انسان کے لیے سب زیادہ مخلص اس کے والدین ہوتے ہیں جو کہ خود سارے دکھ اور پریشانیاں جھیلتے ہوئے نہ صرف اولاد کی پرورش کرتے ہیں بلکہ اسے ترقی کی اعلا منازل پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس لیے والدین کی عظمت پر خصوصی زور دیا جاتا ہے…… لیکن دنیا بھر کی اقوام و مذاہب میں والدین کے سب سے زیادہ حقوق اور والدین کی سب سے زیادہ عظمت اسلام نے بیان کی ہے۔
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے پوچھا کہ اولاد پر ماں باپ کا کتنا حق ہے؟ سرکارِدوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تمہاری جنت اور دوزخ ہیں…… یعنی یہ کہ اگر تم ماں باپ کی فرماں برداری اور خدمت کروگے اور ان کو راضی رکھوگے، تو جنت پالوگے اور اس کے برعکس اگر ان کی نافرمانی اور ایذا رسانی کرکے انہیں ناراض کرو گے اور ان کا دل دکھاؤ گے، تو پھر تمہارا ٹھکانا دوزخ میں ہوگا۔
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِدوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی رضا مندی والد کی رضا مندی میں ہے…… اور اللہ کی ناراضی والد کی ناراضی میں ہے۔
اس حدیثِ مبارکہ کا مطلب اور مدعا یہ ہے کہ جو اپنے مالک و خالق کو راضی رکھنا چاہے، وہ اپنے والد کو راضی اور خوش رکھے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہونے کے لیے والد کی رضا جوئی شرط ہے…… اور والد کی ناراضی کا لازمی نتیجہ اللہ کی ناراضی ہے۔
لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ والد اگر شریعت کے خلاف حکم دے، تو اولاد کے لیے اس حکم کا ماننا ضروری نہیں، تاہم اس وقت بھی یہ ضروری ہے کہ والدکا احترام اور ان کی خدمت کرتے رہیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سرکارِدوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے دریافت کیا کہ مجھ پر خدمت اور حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ سرکارِدوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمہاری ماں، پھر مَیں کہتا ہوں تمہاری ماں، پھر مَیں کہتا ہوں تمہاری ماں…… اس کے بعد تمہارے باپ کا حق ہے۔ اس کے بعد جو تمہارے قریبی رشتہ دار ہوں، پھر جو ان کے بعد قریبی رشتہ دار ہوں۔
یہ حدیثِ مبارکہ جامع ترمذی اور سنن ابی داؤد میں بھی مذکور ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خدمت اور حسنِ سلوک کے بارے میں ماں کا حق باپ سے زیادہ اور مقدم ہے۔ کیوں کہ کئی جگہ ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید کے ساتھ خاص طور سے ماں کی ان تکلیفوں اور مصیبتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے…… جو حمل اور ولادت میں اور پھر دودھ پلانے اور پالنے میں خصوصیت کے ساتھ ماں کو اٹھانی پڑتی ہیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِدوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایاوہ آدمی ذلیل ہو، وہ خوار ہو، وہ رسوا ہو۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کون؟ یعنی کس کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے؟ سرکارِدوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا وہ بدنصیب جو ماں باپ یا دونوں میں سے کسی ایک کو بڑھاپے کی حالت میں پائے، پھر ان کی خدمت او ر ان کا دل خوش کرکے جنت حاصل نہ کرسکے۔
بلاشبہ ماں، باپ قدرت کی عظیم نعمت ہیں۔ وہ بچے کو پیدایش سے لے کر اس کی تعلیم و تربیت اور معاشرے میں زندہ رہنے کے قابل بنانے تک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کی ہر ہر قدم پر رہنمائی کرتے ہیں۔ اسے زمانے کے ہر سردوگرم سے بچاتے ہیں۔ گویا اس کے لیے اپنی زندگیوں کو وقف کردیتے ہیں…… لیکن افسوس کہ جب وہی اولاد بڑی ہوجاتی ہے، تو والدین کو اکیلا چھوڑ دیتی ہے۔ حالاں کہ اس وقت ان کو اس کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
مشہور واقعہ ہے کہ ایک شخص اپنے والدین کو بہت ستاتا تھا۔ یہاں تک کہ والدہ فوت ہو گئی، والد بوڑھا ہو گیا اور کسی خطرناک بیماری کا شکار ہوگیا۔ یہ شخص اس وقت والد کو ستانے سے باز نہ آیا اور اس سے جان چھڑانے کی سوچ لی اور بیمار والد کو اُٹھا کر کسی ویران کنوئیں میں پھینکنے کے لیے چل پڑا۔ راستے میں والد نے کہا، بیٹا! کچھ دیر ٹھہر جاؤ۔ خود بھی آرام کرلو اور میری ایک بات بھی سن لو۔ چناں چہ اس نے بیمار والد کو زمین پر بٹھایا، تو والد نے کہا کہ بیٹا! مَیں بھی اپنے والد یعنی تمہارے دادا کو اسی کنوئیں میں پھینک آیا تھا۔ یہ سن کر نوجوان کو حیرت ہوئی اور غور وفکر کیا، تو کانپ اٹھا اور اپنا انجام بھی نظر آگیا۔ نوجوان نے وہیں توبہ کی اور والد کو لے کر واپس گھر آگیا اور اس کی زندگی تک اس کی خدمت میں لگا رہا۔
اولیا ئے کاملین کے نزدیک اپنے ماں باپ کا چہرہ محبت سے دیکھنا اولاد کے لیے عبادت ہے۔ چناں چہ جو اولاد اپنے ماں باپ کا چہرہ اللہ تعالا کی دوستی کے لیے دیکھتے ہیں، تو انہیں ایک ’’حجِ مبرور‘‘ یعنی مقبول اس کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے…… اوراللہ تعالا اس کو بخش دیتا ہے۔
موجودہ دور میں بہت سی جگہوں پر اولاد والدین کے معاملہ میں بڑا سخت رویہ رکھتی ہے۔ ماں باپ اگر نصیحت کریں، تو قطعاً نہیں مانا جاتا۔ ایسے نافرمان افراد کو اپنی پیدایش کے مراحل کو یاد کرنا چاہیے اور یہ بھی کہ والدین نے کس طرح اسے چلنا سکھایا، بولنا سکھایا، اس کی پرورش کی اور والدین کی عظیم خدمات کی بدولت آج اسے یہ مقام و مرتبہ ملا ہے۔
قارئین! بس یہی دعا ہے کہ اللہ تعالا ہمیں اپنے والدین کی خدمت ان کی دل جوئی اور حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔