و حسین کی ماں جنت کی سردار ہے اور حدیثِ مشترکہ و مسلسل کی روح سے حضرت حسین خود جنت کے سردار ہیں۔ اب یہ بات کوئی مانے تب بھی حقیقت ہے اور نہ مانے تب بھی حقایق یہی ہیں جو بیان ہوئیں۔
اسی طرح واقعاتِ کربلا میں جو ہوا سو ہوا، کوئی بیان کرے یا نہ کرے…… اس پر اب کوئی اثر انداز نہیں ہو سکتا…… مگر ہمارا اصل کام جو ہم نہیں کرتے، وہ مقصدِ کربلا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے امت کو تقسیم کر دیا ہے…… اور جب امت تقسیم ہوئی، تو کربلا بھی تقسیم ہوگئی۔
ہمارے ایک گروہ نے عَلم اٹھا لیا ہے اور عوام کو یہ بتانا شروع کر دیا ہے کہ جب تک زندہ رہو، حضرت حسین پر ماتم کرتے رہنا…… تمھاری بقا اسی میں ہے۔ دوسرے طبقے نے کالے عَلم کی بجائے سبز جبہ اور جھنڈا بلند کیا ہے اور ’’ہائے حسین!‘‘ کے جواب میں یہ بتانا شروع کر دیا ہے کہ ہمارا حسین بادشاہ ہے اور ہم ’’ہائے حسین!‘‘ والے نہیں…… بلکہ ’’واہ حسین!‘‘ والے ہیں۔ بس اس بات پر تمام کربلا کو ہم نے بند کر دیا ہے۔ ایک طبقہ ’’ہائے حسین!‘‘ کہلانے واسطے زمین و آسمان کے قلابے ملاتا ہے اور دوسرا طبقہ ’’واہ حسین!‘‘ ثابت کرنے واسطے پورا زور لگا رہا ہے۔
کاش! ہمارے مذہبی حلقے اس بات پر غور کریں۔ اگر وہ کم از کم غیر مسلم دانشوروں یا راہنماوں کو ہی پڑھ لیں کہ انھوں نے کربلا کو کس طرح لیا ہے، تو بے شک وہ خود کو ان غیر مسلمان لوگوں سے بھی کم تر تسلیم کرلیں گے۔ کیوں کہ یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ غیر مسلم دانشوروں مثلاً بابا گورو نانک، مہاتما گاندھی، نیلسن منڈیلا، برناڈ شاہ وغیرہ نے کربلا کا بہت جامع مقصد بتایا ہے۔ کسی نے کربلا کو انسانی ضمیر کی انتہا کہا۔ کسی نے آزاد دماغ کی جد و جہد کہا۔ کسی نے جمہوریت کی روح کہا اور کسی نے انسانی اقدار کی فتح قرار دیا…… لیکن ہم نے، مطلب ہمارے مذہبی حلقوں نے، اس کو بس چند مسلکی اختلاف تک محدود کر دیا اور اب مزید محدود تر کرتے جا رہے ہیں۔
درحقیقت ہم نے شاید مقصدِ کربلاکو نہ سمجھا نہ جان، ۔نہ لکھا نہ بتایا…… سو مَیں اپیل کرتا ہوں اپنے مذہبی حلقوں، علمائے دین اور ذاکرین سے کہ خدا کا واسطہ ہے، اس تنگ نظری اور محدودیت سے خود کو آزاد کر کے اس کو جامع مقاصد کی آنکھ سے دیکھیں۔ یہ ’’لا الہ الا اﷲ‘‘ کی تعبیر تھی۔ کیوں کہ طوفانِ نوح کے بعد جب سول معاشرے تشکیل پائے، تو اول پیغامِ خدا ابراہیم علیہ السلام لے کر آئے۔ آپ کی بتائی ہوئی تھیوری کی عملی شکل قربانیِ اسماعیل تھی، یعنی خدا نے بتایا کہ پیغامِ خدا کے نفاذ کے لیے آپ کو کس حد تک قربانی دینا پڑسکتی ہے۔ سو جناب ابراہیمؑ کی ادھوری تھیوری کو کاملیت دی خاتم النبیینؐ نے اور حضرت ابراہیمؑ کے بیٹے کی ادھوری قربانی کو کاملیت دی خاتم النبیینؐ کے نواسے نے۔ اسی کو قرآن نے مذبحِ عظیم کہا اور پھر کہا ’’لاترک الاخرین‘‘ یعنی ہم نے اس قربانی کو ایک بڑی قربانی میں بدل دیا ہے اور بعد میں آنے والوں پر طے کر دیا ہے۔
سو ہمیں شرم آنی چاہیے کہ ہم اتنی عظیم قربانی کو بہت ہی محدود نظریہ میں فکس کرکے لوگوں سے داد لینا چاہتے ہیں۔ ہمیں اپنے رویوں پر غور کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنی سوچ کو وسیع کرنا ہوگا…… اور ہمیں فلسفۂ حسینی کو سمجھ کر حضرت حسینکو اس مظلومیت سے نکالنا ہوگا۔
آپ یقین کریں کہ کربلا میں تو حضرت حسین بے شک مظلوم تھے، لیکن ہم جو ان کے ناناؐ کے امتی ہیں، ان کی قربانی کے مقاصد کو محدود کر کے ان پر آج بھی ظلم کر رہے ہیں۔
حضرت حسین کا یہ عمل تو بقائے انسانیت کے لیے تھا۔ آمریت سے نفرت اور انسان کو غلام بنانے کی یزیدی کوشش کے خلاف تھا۔ پھر کربلا کا یہ سبق ہمیں اپنی نوجوان نسل کو عملی طور پر بتانا ہوگا کہ جہاں بھی حق سچ کی بات ہو، وہاں حضرت حسین کے انکار کی طرح ڈٹ جانا ہی سبقِ کربلا ہے۔ سو بہتر ہے آج سے ہم اپنی اپنی حیثیت اور ڈومین کے مطابق ظلم و جبر کے خلاف بغاوت کر دیں…… لیکن اگر آپ معمولی مفادات کے لیے باطل کے سامنے سرنگوں ہو جاتے ہیں، تو پھر آپ کچھ بھی ہوں، حسینی نہیں ہوسکتے۔ ہماری دعا ہے کہ اﷲ تعالا نوجوان نسل میں جذبۂ حسینی پیدا کرے۔
آپ سب کا بہت بہت شکریہ!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔