عموماً ہم اولاد اس لیے چاہتے ہیں کہ اولاد سے ہمیں خوشی اور زندگی میں طاقت ملتی ہے…… جب کہ بے اولاد شخص زندگی میں تنہائی محسوس کرتا ہے۔ اولاد بڑھاپے کی لاٹھی سمجھی جاتی ہے جب کہ بے اولاد بڑھاپے کی اس امید سے محروم ہوتا ہے۔ اولاد ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتی ہے اور بے اولاد کی زندگی اس رنگ ونور سے خالی ہوتی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اولاد ہمارے مرنے کے بعد ہمارے وجود کی نشانی بھی ہوتی ہے۔ غرض یہ کہ اولاد اللہ تعالا کی عظیم نعمت ہونے کے ساتھ ساتھ دنیاوی زندگی کی زیب وزینت بھی ہے، جیساکہ ارشاد ربانی ہے: مال اور اولاد دنیاوی زندگی کی زینت ہیں۔ (سورۃ الکہف 46)
ابنیائے کرام نے اللہ تعالا سے اولاد عطا کرنے کی دعا بھی کی۔ چناں چہ حضرت ابراہیمؑ نے اللہ تعالا سے دعا کی: میرے پروردگار! مجھے ایک ایسا بیٹا دے دے جو نیک لوگوں میں سے ہو۔ چناں چہ ہم نے انہیں ایک بردبار لڑکے کی خوش خبری دی۔ (سورۃ الصافات 100 اور 101)
حضرت زکریاؑ نے دعا کی: اور مجھے اپنے بعد اپنے چچا زاد بھائیوں کا اندیشہ لگا ہوا ہے اور میری بیوی بانجھ ہے۔ لہٰذا آپ اپنے پاس سے ایک ایسا وارث عطا کردیجیے جو میرا بھی وارث ہو اور یعقوب کی اولاد سے بھی میراث پائے۔ اے پروردگار! اسے ایسا بنائیے جو (خود آپ کا) پسندیدہ ہو…… (آواز آئی کہ) اے زکریا! ہم تمہیں ایک ایسے لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہوگا۔ (سورۃ مریم 5، 6 اور 7) اولاد سے متعلق نیک بندوں کی دعا بھی اللہ تعالا نے اپنے پاک کلام میں ذکر فرمائی ہے: ہمارے پروردگار! ہمیں اپنی بیوی بچوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔ (سورۃ الفرقان 74)
مذکورہ بالا آیاتِ قرآنیہ سے معلوم ہوا کہ اولاد اللہ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے۔ لہٰذا ہمیں اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے…… اور وہ یہ ہے کہ ہم ان کی تعلیم وتربیت میں کوئی کوتاہی نہ کریں۔ اللہ تعالا نے ارشاد فرمایا: اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ، جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ (سورۃ التحریم 6)
مفسرین کرام نے اس آیت کی تفسیر میں تحریر کیا ہے کہ ہر شخص پر فرض ہے کہ اپنی بیوی اور اولاد کو فرایضِ شرعیہ اور حلال و حرام کے احکام کی تعلیم دے اور اس پر عمل کرانے کی کوشش کرے۔ رسولؐ اللہ نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور اس کی ذمہ داری کے متعلق پوچھا جائے گا۔ امیر اپنی رعایا کا، مرد اپنے اہل وعیال کا، عورت اپنے شوہر کے گھر اور بچوں کی ذمہ دار ہے۔ (بخاری و مسلم) بچوں کی دینی تعلیم وتربیت کے لیے چند امور کا خاص خیال رکھیں:
٭ بچوں کو توحید کی تعلیم دیں:۔ اولاد کی تربیت کے لیے والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو سب سے پہلے توحیدکی تعلیم دیں۔ بچوں کی شروع سے ہی ایسی اسلامی تربیت کریں کہ وہ زندگی کی آخری سانس تک موحد رہیں۔ ان کا عقیدۂ توحید زندگی کے کسی موڑ پر نہ لڑکھڑائے۔ بچوں کے ذہن پر ایامِ طفولت سے یہ نقش کردیں کہ جس ذات کی ہم عبادت کرتے ہیں، اس کا نام اللہ ہے۔ وہ اپنی ذات وصفات میں منفرد ہے۔ اس جیسی کوئی ذات نہیں۔ اس کی بادشاہت میں کوئی شریک نہیں۔ ساری کاینات کا نفع و نقصان، موت و حیات، بیماری و شفا، اُس کے دستِ قدرت میں ہے۔ وہ غنی ہے…… اور ہم سب اس کے محتاج ہیں۔ جس وقت بچہ بولنا سیکھے سب سے پہلے اسے اپنے خالق ومالک ’’اللہ‘‘ کا مبارک نام سیکھائے۔ پھر کلمۂ توحید (لا الہ الا اللہ) سکھائے۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کی روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا: اپنے بچوں کی زبان سب سے پہلے لا الہ الا اللہ سے کھلواؤ۔ بچہ جب تھوڑا سا سمجھنے لگے، تو اس کی سمجھ کے مطابق اسے حلال و حرام کی تعلیم دیں۔ (حاکم) اللہ کی وحدانیت کی تعلیم کے ساتھ ان کو حضورِ اکرمؐ کے آخری نبی اوررسول ہونے کی تعلیم دیں اور ان کو بتائیں کہ کل قیامت تک صرف اور صرف نبی اکرمؐ کے نقشِ قدم پر چل کر ہی دونوں جہاں کی کامیابی وکامرانی حاصل کی جاسکتی ہے۔
٭ بچوں کو قرآن کریم پڑھائیں:۔ قرآنِ کریم اللہ تعالا کا پاک کلام ہے…… جو اللہ تعالا نے قیامت تک آنے والے انس وجن کی رہنمائی کے لیے آخری نبی حضورِ اکرمؐ پر وحی کے ذریعہ نازل فرمایا۔ اپنے بچوں کو سب سے قبل ناظرہ پڑھائیں۔ چھوٹی چھوٹی سورتیں یاد کرائیں۔ اگر حافظِ قرآن بنائیں تو نور علی نور۔ رسولؐ اللہ نے امت کو بکثرت قرآن کی تلاوت کا حکم دیا۔ کیوں کہ قرآن کل قیامت کے دن پڑھنے والوں کی سفارش کرے گا اور قرآن کی سفارش قبول کی جائے گی۔ (مسلم) رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا: قرآن پڑھنے والے اور اس پر عمل کرنے والے کے والدین کو ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی اور چمک سورج کی روشنی اور چمک سے بھی زیادہ ہوگی۔ (ابوداود)
٭ بچوں کی نماز کی نگرانی کریں:۔ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی ذات سے نمازوں کا اہتمام کرکے اپنی اولاد کی بھی نمازوں کی نگرانی کرے۔ جس طرح اولاد کی دنیاوی تعلیم اور ان کی دیگر ضرورتوں کو پورا کرنے کی دن رات فکر کی جاتی ہے۔ اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ ان کی آخرت کی فکر کرنی چاہیے کہ وہ کس طرح جہنم کی آگ سے بچ کر ہمیشہ ہمیشہ کی جنت میں داخل ہونے والے بن جائیں۔ رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا: بچے جب سات سال کے ہو جائیں، تو نماز کا حکم دیں اور جب دس سال کے ہوجائیں، تو نماز میں کوتاہی کرنے پر ان کی پٹائی کریں۔ دس سال کی عمر میں ان کے بستر الگ کردیں۔ (ابوداود) عام طور پر بچے سات سال کی عمر میں سمجھ دار ہوجاتے ہیں۔ اس وقت ان کو خدا پرستی کے راستے پر ڈالنا چاہیے اور ان کو نماز پڑھنے کی ترغیب دینی چاہیے۔ 10سال کی عمر میں ان کا شعور کافی پختہ ہوجاتا ہے اور بلوغ کا زمانہ قریب آجاتا ہے۔ اس لیے نماز کے معاملہ میں ان پر سختی کرنی چاہیے۔ نیز اس عمر کو پہنچ جانے پر ان کو الگ الگ لٹانا چاہیے۔ ایک ساتھ ایک بستر پر لٹانے میں مفاسد کا اندیشہ ہے۔ نماز کے ساتھ بچوں کو وقتاً فوقتاً روزے بھی رکھواتے رہیں…… تاکہ بلوغ سے قبل وہ روزہ رکھنے کے عادی بن جائیں۔ اللہ تعالا اپنے پاک کلام میں ارشاد فرماتا ہے: (اے محمدؐ!) اپنے گھر کے لوگوں پر نماز کی تاکید رکھ اور خود بھی اس پر جما رہ۔ (سورہ طہ۱۳۲) اس خطاب میں ساری امت نبی اکرمؐ کے تابع ہے، یعنی ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود بھی نماز کی پابندی کرے اور اپنے گھر والوں کو بھی نماز کی تاکید کرتا رہے۔ اللہ تعالا نے حضرت ابراہیمؑ کی دعا قرآنِ کریم میں ذکر فرمائی: اے میرے پالنے والے! مجھے نماز کا پابند رکھ اور میری اولاد میں سے بھی (یعنی مجھے اور میری اولاد کو نماز کا پابند بنادے) (سورۂ ابراہیم 40) ابراہیمؑ نے اپنے ساتھ اپنی اولاد کے لیے بھی نماز کی پابندی کرنے کی دعا مانگی، جس سے معلوم ہوا کہ ہر شخص کو اپنے ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی نمازکی فکر کرنی چاہیے۔
٭ بچوں کو قرآن و حدیث کی بنیادی تعلیم سے روشناس کریں:۔ اب عمومی طور پر ہمارے بچے اسکول اورکالج پڑھنے جاتے ہیں۔ یقینا ہم اپنے بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر اور لیکچرار بنائیں…… لیکن سب سے قبل ان کو مسلمان بنائیں۔ لہٰذا اسلام کے بنیادی ارکان کی ضروری معلومات کے ساتھ حضورِ اکرمؐ کی سیرت اور اسلامی تاریخ سے ان کو ضرور بالضرور روشناس کرائیں۔ اگر ہمارا بچہ ڈاکٹر یا انجینئر بنا…… لیکن شریعتِ اسلامیہ کے بنیادی احکام سے ناواقف ہے، تو کل قیامت کے دن اللہ تعالا کے سامنے ہمیں جواب دینا ہوگا۔ گرمی وغیرہ کی چھٹیوں کا فایدہ اٹھاکر بچوں کو قرآن و حدیث کی تعلیم دینے کا خصوصی بندوبست کریں۔ روز مرہ استعمال ہونے والی دعاؤں کو یاد کراکر ان کو پڑھانے کا اہتمام کرائیں۔ احادیث میں 40 حدیثیں یاد کرنے کی خصوصی فضیلت وارد ہوئی ہے۔ لہٰذا چھوٹی چھوٹی حدیثیں اُردو یا انگریزی یا عربی زبان میں یاد کرائیں۔ اس وقت ہندوستان میں تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ لہٰذا علمائے کرام کی تحریر کردہ تاریخ کی کتابیں ان کو ضرور پڑھائیں۔
٭ بچیوں کو شرم و حیا والے لباس پہنائیں:۔ ان دنوں ہماری مسلم لڑکیوں حتی کہ دینی گھرانوں کی بچیوں کا لباس غیر اسلامی ہوتا جارہا ہے۔ مختلف تقریبات میں ایسا لباس پہن کر ہماری مسلم بچیاں شریک ہوتی ہیں کہ دنیا کا کوئی بھی عالم اس کے جواز کا فتوا نہیں دے سکتا۔ اس لیے ہمیں اپنی بچیوں کو ابتدا ہی سے تنگ لباس پہننے سے روکنا چاہیے، تاکہ بالغ ہونے تک وہ ایسا لباس پہننے کی عادی بن جائیں…… جس میں شرم وحیا ہو، جیساکہ اللہ تعالا نے سورۃ الاعراف آیت 26 میں تقوا کا لباس پہننے کی تعلیم دی ہے۔ تقوا کا لباس وہی ہوگا جو نبی اکرمؐ کی تعلیمات کے خلاف نہ ہو، مثلاً ایسا تنگ اور باریک لباس نہ ہو جس سے جسم کے اعضا نظر آئیں، نیز عورتوں کا لباس مردوں کے مشابہ نہ ہو۔
٭ بچوں کو ٹی وی اور انٹرنیٹ کے غلط استعمال سے روکیں:۔ معاشرہ کی بے شمار برائیاں ٹی وی اور انٹرنیٹ کے غلط استعمال سے پھیل رہی ہیں۔ لہٰذا فحش وعریانیت اور بے حیائی کے پروگرام دیکھنے سے اپنے آپ کو بھی دور رکھیں اور اپنی اولاد اور گھر والوں کی خاص نگرانی رکھیں…… تاکہ یہ نئے وسایل ہمارے ماتحت لوگوں کی آخرت میں ناکامی کا سبب نہ بنیں۔ کیوں کہ ہم سے ہمارے ماتحت لوگوں کے متعلق بھی سوال کیا جائے گا، جیسا کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں ذکر کیا گیا۔
٭ بچوں کو کرکٹ دیکھنے میں وقت ضایع کرنے سے روکیں:۔ ان دنوں ہمارے بچے کرکٹ میچ دیکھنے اور اس سے متعلق دیگر معلومات حاصل کرنے میں کافی وقت لگاتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کے وقت کی نگرانی کریں، تاکہ بچوں کی زندگی کا قیمتی وقت ایسی جگہ نہ لگے جس میں ان کا نہ کوئی دنیاوی فایدہ ہے اور نہ اُخروی۔
٭ بچوں کو ادب سکھائیں:۔ بچوں کو بڑوں کا ادب کرنے، چھوٹوں پر شفقت کرنے، سب سے اچھے لہجے میں گفتگو کرنے، پڑوسی، یتیم، رشتہ داروں اور بیواؤں کا خیال رکھنے اور عام لوگوں کی خدمت کرنے کی ترغیب دیتے رہیں۔ کھانے پینے اور سونے وغیرہ میں نبی اکرمؐ کی سنتوں پر عمل کرنے ترغیب دیتے رہیں۔ گالی گلوچ، جھوٹ، غیبت، چوری، رشوت اور سگریٹ نوشی سے دور رہنے کی ان کو تعلیم دیتے رہیں۔ خود بھی پوری زندگی صرف حلال روزی پر اکتفا کریں اور بچوں کو بھی صرف حلال روزی کھانے کی ترغیب دیتے رہیں۔ وقتاً فوقتاً ان کو موت یاد دلاکر اُخروی زندگی کی تیاری کے لیے ان کی ذہن سازی کرتے رہیں۔
آخر میں میری والدین سے درخواست ہے کہ ہم اپنے بچوں کی دنیاوی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کی اپنی حد تک ضرور کوشش کریں لیکن یہ ذہن میں رکھیں: ےَوْمَ لَا ےَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونٌ،اِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِےْمٍ جس دن نہ کوئی مال کام آئے گا، نہ اولاد۔ ہاں جو شخص اللہ کے پاس سلامتی والا دل لے کر آئے گا۔ (سورۃ الشعراء 88، 89) یعنی جو اس دنیاوی زندگی میں نیک عمل کرے گا، اسی کو نجات ملے گی۔ اگر ہم نے اپنی قیمتی زندگی، اپنی اور اولاد کی دنیاوی زندگی کے مسایل کو حل کرنے میں لگا دی اور ہم اپنی اُخروی زندگی کی تیاری نہ کرسکے، تو ہمارے لیے ناکامی ہی ناکامی ہے۔ لہٰذا ہم یہ دنیاوی فانی زندگی، اُخروی زندگی کو سامنے رکھ کر گزاریں۔ اگر ہم نے اولاد کی صحیح تعلیم وتربیت کی ہے، تو ہمارے مرنے کے بعد اولاد کے ذریعہ کیے جانے والے نیک اعمال کا ثواب ہمیں بھی ضرور ملے گا، ان شاء اللہ۔
………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔