38 total views, 1 views today

رمضان 1443ء کے مبارک مہینے کا آغاز ہونے والا ہے۔ یہ ماہِ مقدس اگر ایک طرف رحمتوں اور برکتوں کا حامل اور نیکیوں کی بہار ہے…… تو دوسری طرف تاجر حضرات کے لیے ایک آزمایش بھی۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں بعض تاجر جعل سازی، دھوکا دہی، ذخیرہ اندوزی اور دو نمبری میں کافی بدنام ہوچکے ہیں…… لیکن رمضان المبارک میں ان بدبختوں کے یہ کالے کرتوت اور بھی بڑھ جاتے ہیں۔
یہ ہم سب کا روز کا مشاہدہ ہے کہ اکثر دکان دار اور چھابڑی فروش عمدہ سودا یعنی (فروٹ، سبزی وغیرہ) سامنے رکھ کر گاہک کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں اور پیچھے سے ہاتھ کی صفائی سے سودا میں بے کار چیز رکھ کر عمدہ چیز کی قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔ یہ مسلمان کا کام نہیں، بلکہ سراسر ناجایز اور خلاف شرع فعل ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیثِ مبارک ہے کہ ’’جو شخص دھوکا دے، وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘
لہٰذا مسلمان تاجر کو چاہیے کہ وہ ایمان داری سے اشیا بیچے اور عیب دار مال سے گاہک کو آگاہ کرے۔
ہمارے اسلاف میں سے مسلمان تاجروں کی مثالیں ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ حفص بن غیاث نامی شخص امام ابوحنیفہ کا کاروباری پارٹنر تھا۔ ایک دفعہ امام صاحب نے اُسے سامانِ تجارت دے کر فروخت کے لیے باہر بھیجا…… اور ایک چیز کے بارے میں اُسے تصریح کی کہ اس میں عیب ہے۔ لہٰذا خریدار کو اس کا عیب بتا کر فروخت کرنا۔ تاکید کے باوجود حفص بن غیاث یہ بات بھول گیا…… اور خریدار کو عیب بتائے بغیر وہ چیز فروخت کردی۔ بعد میں امام صاحب کو جب معلوم ہوا، تو اُس نے حفص بن غیاث سے خریدار کا اتا پتا پوچھا…… لیکن اُسے یاد نہ تھا۔ اس پر امام صاحب نے اس کو اپنے کاروبار سے الگ کردیا اور سارے سامانِ تجارت کی قیمت فروخت کی…… رقم جو تین ہزار دینار بنتی تھی، صدقہ کردی، تاکہ مشتبہ مال سے بچا جاسکے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غلے کے ایک ڈھیر سے گزر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ غلے کے اندر ڈالا، تو اندر سے گیلا محسوس ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وجہ پوچھی، تو مالک نے کہا: ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم! بارش کے پانی سے کچھ غلہ گیلا ہوگیا۔ مَیں نے قصداً نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں چاہیے تھا کہ تر غلہ اوپر رکھتے، تاکہ لوگ اسے دیکھ سکیں اور دھوکا نہ کھاسکیں۔ یاد رکھو: ’’دھوکا دینے والا ہم میں سے نہیں۔‘‘
ایک بار مدینہ میں سخت قحط کا سماں تھا۔ لوگ دانے دانے کو ترس رہے تھے۔ انہی دنوں دامادِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت عثمانؓ کے ایک سو تجارتی اونٹ مدینہ پہنچے۔ تاجروں نے کئی گنا منافع پر خرید نے کی پیشکش کی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھاری منافع کو ٹھکرایا اور تمام غلہ خدا کی راہ میں ضرورت مندوں میں تقسیم کردیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے: ’’دیانت دار تاجر بروزِ قیامت صدیقین اور شہدا کی صف میں کھڑا ہوگا۔‘‘
خدا کا ایک نیک بندہ حضرت یونس بن عبیدؒ چادریں بیچتا تھا۔ جب مطلع ابر آلود ہوتا، تو گاہکوں کو رخصت کرکے دکان بند کردیتا۔ کسی نے وجہ پوچھی تو کہتا کہ ابر آلود مطلع میں فضا صاف نہیں ہوتی۔ ممکن ہے کوئی عیب دار چیز بیچوں اور گناہگار ہوجاؤں۔
یہ تھے ہمارے اسلاف جن کے کردار سے آج کل کے ان دکان داروں کے لیے نمونہ ہے، جو جعلی مال پر اصلی لیبل لگا کر گاہک کو دھوکا دیتے ہیں اور خصوصاً رمضان کے مبارک مہینے میں حرام کی کمائی سے اپنی عاقبت خراب کرتے ہیں۔
……………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔