ہر انسان کے لیے والدین کا رشتہ قریب ترین اور عزیز ترین ہوتا ہے۔خدا تعالا کے نزدیک یہ ایک مقدس رشتہ ہے۔ کیوں کہ اس دنیا میں انسان کے لانے کا ذریعہ والدین ہی ہوتے ہیں۔ لہٰذا اسلام والدین کے حقوق پر زیادہ زور دیتا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ نے اپنے حقوق کے بعد والدین کے حقوق کے بارے میں فرمایا: ’’تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو، مگر صرف اللہ کی، والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بوڑھے ہوکر رہیں، تو انہیں اُف تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑک کر جواب دو، بلکہ ان کے ساتھ احترام سے بات کرو، نرمی اور احترام کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو، اور دعا کیا کرو کہ پروردگار، ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے بچپن میں مجھے رحمت اور شفقت سے پالا تھا۔‘‘ (سورۂ بنی اسرائیل، پارہ 23، آیت 24)
اسی طرح قرآن کریم میں اللہ تعالا یہ بھی فرماتا ہے: ’’و باالوالدین احسانا!‘‘ یعنی والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔
بچے کی نگہداشت اور پرورش میں ماں کا بڑا کردار ہے۔ 10 ماہ تک پیٹ میں رکھنے کے بعد جب کہ اس دنیا میں آتا ہے، تو شیر خوارگی سے بچپن تک بچے کی نگہداشت کے سلسلے میں ماں کو کٹھن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ بچے کو وقت پر خوراک، سردی گرمی سے بچاؤ اور صفائی کا خیال رکھنا اور بیماری کے وقت بچے کو ڈاکٹر کو دکھانا وغیرہ یہ تمام ذمہ داریاں ایک ماں کو ہمہ وقت نبھانا پڑتی ہیں۔ غور کا مقام ہے کہ ماں کے علاوہ وہ کون سی ہستی ہے جو یہ تمام ذمے داریاں سنبھالے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ قرآنِ کریم میں اپنے بندے سے مخاطب ہے: ’’وشکرلی والوا لدیک‘‘ یعنی میرا اور اپنی ماں کا شکر ادا کیا کرو۔
اولاد کی نگہداشت اور تربیت میں والد کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ باپ گھر کا کفیل اور بچوں کا مربی ہوتا ہے۔ اولاد کی روزی روٹی اور پرورش کی خاطر وہ زمانے کا سرد و گرم سہتا ہے اور تا عمرِ آخر وہ اولاد کی ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ والدین کی ان خدمات کے صلے میں اولاد ان کا عُشرِ عَشیر بھی نہیں دے سکتی، لیکن اس دنیا میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو والدین کے ان احسانات اور خدمات کو بھلا کر اللہ تعالا کی طرف سے مقرر کردہ ان کے حقوق کو پسِ پشت ڈالتے ہیں۔ گذشتہ کچھ عرصہ سے وطنِ عزیز میں پے در پے کچھ ایسے واقعات منظرِ عام پر آئے کہ بعض بدبخت افراد نے والدین کو گھروں سے نکال دیا۔ یہ مناظر جب پرنٹ، سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر عوام نے دیکھے، تو ہر حساس آدمی کا دل بھر آیا یہ مناظر اہلِ اقتدار نے بھی دیکھے۔ چناں چہ ایسے بدبخت اور والدین کی نا فرمان اولاد کے لیے اربابِ اقتدار کو قوانین بنانے پر مجبور کیا، تاکہ مستقبل میں ایسے دل دوز واقعات رونما نہ ہوں۔
اس سلسلے میں سینٹ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے اجلاس میں وفاقی وزیرِ قانون و انصاف نے کہا ہے کہ اولاد کو کسی بھی صورت یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ والدین کو گھر سے نکال دے۔ چناں چہ وزیرِاعظم نے ہدایت کی کہ اس کے لیے جلد از جلد آر ڈی نینس لایا جائے۔ وزیرِ قانون کے مطابق مجوزہ آرڈی نینس کے تحت ’’والدین کو گھر سے نکالنے والے کو ایک ماہ کی سزا ہوگی۔‘‘
والدین کی خدمات کو فراموش کرنے والے اور خدا اور رسولؐ اللہ کی طرف سے اولاد پر عاید کئے گئے حقوق کو پامال کرنے والی اولاد یقینا دنیا و آخرت میں عذابِ الٰہی کا شکار ہوگی…… لیکن جہاں تک مجوزہ سزا کا تعلق ہے، تو یہ اس جرم کے لیے نا مناسب اور ناکافی ہے۔ لہٰذا ہمارے خیال میں سزا ایسی ہونی چاہیے جس سے دوسرے لوگ عبرت پکڑ سکیں اور سزا یافتہ شخص دوبارہ ایسے جرم کا ارتکاب نہ کرے۔
……………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔