رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حسین مجھ سے اور مَیں حسین سے ہوں، جو شخص حضرت حسین سے محبت کرے، اللہ تعالا اس کے ساتھ محبت فرمائے گا۔‘‘
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اہلِ بیت میں سے آپ کو سب سے زیادہ محبوب کو ن ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے کہا کرتے تھے کہ میرے بیٹوں کو میرے پاس لے آؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو سینے سے لگا لیتے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن ابن علی رضی اللہ عنہ کو کندھے پر اٹھایا ہوا تھا کہ ایک شخص نے کہا: ’’کیا ہی اچھی سواری ہے، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ’’ سوار کتنا اچھا ہے!‘‘
مگر جب آنے والے حالات کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوا، تو آپ کی آنکھوں سے آنسو برس پڑے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میرے پاس جبرائیل آئے اور مجھے بتایا کہ میری امت میرے اس بیٹے کو قتل کر دے گی۔ جبرائیل اس جگہ کی سرخ مٹی بھی میرے پاس لائے جہاں اسے قتل کیا جائے گا۔
پھر جب اسلامی خلافت کے بعد بادشاہت کا دور آیا، تو حضرت سیدنا امیر معاویہ کے فرزند نے اپنے عظیم والد گرامی کے مشن سے باغی ہوکر اسلامی حکومت کو قیصر وکسرا کی طرز پر ملوکیت سے بدلنا چاہا اور اس پر امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیعت چاہی۔ یہی وہ موڑ ہے جو تاریخِ اسلامی میں ’’واقعۂ کربلا‘‘ کا سبب بنا۔
اسلامی نظامِ شریعت کے روشن چہرے کو یزید شہنشاہی کے زعم میں مسخ کرنا چاہتا تھا۔ جس دین کی اکملیت فخرِ موجودات حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی آمد کے ساتھ ہو گئی تھی۔ اسی دین کے اصولِ حرام و حلال میں یزید اپنے نفس کے فیصلے نافذ کرنا چاہتا تھا۔ اس کے سامنے دو نمونے تھے، اسلامی نظامِ حکومت کا نمونہ اور کسرا کے استبداد کا نمونہ۔ اس نے اسلامی نظامِ حکومت کا نمونہ نہیں اپنایا…… بلکہ اس نے کسرا کی آمریت کو نمونۂ عمل بنایا۔ اسی کی تصدیق کے لیے اس نے نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو مجبور کرنا چاہا۔
یزید چاہتا تھا کہ شراب و شباب کی اجازت دے دی جائے، زنا و سود کی اجازت دے دی جائے، اسلامی تعزیرات میں رد و ترمیم کر دی جائے، شریعت کو طبیعت کے مطابق ڈھال لیا جائے…… اور ان سب کے باوجود امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیعتِ یزید کرکے یزیدی قوانین کو تسلیم کرلیں۔
معاملہ چوں کہ اسلامی قوانین کی حفاظت کا تھا…… یزید شریعتِ اسلامی میں تحریف چاہتا تھا، یوں حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیعت کرلینا مثال بن جاتا، یزیدی فتنے پر مہرِ تصدیق ثبت کرنے کا ذریعہ بن جاتا، اسلام کا وہ روشن چہرہ باقی نہ رہتا جس کے لیے خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تھے۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مستقبل کے لیے ایک مثال قایم کر دی کہ یزید کی بیعت دراصل باطل کی توثیق ہے۔ اس لیے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیعتِ یزید سے صاف انکار کرکے دنیا کو صدق و وفا کا وہ عظیم درس دے دیا کہ آج ہر باطل کے مقابل حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ’’حق کی علامت‘‘ بن چکے ہیں۔
باطل چاہے اسلامی کلمے کے ساتھ آئے یا صیہونیت کی شکل میں) ایک مسلمان کے لیے سچے اسلامی احکام ہی کافی ہیں۔ انہیں کی پیروی میں اس کے لیے نجات ہے۔ اس دنیائے فانی میں اپنے مکرو فریب اور جبر و تشدد سے حاصل کی ہوئی قوت کے بل بوتے پر کسی کا بظاہر کامیاب نظر آنا اور اقتدار حاصل کرلینا، اصل کامیابی نہیں…… بلکہ حقیقی اوردایمی کامیابی یہ ہے کہ انسان کو تخت ملے یا تختہ…… وہ دنیاوی جاہ وحشمت کے لیے اللہ تعالا اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا دامن ہرگز نہ چھوڑے۔
حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظیم شہادت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ باطل کو ترک کرکے حق پر ڈٹا جائے۔ ہمیشہ دینِ حق کا علم بلند کیا جائے۔ چاہے اس کے لیے بڑی سے بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔
قارئین! اپنی اور اپنے عزیزوں کی جان راہِ خدا میں نچھاور کرکے حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتا دیا کہ جب بھی اسلام کے مقابل یزیدیت سر اُبھارے میری شہادت سے درس لے کر استقلال کی تاریخ رقم کر لینا اور باطل کے آگے سرنگوں نہ ہونا۔ جان دے دینا، مگریزیدیت کی اطاعت قبول مت کرنا۔
تاریخِ انسانی میں ایسے خونیں سانحے کی مثال نہیں ملتی۔ جان دینا آسان نہیں…… عزیزوں کو قربان کرنا بڑا مشکل کام ہے۔ یہ سب صرف اللہ تعالا کی خوش نودی اور دینِ حق کی سربلندی کے لیے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قبول کیا…… اور امتِ محمدیہ کو بتا دیا کہ خود داری یہ نہیں کہ اسلام سے جدا راہ قبول کرلی جائے،خود داری تو یہ ہے کہ راہِ حق پر چلا جائے، چاہے اس کے لیے اپنے لہو سے ہی چمن کی آب یاری کرنی پڑے۔
حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے لہو سے ایک درخشاں تاریخ لکھ دی ہے…… جس کی سرخی آج بھی ہویدا ہے۔
مٹی میں مل گئے ارادے یزید کے
لہرا رہا ہے آج بھی پرچم حسینؓ کا
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔