تاریخِ عالم میں جب اور جہاں بھی کسی صالح فرد یا گروہ نے قربانی دی، اس کے پس منظر میں ایک خاص مقصد رہا ہے۔ اسی سلسلے میں شہدائے کربلا خصوصاً نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قربانی پر اگر غور کیا جائے، تو یہ قربانی بھی عظیم مقصد کے لیے دی گئی تھی۔ یہ کہ شہادتِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ دنیا کے تمام انسانوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ اس لیے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت نے تاریخ میں ایسے اَن مٹ نقوش چھوڑے، جن پر چل کر دنیا کو خوشی اور سکون کا گہوارا بنایا جاسکتا ہے۔
امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور شہدائے کربلا کی لازوال قربانی کا واسطہ عوام کی فلاح و بہبود سے ہی تھا۔ در حقیقت حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے خاندان سمیت اپنی ذاتی غرض سے نہیں نکلے تھے، بلکہ انھوں نے اپنے وقت کی ایسی اتھارٹی (قوتِ مقتدرہ) کو چیلنج کیا تھا جس کی موجودگی کا مقصد رعایا کے حقوق کو غصب کرنا تھا۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ جانتے تھے کہ ایک جمہوری، اسلامی اور فلاحی ریاست میں عوام کی معاشی سمیت تمام مسایل حل ہوسکتے ہیں۔
دوسری جانب یہ بھی ضروری تھا کہ عوام پر ریاست کی طرف سے غیر ضروری ٹیکسوں کا نفاذ نہ ہو…… جو عام طور پر حکم ران اپنی بے جا اخراجات کے لیے عوام سے وصول کرتے ہیں…… چوں کہ ان تمام معاملات کا تعلق براہِ راست ریاست سے ہوتا ہے، اس لیے اس وقت یہ ضروری سمجھا گیا کہ وقت کے سربراہِ ریاست میں عوام کو جواب دہی کا احساس پیدا کیا جائے…… اور سربراہِ ریاست اور اس کے عمال عوام کے مسایل سے آگاہ ہوں۔
نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سفرِ کربلا سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ
٭ ایک اسلامی ریاست میں شورائی اور جمہوری اُصولوں کے تحت عوام کے مسایل حل ہوں نہ کہ فردِ واحد مسلمانوں کی قسمتوں کے فیصلے خود کرے۔
٭ یہ کہ رعایا کے مسایل کے حل میں حکم ران کی دلچسپی کتنی اہمیت رکھتی ہے۔
ہمارے لیے یہ غور کا مقام ہے کہ واقعۂ کربلا کو بار بار دہرانے محرم میں چند مخصوص بے جا اور لاحاصل رسومات کی بجا آوری کی بجائے اس واقعے سے ملنے والے سبق پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔
پاکستان ہمارے بزرگوں نے ’’لا الہ الا اللہ!‘‘ کا نعرہ لگا کر حاصل کیا تھا۔ لہٰذا اس نعرے اور معروضی حالات کا تقاضا ہے کہ یہاں بھی ایسے نظام کی قیام کی جد و جہد کی جائے جس کا آج سے چودہ سو سال پہلے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے خاندان سمیت بہتر رفقا نے میدانِ کربلا میں مطالبہ کیا تھا…… جس کی پاداش میں وقت کے جابر نے حق و صداقت کی آواز اور حقوقِ عوام کے نعرے کو ہمیشہ کے لیے دبانے کے لیے کربلا کا خونیں ڈراما کھیلا…… لیکن اس کو کیا معلوم تھا کہ سانحۂ کربلا تاریخ کا ایک اَن مٹ نقش ثابت ہوگا اور دنیا کے تمام انسان بلا مذہب اور قومیت کے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور شہدائے کربلا کو تا قیامت خراجِ تحسین پیش کیا کریں گے اور یہ سانحہ اس شعر کے مصداق سمجھا جائے گا کہ
قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
قارئین! موجودہ افراتفری کے دور میں مسلم اُمہ کے لیے شہادتِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ سبق بھی دیتی ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتفاق و اتحاد پیدا کریں۔
الغرض…… خاندانِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میدانِ کربلا میں اپنی جانیں لٹا کر ہمیں یہ سبق یا درس بھی دیا کہ مسلم اُمہ ہر قسم کی گروہی، لسانی اور مسلکی فرقوں میں پڑنے سے حتی الوسع گریز کرے اور اس کا مقصد تمام انسانوں کی خدمت ہو۔
وما علینا الاالبلاغ!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔