تنگی، پریشانی، مشکلات و مسایل کے اس دور میں ہمیں ربّ کریم سے اپنا تعلق مضبوط جوڑنے کی ضرورت ہے۔ دنیا دار الامتحان میں گناہوں سے کنارہ کشی کرتے ہوئے، نیکیاں کمانے میں اپنا وقت صرف کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ ہم دنیا و آخرت دونوں جہانوں میں فلاح و کامیابی پاسکیں۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ سرکارِ دو عالمؐ نے ارشاد فرمایا کہ مَیں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ہیں۔ سرکارِ دو عالمؐ نے کلمۂ شہادت والی انگلی اور اس کے برابر والی انگلی ملا کر فرمایا کہ میری بعثت میں اور قیامت میں اتنا قرب اور اتصال ہے جتنا کہ ان دو انگلیوں میں ہے۔
سرکارِ دو عالمؐ کا مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالا نے اس دنیا کے جتنے دور یعنی زمانے مقرر کیے تھے، وہ سب ختم ہوگئے ہیں۔ اب یہ آخری دور ہے جو میری بعثت سے شروع ہوا ہے اور قیامت پر ختم ہوگا۔ میرے اور قیامت کے درمیان کوئی نیا نبی نہیں آئے گا…… نہ کوئی اُمت پیدا ہوگی۔ قیامت کا دن جسے روزِ آخر کہتے ہیں…… اس کا آنا حق ہے اور وہ ضرور آنے والا ہے۔ وہ دنیا کا آخری دن ہے۔ اس دن تمام آسمان اور ستارے پارہ پارہ ہو جائیں گے اور زمین اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النّبیین تک تمام پیغمبروں نے توحید کے بعد روزِ آخرت سے آگاہ کیا اور بتایا کہ ایک دن یہ عالم فنا ہوجائے گا…… اور پھر مخلوق کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا…… وہاں ان کے اعمال کی جزا و سزا ملے گی۔ بلاشبہ یہ دنیا چند روزہ ہے۔ یہ عالم ایک دن فنا ہونے والا ہے اور اس کے بعد ایک عالم آنے والا ہے جہاں فنا یا زوال نہیں ۔
قارئین! ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا سے آخرت کی طرف روانہ ہونے سے پہلے اس عالم جاودانی کا کچھ سامان کر لیں۔ اور قیامِ قیامت کی صورت یہ ہوگی کہ باشندگانِ عالم اپنے کاروبار میں مشغول ہوں گے…… اور روئے زمین پر کوئی اللہ کا نام لینے والا باقی نہ رہے گا۔ وہ جمعہ کا دن ہوگا اور محرم الحرام کی دسویں تاریخ، روزِ عاشورہ ہوگا کہ یکایک علی الصباح لوگوں کے کانوں میں ایک باریک آواز آنا شروع ہوگی اور بڑھتی جائے گی…… یہاں تک کہ تمام لوگ مرجائیں گے اور زمین و آسمان پھٹ جائیں گے۔ پھر دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا جس سے تمام مردے زندہ ہو جائیں گے…… اور حساب کتاب شروع ہوجائے گا۔ اگر کسی نے ذرّہ بھر نیکی کی ہوگی، وہ اس کے اجر کا حق دار ہوگا اور اگر کسی نے ذرّہ بھر برائی کی ہوگی، وہ سزا کا مستحق ہوگا۔
اُس دن اللہ تعالا اپنی قدرتِ کاملہ سے جسم کی بوسیدہ ہڈیوں اور خاک میں ملے ہوئے ریزوں کو ہر جگہ سے جمع کرے گا، خواہ وہ آگ میں جلا ہو یا پانی میں غرق ہوا ہو، یا ہوا میں اُڑ گیا ہو یا دھوپ میں خشک ہو گیا یا گل سڑ کر خاک میں مل گیا ہو یا شکمِ حیوانات میں ہضم ہوگیا ہو…… جسم کے تمام اجزا کو جمع کرے گا۔
اسلام نے اس بات پر خاص طور پر زور دیا ہے کہ دنیا کی زندگی کے بعد انسان کو ایک اور زندگی ملے گی جسے آخرت کی زندگی کہتے ہیں۔ اس لیے انسان کو دنیا میں ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے کہ جس سے آخرت کی زندگی خراب ہو اور ایسے کام قرآنِ حکیم میں صاف طور پر بتا دیے گئے ہیں۔ جن کا اثر آخرت کی زندگی پر پڑتا ہے اور وہ کام بھی اچھی طرح کھول کر سمجھا دیے ہیں جن کے کرنے سے آخرت کی زندگی سنورتی ہے۔
سرکارِ دوعالمؐ نے ان سب کاموں کے کرنے کا طریقہ بھی بتا دیا ہے جو قرآنِ کریم کی رو سے آخرت کی زندگی کے لیے مفید ہیں…… اور ہادیِ برحق نے بذاتِ خود عملاً ان کاموں سے بچ کر بھی دکھا دیا اور زبانی نصیحتیں بھی کر دیں…… جن سے آخرت کی زندگی خراب ہوتی ہے۔ اور وہ اُصول بھی اچھی طرح سمجھا دیے ہیں جن پر چل کر دنیا اور آخرت دونوں درست ہو جاتے ہیں۔
موت کے بعد انسان کو اپنے آخری ٹھکانے پر پہنچنے سے پہلے آخرت کی کئی منزلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان میں سب سے پہلی منزل قبر ہے یعنی انسان کو مرنے کے فوراً بعد قبر میں ڈالا جاتا ہے…… جہاں اللہ تعالا کے بھیجے ہوئے دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اور اس سے اس کے معبود اس کے رسول اور اس کے دین کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ مردے کو ان تمام سوالوں کا جواب دینا پڑتا ہے۔ حضرت عثمان غنی ؓ فرماتے ہیں کہ یہ باز پرس سب سے پہلی جواب دہی ہے۔ اگر آدمی اس میں کامیاب ہوجائے اور فرشتوں کے سوالوں کا صحیح جواب دے دے، تو وہ قبر کی منزل سے گزر جاتا ہے اور اس کے بعد باقی جتنی منزلیں آتی ہیں، ان سب کو وہ بڑی آسانی سے طے کرلیتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کوئی شخص فرشتوں کے سوالات کا صحیح جواب نہ دے سکے اور قبر کی منزل سے نجات نہ پاسکے، تو اس کے بعد کی آنے والی منزلیں اس منزل سے بھی سخت تر ہوتی ہیں۔ اگر کوئی شخص زندگی بھر پکا مسلمان رہا، اپنے عقاید پر مضبوطی سے قائم رہا۔ سرکارِ دوعالمؐ کی تعلیمات اور ارشادات پر عمل کرتا رہا۔ دین کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رہا، تو اسے قبر میں بھی صحیح جواب دینے میں جھجک نہ آئے گی۔ وہ بڑی بے باکی اور جرات کے ساتھ جواب دے سکے گا۔ اسی طرح آخرت کی باقی منزلیں بھی بڑی آسانی کے ساتھ طے کرتا چلا جائے گا۔
اس کے برعکس جو شخص دنیا میں بے عقیدہ رہا، سچے دین پر قایم نہ رہ سکا، اسے قبر میں بھی فرشتوں کے سوالات کا صحیح جواب نہ آئے گا۔ باقی منزلیں بھی اس کے لیے سخت تر ہو جائیں گی۔ درحقیقت دنیا پیٹھ موڑ کر جارہی ہے اور آخرت سامنے سے آرہی ہے۔ ہمیں دنیا کے چاہنے والوں میں سے نہیں…… بلکہ آخرت کی فکر اختیار کرنے والے بننا چاہیے۔ کیوں کہ آج کا دن کام کا ہے، حساب کا نہیں…… اور کل کا دن حساب کا ہوگا کام کا نہیں۔ آج تو عمل کی مہلت ہے جو کل نہ رہے گی۔ آج جو کچھ کیا ہوگا کل اس کے بارے میں باز پرس ہوگی، اور اس کے مطابق جزا و سزا ملے گی۔
…………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔