99 total views, 1 views today

اسلام میں یومِ جمعہ کو ہفتے کے دنوں کا سردار کہا گیا ہے اور اس کی بہت عظمت و فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اس دن مسلمان عبادت کے لیے جامع مساجد (بڑی مسجدوں) میں جمع ہوتے ہیں…… اور ا للہ تعالا کی خصوصی نعمتیں، رحمتیں اور برکتیں بندوں پر نازل ہوتی ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالا عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ وہ بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوا جمعہ کا دن ہے، اسی دن حضرت آدم علیہ السلام تخلیق کیے گئے، اسی دن جنت میں داخل کیے گئے اور اسی دن وہاں سے نکالے گئے اور اسی دن قیامت واقع ہوگی۔(صحیح بخاری)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالا عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن کا ذکر کیا، تو ارشاد فرمایا:’’ اس میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جس مسلمان بندے کو وہ میسر آ جائے اور وہ کھڑا ہوا نماز پڑھ رہا ہو، تو وہ اللہ تعالا سے جس چیز کا سوال کرے، اللہ تعالا اسے ضرور عطا فرمادیتا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس گھڑی کے مختصر ہونے کا اشارہ فرمایا۔‘‘ ( بخاری و مسلم)
مسلم کی ایک حدیث کے مطابق وہ گھڑی امام کے منبر پر بیٹھنے سے نمازِ جمعہ کے ختم ہونے تک ہے، اور ترمذی کی ایک حدیث کے مطابق یہ گھڑی عصر سے لے کر سورج غروب ہونے تک تلاش کی جائے۔ جمعہ کے دن ادائے شکر کے لیے نمازِ جمعہ پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد باری تعالا ہے کہ ’’مومنو! جب جمعے کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے گی، تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو۔‘‘ (سورۃ الجمعہ 9)۔
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالا عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اورجس قدر ممکن ہوا پاکی حاصل کی، پھر تیل یا خوشبواستعمال کیا، پھر نمازِ جمعہ کے لیے روانہ ہوا اور (مسجد میں پہنچ کر) دو آدمیوں کے درمیان (گھس کر) تفریق نہ کی، پھر جتنی (نفل) نماز اس کی قسمت میں تھی اداکی، پھر جب امام (خطبہ کے لیے) باہر آیا، تو خاموشی اختیار کی، تو اس شخص کے اس جمعہ سے لے کر سابقہ جمعہ تک کے سارے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔‘‘ (صحیح بخاری)
امام مسلمؒ نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالا عنہ سے ایک روایت نقل کی ہے جس میں دس دنوں کے گناہوں کی مغفرت کی بشارت ہے۔ ایک دوسری حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ ’’جو شخص جمعہ کے دن اپنا سر دھوئے اور غسل کرے اور صبح سویرے (یعنی اول وقت میں مسجد) جائے (تاکہ) شروع سے خطبہ پالے اور سوار نہ ہو (یعنی پیدل چل کر جائے)، اور امام کے قریب بیٹھے، پھر غورسے خطبہ سنے اور کوئی لغو بات زبان سے نہ نکالے، تو اس کے لیے ہر قدم اٹھانے کے بدلے ایک سال کے روزوں اور رات کو قیام کی عبادت کا ثواب ہوگا۔‘‘ (سنن ابی داؤد)
امام ابوداؤدؒ نے ایک روایت میں عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ سے نقل کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جمعہ میں تین قسم کے لوگ حاضر ہوتے ہیں، ایک وہ شخص جو جمعہ میں حاضر ہوکرلغو گفتگو (یا لغو کام) کرتا ہے، اس میں سے (یعنی جمعہ سے ) اس کا یہی حصہ ہے، دوسرا وہ شخص ہے جو دعا کی غرض سے حاضر ہوتا ہے، سو وہ ایسا شخص ہے جس نے اللہ عزوجل سے دعا کی ہے، اگر وہ چاہے، تو اسے عطا کرے اور چاہے تو نہ دے، تیسرا وہ شخص جو خاموشی اور سکوت کے ساتھ (جمعہ میں) حاضر ہوتا ہے (یعنی لغو بات نہیں کرتا اور خاموشی سے خطبہ سنتا ہے)، نہ کسی مسلمان کی گردن پھلانگتا ہے، نہ کسی کو ایذا دیتا ہے، تو یہ( جمعہ) اس کے لیے آیندہ جمعہ تک اور مزید تین دنوں تک (ہونے والے گناہوں) کا کفارہ ہے۔ ‘‘ (سنن ابی داؤد)
مذکورہ بالا روایتوں پر غور کرنے سے جہاں جمعہ کی فضیلتوں کا پتا چلتا ہے، وہیں اس بات سے بھی آگہی ہوتی ہے کہ یہ فضیلتیں چند آداب و ضوابط کے ساتھ مشروط ہیں: مثلاً غسل کرنا، نماز جمعہ کے لیے جلدی اور پیدل جانا، کسی کی گردن نہ پھلانگنا، کسی کو ایذا نہ دینا، دو آدمیوں کے درمیان نہ گھسنا، خاموش رہنا اور کوئی لغو بات زبان سے نہ نکالنا، غور سے خطبہ سننا وغیرہ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اگر جمعہ کی ان فضیلتوں کا طالب ہے، تو اس پر ان ضوابط کا اہتمام لازم ہے۔ بصورتِ دیگر اسے محرومی سے بھی سابقہ ہوسکتا ہے۔
ان دنوں مشاہدے میں یہ بات آرہی ہے کہ کچھ لوگ نمازِ جمعہ میں شرکت کے لیے دیر سے مسجد آتے ہیں اورلوگوں کی گردنیں پھلانگ کر اگلی صفوں میں جگہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ نیز دو آدمیوں کے درمیان جہاں جگہ نہ بھی ہو گھس کر ان کی ایذا رسانی کا سبب بنتے ہیں۔ اسی طرح کچھ افراد خطبہ کے دوران میں بھی گفتگو کرتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں۔ ایسے لوگ جمعہ کی فضیلتوں سے نہ صرف خود محروم ہوتے ہیں بلکہ دوسروں کی عبادت میں بھی خلل کا باعث بنتے ہیں۔ امام ابو حنیفہؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کا اتفاق ہے کہ جب امام خطبہ دے رہا ہو، تو اس وقت چپ رہنا واجب ہے، بلکہ خطبے کے دوران میں خاموش رہنے کی تاکید اس درجہ کی گئی ہے کہ بعض روایات سے پتا چلتا ہے کہ اس وقت کسی بات کرتے ہوئے شخص کو امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے تحت خاموش رہنے کے لیے کہنا بھی ایک لغو حرکت ہے، یعنی اتنا بولنے کی بھی گنجایش نہیں کہ کسی دوسرے کو خاموش رہنے کی تاکید کرے۔ قرآنِ مجید فرقانِ حمید کی سورۃ الجمعہ میں ارشادِ باری تعالا ہے کہ’’ جب نماز جمعہ ہو چکے، تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور بکثرت اللہ کا ذکر کیا کرو تا کہ فلاح پاؤ۔‘‘
اللہ ہمیں جمعہ کی عبادت خصوصی اہتمام کے ساتھ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے، آمین۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔