1,051 total views, 1 views today

بابا غندی…… پہلی دفعہ جب یہ نام پردۂ سماعت سے ٹکرایا، تو اس کی حلاوت کانوں میں رس سا گھولتی گئی۔ دل و دماغ پر ایک تقدس کا ہالہ حاوی ہوگیا۔ اس کی کیفیت ذرا مدھم ہوئی، تو پاس بیٹھے مہربان خالد حسین صاحب جن کو بلاشبہ شمال کا انسائیکلو پیڈ یا کہا جاسکتا ہے، سے استفسار کیا۔فرمانے لگے، ’’کاکا توں ایتھے جان دا خیال دلوں کڈھ دے۔ ایہہ انتہائی شمال مغرب اچ اک درگاہ اے واخان دی پٹی دے کول، جیہڑا افغانستان دا علاقہ اے۔ بورے توں تے تیرے خیال توں وی بہت دور۔‘‘ تب کہیں من میں اک ہوک اٹھی کہ اس کی زیارت کا رب شاید سبب بنا دے۔ شاید یہ قبولیت کی گھڑی تھی۔ اللہ نے سن لی اور 27 جون 2019ء کی ایک ڈھلتی سرد شام کو ہم اس روحانی درگاہ پر موجود تھے۔ دست بستہ، سر جھکے، کانپتے ہاتھوں سے دعا مانگتے اور حیران تھے کہ اس تنہائی اور بیابانی میں یہ سفید مقدس درگاہ کیسے بنی، کس نے بنائی ، بابا جی یہاں کیسے پہنچے، ہم بھی یہاں کیسے پہنچے؟ یہ بھی اک دلچسپ ماجرا ہے۔ ہمت اور حوصلے کی الگ داستان ہے۔ بورے والا سے چھے دوست دو پہیوں والے اڑن کھٹولوں پر چار، چار پہیوں والی لاڈو رانی (جیپ) پر، اسلام آباد سے مَیں نے بھی شامل ہونا تھا اپنی دو پہیوں والی سپر اسٹار پر۔
اس سے پہلے مَیں اپنے دوستوں حاجی عبدالغفار ، ملک محمد اکرم اور ایک عدد غیر ملکی مہمان کے ساتھ بابوسر، نیلم جہلم پراجیکٹ، تربیلا اور کامرہ کا چھے ، سات دن کا ٹور لگا کر بلبل بورے والا ٹریکرز حاجی میاں صابر حسین کے پاس ’’آئی ٹین‘‘ میں ڈیرے لگا چکا تھا کہ لنگوٹیے جگر ظہیر وڑایچ کا فون آیا: ’’مَیں بھی بورے والا سے روانہ ہو چکا ہوں،تم کہاں ہو ؟‘‘ مَیں نے اس کو لوکیشن بھیج دی۔ وہ بھی شام کو برستی رم جھم میں آن پہنچا۔
اسلام آباد کی آوارہ گردی کے دوران میں، مَیں نے اسے بائیک ٹور کے بڑے سبز باغ دکھائے، تو وہ مان گیا مگر اگلی صبح ناشتہ کرتے وقت مکر گیا اور ہم ذرا تاؤ بٹ نیلم وادی تک نکل گئے۔ واپس دارالحکومت آئے، تو خبر ملی کہ سر پھروں کا قافلہ پنڈی پہنچ چکا ہے۔ مَیں نے بھی انہیں آخر واہ کینٹ میں جا لیا۔
رات کو بالا کوٹ، اگلی صبح فیصل آباد سے مشہور بائیکر عامر ستار بھی آن ملے اور رات بڑاوہی، پھر اگلی آدھی رات کے بعد ’’ہوپر‘‘ 16 گھنٹے کے برف باری، بارش ، دھوپ ، چھاؤں ، سیاہ ترین رات کے رومان پرور سفر کے بعد پہنچ ہی گئے۔ ’’ہوپر‘‘ برستی بارش والی رات گزار کر اگلی دوپہر کریم آباد ہنزہ قیام، اگلے دن حسینی پل، خیبر، پسو، سوست کے نظاروں سے مست ہوتے ہوتے دھی چیک پوسٹ پر انٹری کروانے کے بعد 26 جون کو برف باری کو خاطر میں نہ لاتے سر پھرے خنجراب پاس جا پہنچے۔ شام کو لوٹے، تو سوست میں ریور ویو ہوٹل میں قیام کیا۔ اگلی صبح مورخہ 27 جون مسگر، قلم دار چی قلعہ تک خاک چھان کر پھر کے کے ایچ (شاہراہِ قراقرم) پر لوٹے اور سوست سے دوبارہ چپورسن کے سفر پر پانچ گھوڑے اور ایک گھوڑی (لاڈو رانی) دوڑا دیے۔
اک ویران، بل کھاتا، لٹکتا پتھریلا راستہ جو اونچائی پکڑتا جاتا ہے…… ہمیں یرزرچ، رمنجی، کرمن، کیل، رشت، شہر سبز، اسپنج، سب سے حسین نور آباد سے آخری گاؤں زود خون لے گیا…… مگر مزار کا نام و نشان دور دور تک نہ تھا…… جب کبھی کسی مقامی سے یا زایر سے پوچھتے ان کی ایک ہی رٹ ہوتی: ’’بس نزدیک ہی ہے!‘‘
آخر ایک گیٹ تک پہنچ گئے جو پتھر رکھ کر بند کیا گیا تھا۔ سب اترے اور اس کشمکش میں پڑگئے کہ کہیں یہ افغانستان کی حد تو نہیں۔ساجد اقبال صاحب نے فرمایا کہ یہ نہ ہو کہ ساری عمر پل چرخی جیل یا بگرام جیل میں گزارنی پڑجائے۔ اتنے میں جیپ سوار بھی آن پہنچے۔ ڈاکٹر شاہد اقبال صاحب نے قافلے کو آگے بڑھنے کا حکم دیا۔ سفر کرتے کرتے جب حوصلے ٹوٹنے کو ہی تھے کہ ایک وسیع سبزہ زار میں ایک سفید عمارت دور سے چمکتی ہوئی نظر آ ہی گئی۔ ہم بائیکنگ کی معراج، من کی مراد پانے تک پہنچ گئے، خواب کی تعبیر پا لی…… جب دربار کے اندر پہنچے، تو مقبرے کا دروازہ تالا بند پایا۔اتنے میں ایک جینز میں ملبوس پیار علی نامی نوجوان آیا، اور کہنے لگا: ’’جناب! زیارت کل صبح ممکن ہوگی، شام کو مزار بند کر دیا جاتا ہے!‘‘
شام ڈھلتے ہی ٹھنڈ بھی بڑھ گئی۔ ہمیں مزار شریف کے زایرین کے لیے بنائے گئے ہال میں پناہ مل گئی…… مگر ٹھنڈ ہڈیوں کے گودے تک اترتی رہی۔جو دوست ہال کے اندر ٹینٹ لگا کر سوئے…… وہ سکون کی نیند سوئے۔ باقی ڈبل رضائیوں اور سلیپنگ بیگوں کے اندر بھی ٹھٹھرتے رہے۔
خدا خدا کرکے صبح ہوئی۔ دھوپ نکلتے ہی سردی کم ہوگئی، تو مزار کے اندر تک رسائی ہوئی۔ عقیدت سے دعائیں مانگی گئیں اور قافلہ بوجھل دل سے رختِ سفر باندھنے لگا۔ من چلے جو دنیا سے فرار اور سکون، خاموشی اور روحانی ماحول کے متلاشی ہیں، ان کے لیے یہ بہترین انتخاب ہوگا۔ ضرور اپنی سواری پر چکر لگا کر من کو شانت کیجیے۔
…………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔