29 total views, 1 views today

مسلمانوں کے لیے روزہ خالصتاً ایک روحانی عمل ہے…… مگر سائنس روزہ کے اعصابی، جسمانی، روحانی اور توازنِ غذائیت کے فواید آشکار کرچکی ہے۔
صدیوں سے رمضان المبارک مسلم دنیا میں خوشیوں اور سعادتوں کا ماہ تصور کیا جاتا ہے۔ ’’سکیریا یونیورسٹی‘‘ کے شعبۂ طب کے پروفیسر’’مورات الیمندار‘‘ کے مطابق سائنسی شواہد اس بات کو ثابت کر تے ہیں کہ موجودہ مہلک وبا کے دوران میں روزہ رکھنا کیسے انتہائی مفید ہے؟ اگر کوئی فرد باقاعدہ نیند، مناسب اور بروقت غذائیت سے بھرپور کھانے اور زندگی کے عام معمولات کو باقاعدگی سے ادا کرے، تو اسے دوسروں کی نسبت زیادہ فایدہ پہنچتا ہے۔
متذکرہ بالا عوامل کے برعکس عمل کرنے والے روزہ دار ان فواید سے محدود انداز میں مستفید ہوپاتے ہیں۔ زمانۂ قدیم سے ہی مختلف سائنس دان اور مذاہب روزہ کے طبعی فواید بارے بات کرتے رہے ہیں۔ سب متفق ہیں کہ روزہ جسم میں ’’میٹابولزم‘‘ کے نظام کو خودکار انداز میں نئے سرے سے بحال کر تا ہے۔ یہ ’’ڈی ٹوکسیکیشن‘‘ کے عمل کو تیز کر تا ہے۔ یہ عمل انسانی ذہن کے لیے بہت کار آمد ہے۔
روزہ کے دوران میں انسانی دماغ ’’نیٹروفیکٹر‘‘ BDNF کو متحرک کرتا ہے جو اعصابی خلیوں کی پیداوار کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ خلیے انسانی جسم میں موجود میٹابولزم نظام کے اہم حصے ہیں جو جسم میں محکمۂ تعمیر و مرمت کی طرح کام کر تے ہیں۔ ان کے ذریعے جسم ختم ہو جانے والے ٹشوز کو نہ صرف دوبارہ سے بناتا ہے…… بلکہ خراب ٹشوز کو ٹھیک کرنے کا کام بھی سر انجام دیتے ہیں۔ یہ خلیے خون کے سفید خلیوں کی پیداوار، ان کی تقویت دینے کے ساتھ ساتھ کسی بیماری کی صورت میں جسم میں موجود قدرتی نظامِ مدافعت کو طاقت ور بناتے ہیں۔ روزہ اور جسم میں "BDNF” میں رطوبت کی سطح میں بلندی کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔
روزہ کی وجہ سے زیادہ خلیوں کی پیداوار انسانی دماغ کے لیے بہت مفید ہے۔ روزہ دماغ کو مناسب آرام بھی فراہم کرتا ہے۔ جب جسم کے باقی حصے جیسا کہ معدہ اور دیگر عضو…… روزے کی وجہ سے جب ہم کھانا پینا بند کر دیتے ہیں، تو جسمانی عضو کی معمول کی سرگرمی رُک جاتی ہے جس سے جسم کے دیگر حصوں کے ساتھ دماغ کو بھی آرام میسر آتا ہے۔ انسانی دماغ میں 100 بلین سے زیادہ اعصاب بیک وقت ایک دوسرے سے مسلسل رابطہ قایم کیے ہوتے ہیں۔
رمضان کے دوران میں جسم میں کم غذائیت کی ترسیل کی وجہ سے انسانی دماغ کو موصول ہونے والے پیغامات اور سگنلز کی تعداد میں خاطر خواہ کمی واقع ہوتی ہے۔ روزہ کی وجہ سے ہمارا دماغ آرام کرنے کے بعد دوبارہ پہلے سے بہتر انداز میں کام شروع کردیتا ہے۔
روحانی نقطۂ نظر سے بھی دماغ جب زندگی کے لیے کسی خاص چیز کی اہمیت اور اس کی تکمیل کو محسوس کرتا ہے، تو اسے راحت، آرام اور تسکین ملتی ہے۔ کسی اچھے اور نیک مقصد کی تکمیل کے بعد ملنے والی خوشی اور راحت بھی انسان کی دماغی اور نفسیاتی صحت کے لیے بہت مفید ہے۔ یہ وہی راحت ہے جو ہمیں رمضان میں روزے اور عبادات کے ذریعے نصیب ہوتی ہے۔
رمضان میں روزہ کے سبب دماغی آرام اور کم اعصابی بوجھ کی وجہ سے ہمارے اندر توجہ کی بھرپور صلاحیت پیدا ہو تی ہے۔ روزہ صرف کھانے پینے سے رُکنے کا نام نہیں…… بلکہ اس کے اندر بے پناہ دیگر اُمور شامل ہیں جن سے پرہیز کرنے ہی سے روزہ کی روح کو پایا جاسکتا ہے۔ اپنی عادات، خواہشات، منفی رجحانات پر قابو پانے سے نہ صرف قوتِ ارادی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ روحانی اعتبار سے بھی اعلا صفات پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔
روزہ انسان کو اس کی زیادہ تر سابقہ سرگرمیوں سے روک کر اعصابی تقویت کا سبب بنتا ہے۔ قرآنِ پاک کی تلاوت سائنسی لحاظ سے پریشانی اور اضطراب سے نجات دلاتی ہے اور انسانی دماغ میں توجہ کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔
سائنسی اور طبعی نقطۂ نظر سے روزہ سے ہمارے اندر نیند اور غذائیت میں توازن پیدا ہوتا ہے۔
سائنسی کے مطابق اگر ہم رمضان کے معمولات کو رمضان کے علاوہ بھی اپنی زندگی کاحصہ بنالیں، تو ہمارے بہت سارے طبعی، روحانی اور نفسیاتی مسایل حل ہوجائیں۔ تراویح پڑھنے کے بعد سحری تک تھوڑی دیر کے لیے سو جانا بھی طبعی نقطۂ نظر سے انتہائی مفید ہے…… جو عرفِ عام میں قیلولہ یا نیپ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ مختصر نیند دماغ کو آرام پہنچانے کا ایک ذریعہ ہے۔ ہمارے جسم کو خوراک کی طرح مناسب نیند اور آرام کی بھی اشد ضرورت ہے۔ قیلولہ سے ہمارے اندر روحانیت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
روزہ نظامِ انہضام کو بھی بہتر بناتا ہے۔ سائنسی لحاظ سے جسم کے اعضا کو سال میں کم از ایک مرتبہ ’’ڈیٹوک سفائی‘‘ کا موقع ملنا چاہیے، اور رمضان المبار ک کا مہینا یہ موقع فراہم کرتا ہے۔
روزے کے ذریعے ہم جسم میں موجو د چربی کو استعمال کرتے ہیں جس سے ہماری نہ صرف صحت بہتر ہوتی ہے…… بلکہ ہمیں جسم میں موجود فالتو چربی سے بھی نجات مل جاتی ہے۔ غذا کی عدم دست یابی کی صورت میں جسم کے اندر موجود چربی کا ذخیرہ استعمال میں آتا ہے۔ اس کی وجہ سے جسم میں موجود نقصان دہ ’’ٹوکسن‘‘ مر جاتے ہیں۔
سال بھر ہمارہ معدہ غذا کے انہضام میں دن رات مصروف رہتا ہے۔ رمضان میں روزے کی وجہ سے ہمارے معدے کو کم بوجھ کی وجہ سے آرام کا موقع ملتا ہے۔ معدے کے آرام اور کم بوجھ کی وجہ سے ہمارا جسم دیگر نظاموں پرتوجہ دے پاتا ہے جیسا کہ نظامِ قوتِ مدافعت۔
روزہ ہمیں ’’اوکسیڈیٹو سٹریس‘‘ جو کینسر کا سبب بنتا ہے، سے محفوظ رکھتا ہے اور کینسر پھیلانے والے خلیوں کی رفتار کو سست کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں ماہرینِ غذائیت اس بات پر متفق ہیں کہ روزہ وزن کو کم کرنے کے لیے موثر ترین اور سب سے سستا طریقہ ہے۔ موجودہ دور میں وزن میں بے جا غیر ضروری اضافہ شہروں میں ایک بڑی بیماری بن چکا ہے، جو کئی دیگر امراض کو جنم دیتا ہے، جن میں دل کا دورہ جیسا جان لیوا مرض بھی شامل ہے۔ کم کھانے سے جسم میں انسولین کی مقدار کم ہوتی ہے جو شوگر جیسی عام بیماری کے خلاف لڑنے میں مدد دیتا ہے۔
سائنسی اعتبار سے جو افراد رمضان کے روزے رکھتے ہیں، ان کے جگر کی حالت بھی دوسروں کی نسبت کافی بہتر ہوتی ہے۔ کیوں کہ روزہ رکھنے سے چکنائی کی مقدار کم ہوجاتی ہے۔ بہت ساری سائنسی تحقیقات کے مطابق روزہ جسم میں کولیسٹرول کی مقدار کو قابو کرتا ہے اور چربی والے ٹشوز کو کم کر تا ہے۔ اس سے دل کے امراض کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ہمارے جسم میں ’’ایڈیپونیکٹن‘‘ نامی ایک ہارمون موجود ہے جو ہمارے دل کی حفاظت کے ساتھ گلوکوز کی سطح کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ سائنسی تحقیق کے مطابق روزہ اِس ہارمون کو زیادہ متحرک اور جان دار بنانے میں مدد دیتا ہے۔
عام طور پر اِفطار میں زیادہ کھانا نہیں کھایا جاتا۔ کیوں کہ ایسا کرنے کی صورت میں سحری میں کم کھایا جائے گا اور اِفطار تک کام کاج سر انجام دینے میں مشکل درپیش آتی ہے۔
سائنسی لحاظ بے بھی اِفطاری میں کم کھانا مفید ہے۔ بصورتِ دیگر آنتوں اور معدے کی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔ اِفطار کو دوحصوں میں کرنا سائنسی اعتبار سے زیادہ مفید ہے۔
………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔