39 total views, 1 views today

قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشادِ باری تعالا ہے: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم متقی بن جاؤ! (سورۃ البقرۃ 183)
خالقِ کاینات اللہ عز و جل نے روزوں کی فرضیت کا مقصد بتاتے ہوئے فرمایا، تاکہ تم متقی بن جاؤ۔
قارئین! رمضان المبارک کے ’’عشرۂ مغفرت ‘‘ کا آغاز ہورہا ہے، جوکہ اپنے اندر پہلے سے زیادہ اجر و ثواب سموئے ہوئے ہے۔ رمضان المبارک وہ مہینا ہے کہ جس میں نفل نماز کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب 70 گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔ نہ جانے آیندہ سال اس ماہِ مبارک کے ایام ہمیں نصیب ہوں یانہ ہوں۔ ہمیں ان ایام میں زیادہ سے زیادہ عبادت اور توبہ و استغفار کرنا چاہیے۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس ماہ میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں سمیٹ کر اللہ ربّ العزت کی رضا اور خوش نودی حاصل کرنے میں کامیاب و کام ران ہو رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ کلیم اللہ، اللہ ربّ ذوالجلال سے ہم کلام ہوتے، زمان و مکاں اورراز و نیاز کی باتیں ہوتیں۔ ایک دن حضرت موسیٰ نے اپنے خالق سے سوال کیا کہ اس وقت کاینات میں، مَیں واحد بندہ ہوں جسے آپ سے بات کرنے کا شرف حاصل ہے۔ بتائیے، یہ اعزاز کسی اور کو بھی نصیب ہوگا؟ خالقِ کاینات نے ارشاد فرمایا، اے موسیٰ! اس دنیا میں ایک ایسی بھی امت آنے والی ہے جب میرے اور ان بندوں کے درمیان کوئی پردہ حایل نہیں ہوگا۔ حضرت موسیٰ حیران ہوئے۔ باری تعالا! وہ کیسے؟ اللہ تعالا نے فرمایا! یاد رکھ موسیٰ! تیرے اور میرے درمیان کلام اور ملاقات کی صورت بے شمار پردے حایل ہیں جب کہ آمدہ امت کے ساتھ یہ معاملہ ہرگز نہیں ہو گا۔ اس پر حضرت موسیٰ کی حیرت میں مزیداضافہ ہو گیا۔ انہوں نے عرض کیا، کاینات کے مالک! بتائیے وہ کون خوش نصیب ہوں گے؟ اللہ تعالا نے ارشاد فرمایا، وہ امتِ محمدیؐ ہوگی۔ ان میں سے وہ لوگ جو ماہِ رمضان کے ایام پاکر صرف میری رضا و خوش نودی کے لیے روزے رکھیں گے اورپھر وقتِ اِفطارنڈھال جسم، خشک زباں اور منھ کی مہک کے ساتھ جو دعا مانگیں گے، مَیں قبول کروں گا…… کیوں کہ اس لمحے ان کے اور میرے درمیان کوئی پردہ، کوئی فاصلہ نہ ہوگا۔
روزے دار کے متعلق اللہ تعالا کا ارشاد ہے کہ روزہ خاص میرے لیے ہے…… اور مَیں ہی (جس طرح چاہوں گا) اس کا اجر و ثواب دوں گا۔ میرا بندہ میری رضا کے واسطے اپنی خواہشِ نفس اور اپنا کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے (پس میں خود ہی اپنی مرضی کے مطابق اس کی اس قربانی اور نفس کشی کا صلہ دوں گا۔) روزہ دار کے لیے دو مسرتیں ہیں، ایک افطار کے وقت اور دوسری اپنے مالک الملک کی بارگاہ میں حاضری اور شرفِ ملاقات کے وقت۔ روزہ دار کے منھ کی بو اللہ تعالا کے نزدیک مشک کی خوش بو سے بھی بہتر ہے، یعنی انسانوں کے لیے مشک کی خوش بو جتنی اچھی اور جتنی پیاری ہے، اللہ تعالا کے ہاں روزہ دار کے منھ کی بُو اس سے بھی اچھی ہے۔ روزہ دنیا میں شیطان و نفس کے حملوں سے بچاؤ کے لیے اور آخرت میں آتشِ دوزخ سے حفاظت کے لیے ڈھال ہے۔
رمضان المبارک خیر وبرکت، ہم دردی و اخوت کا مہینا ہے۔ اس ماہ کی راتوں میں اللہ تعالا کی جانب سے تین مرتبہ اعلان کیا جاتا ہے کہ کوئی ہے توبہ کرنے والا، مَیں جس کی توبہ قبول کروں۔ کوئی ہے مانگنے والا مجھ سے، تو مَیں اس کو دوں۔ کوئی ہے معافی مانگنے والا کہ اس کو معاف کردوں۔
اگر کوئی مسلمان عشرۂ مغفرت میں اپنے پچھلے تمام کبیرہ گناہوں سے سچے دل سے توبہ کرلے، تو اس کے صغیرہ گناہ روزے کی برکت سے معاف فرما دیے جاتے ہیں اور وہ شخص گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتا ہے جیسے اس کی ماں نے اسے ابھی جنم دیا ہو۔ بلاشبہ جس کسی کو اللہ تعالا کی مغفرت مل گئی، اسے سب کچھ مل گیا۔ حق تعالا شانہ تو اپنے بندوں کو معاف کرنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔ جب کسی بندے سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے، تو اللہ تعالا کی جانب سے اُسے مہلت دی جاتی ہے کہ شاید اب بھی یہ معافی مانگ لے، شاید اب بھی یہ میری طرف رجوع کرلے۔ حدیثِ مبارکہ ہے کہ جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے، تو آسمان اللہ تعالا سے عرض کرتا ہے:’’اے اللہ! تو مجھے اجازت دے کہ میں اس پر ٹوٹ پڑوں۔‘‘ زمین کہتی ہے:’’اے اللہ، تو مجھے اجازت دے کہ میں اسے اپنے اندر دھنسالوں۔‘‘ اس موقع پر مالک الملک کا ارشاد ہوتا ہے:’’اگر یہ تمہاری مخلوق ہے اور تم اس کے خالق ہو، تو تمہیں اجازت ہے۔ اور اگر یہ میرے بندے ہیں اور میں ان کا خالق ہوں، تو میرے بندے کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو۔ مَیں اس بات کا انتظار کروں گا کہ یہ مجھ سے رجوع کرلے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگ لے۔‘‘
حضرت عبداللہ بن عمروؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا: ’’روزے اور قرآن دونوں بندے کے لیے شفاعت (سفارش) کریں گے۔ روزے عرض کریں گے: ’اے پروردگار! مَیں نے اس بندے کو کھانے پینے اور نفس کی خواہش پورا کرنے سے روکے رکھا تھا، آج میری سفارش اس کے حق میں قبول فرما‘، قرآن کہے گا: ’ مَیں نے اس بندے کو رات کو سونے اور آرام کرنے سے روکے رکھا تھا، آج اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔ چناں چہ روزہ اور قرآن دونوں کی سفارش بندے کے حق میں قبول فرمائی جائے گی‘‘ ( مشکوٰۃ)۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتؐ نے ارشاد فرمایا کہ ’’تین آدمیوں کی دعا رد نہیں ہوتی۔ ایک روزہ دار کی افطار کے وقت، دوسرے عادل بادشاہ کی اور تیسری مظلوم کی ۔‘‘
حضرت سہل بن سعد ساعدیؓ سے روایت ہے کہ سرکارِ دو عالمؐ کا فرمانِ عظیم ہے: ’’جنت کے دروازوں میں ایک خاص دروازہ ہے جس کو ’باب الریان‘ کہا جاتا ہے۔ اس دروازے سے قیامت کے دن صرف روزہ داروں کا داخلہ ہوگا۔ ان کے سوا کوئی اس دروازے سے داخل نہیں ہوسکے گا۔ اس دن پکارا جائے گا کہ کدھر ہیں وہ بندے جو اللہ کے لیے روزے رکھا کرتے تھے اور بھوک پیاس کی تکلیف اٹھایا کرتے تھے؟ وہ اس پکار پر چل پڑیں گے۔ جب وہ روزہ دار اس دروازے سے جنت میں پہنچ جائیں گے، تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا۔ پھر کسی کا اس سے داخلہ نہیں ہو سکے گا۔‘‘
ریان کے لغوی معنی ہیں ’’پورا پورا سیراب۔‘‘ آگے جنت میں پہنچ کر جو کچھ اللہ تعالا کے انعامات ان پر ہوں گے، ان کا علم تو بس اللہ تعالا ہی کو ہے۔ اس مبارک ماہ کی ان تمام فضیلتوں کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کو اس مہینے میں عبادت کا خاص اہتمام کرنا چاہیے اور کوئی لمحہ ضایع اور بے کار نہیں جانے دینا چاہیے۔ ہم اپنے تمام صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے معافی مانگ کر اللہ تعالا کے حضور پاک و صاف پیش ہوسکتے ہیں۔ اللہ پاک ہم سب کو اپنے نفس کا تزکیہ کرکے تقوا اختیار کرنے کی توفیق عطاء فرمائے، آمین!
…………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔