مسلمان ہر سال دنیا بھر میں سنتِ ابراہیمی پوری کرنے کے لیے بڑے جوش و خروش سے قربانی کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ قابلِ غور بات یہ ہے ہم حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کے مابین ہونے والی بات چیت بھول چکے اور صرف دنبہ یاد رکھ لیا ہے۔ اصل پیغام اور اس عمل کی روح وہ گفتگو تھی جو والد اور بیٹے کے درمیان ہوئی۔ ہم نے سنتِ ابراہیمی کی روح سے بے خبر ہوکر اپنے آپ کو جانور کی خریداری اور گوشت کی تقسیم تک محدود کر دیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اب قربانی بھی ایک فیشن کا درجہ حاصل کرتی جارہی ہے، تو بے جا نہ ہوگا۔ زیادہ تر قربانی کا جذبہ جانور ذبح کرنے تک قایم رہتا ہے اور گوشت کی تقسیم میں ہم سنتِ ابراہیمی کو بھولتے جاتے ہیں۔ آہستہ آہستہ گوشت ہمارے فریج میں جمع ہونے لگتا اور اپنا فریج بھر جانے پر قریبی رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے فریج تک رسائی حاصل کی جاتی۔ بعض اوقات گوشت پڑا پڑا خراب ہوجاتا اور اکثر اوقات زیادہ کھانے سے صحت کے مسایل کا سامنا بھی کرنا پڑتا۔
ہم جتنا جوش و جذبہ قربانی کرنے کے لیے دِکھاتے ہیں، اگر اتنا جوش وخروش اور ولولہ سنتِ ابراہیمی کی اصل روح کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں دکھائیں، توسماجی عدمِ تقسیم کی موجودہ صورتِ حال کافی حدتک کم کی جاسکتی ہے ۔ عجب بات ہے کہ سارا سال بینکوں میں سود پہ پیسے رکھ کر انہی پیسوں سے قربانی کا جانور خریدتے اور فریضہ پورا کرتے ہیں۔ سودی نظام پر چلنے والے بینکوں کے ذریعے ہم خیراتی کاموں، مساجد کی تعمیر، مدارس کی امداد اور دیگر اسلامی اور نیکی کے کاموں کے لیے پیسے بھیجتے اور وصول کرتے ہیں۔
ہم قرض ادا نہیں کرتے، مگر قربانی کے لیے جانور کا بندوبست کسی نہ کسی طرح کر ہی لیتے ہیں۔
ہم بیٹیوں کی شادیاں تو سنت کے مطابق کرنے کو تیار نہیں مگر قربانی کی سنت پر باقاعدگی سے عمل پیرا ہوتے۔
ہم والدین کی خدمت،ان کے حقوق کی ادائی، قریبی رشتہ داروں کے حقوق کو سال بھر یاد نہیں رکھتے، مگر قربانی کا گوشت بھیجنا نہیں بھولتے۔ سال بھر ہمارا پڑوسی کس حال میں رہتا ہے، وہ مہنگائی کے اس دور میں اپنے بچوں کا پیٹ کیسے پالتا ہے، بچوں کی فیسیں کیسے ادا کرتا ہے، بجلی پانی اور گیس کے بل کیسے بھرتا ہے، گھر کا کرایہ کیسے دیتا ہے، بیماری میں کیسے علاج کے پیسوں کا انتظام کرتا ہے…… ہم سارا سال باقی ساری سنتیں بھول کر اپنے ڈرائنگ روم میں پسندیدہ پروگرامات دیکھتے ہیں مگر عیدِ قرباں قریب آتے ہی ہمیں سنتِ ابراہیمی یاد آجاتی ہے۔
سارا سال رشتہ داروں سے بدسلوکی، قریبی رشتہ داروں کی حق تلفی، رشوت خوری، اقربا پروری اور دیگر اَن گنت برائیوں کی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہتے اور ایک پاو گوشت دینے کے لیے ہم سب رشتہ داروں اور قریبی افراد کی فہرست ایسے فخر اور باہمی مشاورت سے ترتیب دیتے ہیں، جیسے ہم حاتم طائی سے مقابلہ کرنے کی تیاری کر رہے ہوں۔ جس گاؤں، محلے، شہر میں غریبوں کا چولہا نہ جلتا ہو، بیمار کے پاس علاج کی رقم نہ ہو، مقروضوں کے پاس قرض ادائی کی رقم نہ ہو، کرائے داروں کے پاس کرایہ نہ ہو، جو عید پہ بھی ادھار لے کر گزبسر کریں، انہیں ایک پاو گوشت کی بجائے دووقت کی روٹی چاہیے، نہ کہ ایک دن کا لذیز پکوان۔
ہماری اکثریت قربانی کی اصل روح سے ناآشنا ہے۔ وہ پیغام، وہ جذبہ، محبت، رب ذولجلال کا جنون اور تڑپ، احکامِ خداوندی پر سختی سے عمل اور اللہ تبارک و تعالا کے حکم پر تن من دھن قربان کردینا، دینِ الٰہی کے لیے اپنے بیٹے تک کی قربانی سے گریز نہ کرنا اور بے شمار دیگر پیغامات جن پر ہمیں اتنے ہی جوش و خروش اور تن دہی کے ساتھ عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے، جتنا جوش و ولولہ ہم قربانی خریدنے سے گوشت ہضم کرنے تک دکھاتے ہیں۔
قربانی سے مراد صرف جانور کی قربانی نہیں بلکہ دنیاوی لگن کی قربانی دے کر اللہ کی رسی کو تھام لینا ہے۔ ہم عید پہ زرق برق لباس زیب تن کرلیتے ہیں، مہنگی خوشبو لگاتے ہیں، اعلا جوتے پہنتے ہیں جب کہ ہمارے گاؤں، محلے، رشتہ داروں اور پڑوس میں ایسے افراد بھی موجود ہوتے ہیں جو یا تو نئے کپڑے لینے کی استطاعت نہیں رکھتے، یا سماجی رسموں کے ڈر سے استعمال شدہ کپڑے ہی پہن لیتے ہیں۔ اگر حقیقی معنوں میں دیکھا جائے، تو ہمیں ساری زندگی ایثار و قربانی کے جذبے کے تحت گزارنی چاہیے۔ ہم اچھا، موٹا تازہ، مہنگا اور خوب صورت جانور تو خرید لیتے ہیں اور سنت پوری کرنے کے جوش اور ولولے میں فرایض بھول جاتے ہیں۔ سال بھر غربا، مساکین کا خیال رکھنا، بے کس و بے یارومددگار افراد کی مدد کرنا، رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرنا، اگر صاحبِ ثروت ہیں، تو مقروضوں کاقرض ادا کرنا، بیماری کے علاج میں ان کی مدد کرنا، بیواؤں او ر یتیموں کی کفالت کرنا بھی قربانی ہے…… مگر ہم یہ سب بھول کر ایک جانور کی قربانی تک محدود ہو چکے ہیں اور دیگر تمام باتیں پسِ پشت ڈال چکے ہیں۔
قربانی کا جذبہ ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ جس طرح ہم گوشت کے برابر تین حصے کرتے ہیں اور اس وقت سنت طریقہ کو اچھی طرح اپنے دل و دماغ میں موجود رکھتے ہیں، اسی طرح عملی زندگی کے دیگر میدانوں میں بھی ہمیں احکامِ شریعت پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی اشد ضرورت ہے۔
ہم قربانی کے گوشت میں تو انصاف سے کام لیتے ہیں مگر قربانی سے پہلے اور بعد دوسروں کا حق مارتے، دوسروں کے ساتھ ناانصافی کرتے، دوسروں کو برابر نہیں سمجھتے اور دوسروں کا خیال رکھنا مکمل طور پر بھول جاتے ہیں۔ ہم والدین کی خدمت کے احکامات پسِ پشت ڈال کر قربانی پر زور دیتے ہیں، ہم بہنوں کا حق مار کرسال میں ایک بار انہیں ایک پاو گوشت بھیجنا لازمی سمجھتے ہیں، ہم سارا سال پڑوسی کی مشکلات سے بے خبر رہ کر عید پر گوشت سے نوازتے ہیں، ہم نے صرف دنبہ یاد رکھا ہوا ہے، قربانی کی روح کو ہم بھول چکے ہیں۔
ہمارے علمائے کرام بھی روایتی تقاریر میں الجھے رہتے ہیں۔ سارا وقت قربانی کا روایتی بیان جاری رکھتے ہیں اور قربانی کے لوازمات پر بات کرتے ہیں مگر قربانی کے باقی پہلوؤں پر روشنی ڈالنے پر توجہ مرکوز نہیں کرتے۔ مہنگائی کے ا س دور میں کسی کے گھر کا چولہا جلانا، کسی کا ماہانہ خرچہ برداشت کرنا، کسی کی مدد کرنا، کسی بے روزگار کو کام پر لگانا، کسی غریب کا بجلی، گیس اور پانی کا بل ادا کرنا، کسی محتاج کے گھر کا کرایہ اداکرنا بھی کسی قربانی سے کم نہیں۔ قربانی ہمیں انصاف کا درس دیتی ہے، تو یہ کہاں کا انصاف ہے کہ خود اور اپنے بچوں کو مہنگے کپڑے خرید کر دیں، جب کہ بھتیجے، بھانجے اور دیگر قریبی رشتہ دار جو اس کی استطاعت نہیں رکھتے، وہ پرانے یا استعمال شدہ کپڑوں تک محدود رہیں۔
قارئین، ایسے بھی سفید پوش دیکھے ہیں جو اپنی عزتِ نفس مجروح ہونے کے ڈر کی وجہ سے عید کے دن کسی بہانے سے اپنے بچوں کو لے کر جنگل کی طر ف نکل جاتے ہیں۔ عید ملنے کے لیے آنے والے جب استفسار کرتے ہیں، تو بہانہ بنایا جاتا کہ رات کو مال مویشی واپس نہیں آیا، اسے تلا ش کرنے کے لیے گئے ہیں۔ ابھی آتے ہی ہوں گے۔ ایسے سفید پو ش گھرانوں میں کپڑے کا صرف ایک ہی جوڑا سلائی کروانے کی سکت ہوتی ہے اور یہ جوڑا خاندان کے جس فرد کا ہوتا ہے، وہ عید پر مہمانوں کی خدمت کے لیے گھر پر قیام کرتا ہے۔ شام ڈھلتے ہی یہ جوڑا اتنی تیزی سے اتار کر صندوق میں ڈال کر تالا لگا دیا جاتا ہے، جیسے ہم اپنی قیمتی ترین چیز کو سنبھال کر رکھتے ہیں۔ یقینا غربا کے لیے ایک جوڑا بھی ان کی کل متاع ہوتا ہے۔
جب ہم بازار سے مختلف قسم کے مسالا جات اور رنگ برنگے پکوان خرید رہے ہوتے ہیں، اس وقت بھی ہمیں قربانی کا جذبہ یاد رکھنا چاہیے اور اپنے قریبی رشتہ داروں اور پڑوسیوں میں سے ضرورت مندوں کے لیے بھی حسبِ توفیق خریداری کرلینی چاہیے۔ غریب، مسکین، بے آسرا اور نادار افراد کو گوشت کھانے سے کہیں زیادہ گھر کا چولہا جلانے کی فکر ہوتی ہے۔ اللہ تعالا ہم سب کو جذبۂ قربانی کی روح پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔