موجودہ دور میں ساری دنیا خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں بڑھتی ہوئی آبادی اور بے ہنگم تعمیرات کی بدولت جنگلات کا خاتمہ ہورہا ہے اور کھلے قطعاتِ اراضی اور زرعی زمینوں کا رقبہ تیزی سے محدود ہورہا ہے…… جس کی وجہ سے زمینی، آبی اور فضائی آلودگی پیدا ہوتی ہے۔ یہ عوامل موسمیاتی تبدیلی کا باعث بنتے ہیں۔ نتیجے میں کرۂ ارض پر موجود جان داروں کا مستقبل مخدوش ہوتا جا رہا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ جنگلات اور زرعی اراضی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور مزید شجر کاری کو ہر شعبۂ زندگی میں لازمی قرار دیا جائے۔
اسلام دینِ فطرت ہے اور یہ ہر پہلو سے انسانوں کی بھلائی چاہتا ہے۔ جہاں تک مسلمانوں میں شجر کاری کا تعلق ہے، تو یہ تاریخی شواہد سے ثابت ہے کہ مسلمان بزرگوں اور حکم رانوں نے حتی الوسع شجر کاری کی بنجر زمینیں قابل کاشت بنائیں…… اور پھلوں اور پھولوں کے باغات لگوائے۔ آج سے چودہ سو سال پہلے یعنی بعثتِ رسولؐ کے وقت جب بڑے بڑے کارخانے، صنعتی مشینیں اور تیل سے چلنے والی گاڑیاں نہ تھیں، آبادی بھی کم تھی اور جنگلات اور کھلے قطعاتِ اراضی کی بھی بہتات تھی، تو اس وجہ سے ماحول صاف اور دریا آلودگی سے پاک تھے۔ اس وقت بھی رسولِ رحمتؐ نے ماحول کو صاف رکھنے اور اس کو صحت مند بنانے کے لیے اپنی اُمت کو تعلیم اور تلقین کی اور اُصولی ہدایات کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات کرکے مسلمانوں میں شجر کاری کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔ آپؐ نے شجر کاری کو اس حد تک اہمیت دی کہ اسے ایمان والوں پر صدقہ قرار دیا۔ آپؐ کا ارشادِ مبارک ہے کہ ’’جو مسلمان درخت لگائے یا فصل بوئے، پھر اس میں سے جو انسان یا پرندہ یا چوپایہ کھائے، تو وہ اس مسلمان کی طرف سے صدقہ شمار ہوگا اور جب تک اس درخت سے کوئی فایدہ حاصل کرتا رہے گا، تو درخت لگانے والے مسلمان کے نامہ اعمال میں نیکیاں لکھی جاتی رہیں گی۔ (بخاری و مسلم)
درخت کاٹنے کی ممانعت کے سلسلے میں رسولؐ اللہ کا ارشادِ مبارک ہے: ’’جو شخص بیری کا درخت کاٹے گا، اللہ تعالا اُسے جہنم میں ڈالے گا۔‘‘
سید الانبیاؐ نے اگر عام دنوں میں درخت کاٹنے سے منع فرمایا، تو دوسری طرف مسلمان افواج کو ہدایت فرمائی کہ دورانِ جنگ فصلوں کو نہ اُجاڑیں، درخت نہ کاٹیں اور نہروں، کنوؤں اور چشموں کو آلودہ نہ کریں، اس سے واضح ہوتا ہے کہ سرورِ کائناتؐ کی ان تعلیمات سے آبی ذخایر کے تحفظ اور ماحول کی صفائی یقینی ہوجاتی ہے۔ الغرض آپؐ کی تعلیمات میں قدرتی، آبی اور زمینی وسایل کے تحفظ اور بقا مضمر ہے۔بہ حیثیتِ مسلمان اگر ہم آپؐ کی تعلیمات پر عمل کریں، تو ایک بہتر، صحت مند اور خوش گوار ماحول تشکیل دے سکتے ہیں۔
……………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔