ہمارے ملک میں اگر مجھ سے کوئی پوچھے کہ آج کل مناسب کاروبار کیا ہے؟ تو ایک گیلانی سید ہونے کے باجود میرا جواب ہوگا ’’پیری فقیری……!‘‘ آپ نے بس یہ کرنا ہے کہ چہرے پر ریش سجا لینی ہے۔ سر پر پگڑ اور بس چار قل یاد کرنا اور کسی مضافاتی علاقہ میں جہاں آپ کو کوئی جانتا پہچانتا نہ ہو، بیٹھ جائیں۔ اﷲ اﷲ خیر سلّا۔ دولت کی ریل پیل کے ساتھ کچھ اور بھی فوائد اور اور عزت مفت۔ البتہ نام کے ساتھ یا تو سید، گیلانی، بخاری، نقوی، شیرازی وغیرہ یا پھرنقش بندی اور چشتی لگانا ضروری ہے۔ ہمارے غموں کے مارے فرسٹریشن کے شکار معصوم عوام خصوصاً خواتین ایک دم سے نذر و نیاز کے ساتھ حاضرِ خدمت ہوں گی۔ کیوں کہ ہماری قوم کے اندر تحقیق، عقل، علم اور منطق ہوتی نہیں…… بلکہ کاؤاں والی سرکار ناگے حضرت، بابا کاکی تاڑ وغیرہ وغیرہ بے شمار ہوتے ہیں۔
یعنی بہت افسوس کی بات ہے کہ دینِ خدا اور تبلیغِ رحمت العالمینؐ کا استعمال ذاتی مفادات میں بہت بے شرمی اور دلیری سے کیا جاتا ہے۔ توہم پرستی بحیثیتِ مجموعی ہمارا قومی رویہ ہے۔ کاش! کبھی ہم تحقیق کرتے۔ کاش! کبھی ہم دین کی اصل تعلیمات، اصل اولیاء ﷲ سے لیتے، نہ کہ جعلی بہروپیوں سے۔
مجھے کبھی شوق رہا ہے ان کے بارے میں جاننے کا۔ کیا آپ یقین کریں گے کہ کم از کم ہمارے برصغیر میں اسلام 99 فیصد فقیروں، خاک نشینوں اور اولیا نے پھیلایا۔ میری تحقیق ہے کہ ان میں سے ڈاکٹر ذاکر نائیک، مولانا مودودی، علامہ طالب جوہری وغیرہ لیول کا عالم ہونا تو دور بلکہ ما سوائے حضرت داتا علی ہجویریؒ یا چند ایک کو چھوڑ کر تو اکثر ہمارے یہ اولیاء ﷲ رسمی طور پر بھی ایک عام مولوی جتنا بھی تعلیم یافتہ نہ تھے۔ ان کو جھاڑ پھونک کا فن آتا تھا اور نہ ہمارے ’’ناصر مدنی‘‘ کی طرح گت بنانا اور نہ حلق توڑ کر تسبیح پڑھنا۔ وہ بالکل سادہ مزاج عام رویہ رکھنے والے انسان تھے۔ پھر وہ روحانیت کا عروج اور رابطۂ خدا میں کامل کیوں اور کس طرح بنے؟ اس کا سادہ سا جواب ہے کہ ان کا شخصی کردار اعلا اور گفتار عام فہم تھا۔ وہ محترمہ طیبہ بخاری یا محترم طاہر القادری کی طرح مشکل الفاظ کا سمندر نہیں بہاتے تھے…… بلکہ عوام سے عوام کے انداز میں اپنے مکمل اور اعلا کردار کے ساتھ مخاطب ہوتے تھے۔
روایات میں آتا ہے کہ ایک دفعہ کوئی شخص امام جعفر صادق کے پاس گیا اور کہا حضرت تبلیغ واسطے جا رہا ہوں۔ کوئی نصیحت فرمائیں۔ آپ نے فرمایا، ’’زبان بند رکھنا۔‘‘ وہ شخص حیرت زدہ ہوا اور کہا، سرکار میں تبلیغ واسطے جا رہا ہوں اور آپ کہہ رہے ہیں زبان بند رکھوں۔ آپ نے کہا، ’’زبان بندی سے مراد یہ ہے کہ تمھارا کردار اتنا عظیم ہو کہ لوگ خود آئیں تمھارے پاس…… نہ کہ تم بس گفتار کے غازی رہو۔‘‘
قارئین! آئیں مَیں آپ کو کچھ مثالیں بتاؤں جو ہمارے اولیا کی شخصیت کا احاطہ کرتی ہیں۔ پھر ان مال خور جعلی پیروں سے آپ کو موازنہ کرنے میں آسانی ہوگی۔
اسلام آباد میں ایک بڑی عظیم شخصیت مدفون ہیں ’’امام بریؒ‘‘ کے نام سے ۔ آپ کا اصل نام شاہ عبدالطیف تھا۔ نسلی اور اصلی سید تھے، لیکن ان کا نام ’’بری‘‘ مشہور ہے۔ آج اکثر لوگوں کو آپ کا اصل نام نہیں بلکہ کنیت یا معروف نام ’’بری‘‘ معلوم ہے۔ یہ نام آپ کا کیوں مشہور ہوا؟ حالاں کہ آپ یا آپ کے بزرگوں نے تو یہ نام آپ کو نہیں دیا تھا…… بلکہ اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ ایک دفعہ آپ اپنی مجلس میں موجود تھے کہ قریب راستے سے اس دور کا مقامی حکمران گزرا۔ اس نے جب دیکھا کہ بہت سے لوگ ایک خاص طرف جا رہے ہیں، تو اس نے اپنے کارندوں کو بھیجاکہ مذکورہ شخصیت کو پیش کیا جائے۔ جب سرکاری اہل کار آئے، تو سرکار بری شاہ لطیفؒ نے ان کو کہا کہ ’’میرا بادشاہ صرف اﷲ ہے۔ سو مجھے کسی دنیاوی حکمران کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔ نہ میں مجرم ہوں اور نہ میرا کوئی مفاد ہی ہے۔‘‘ بری شاہ لطیفؒ کی روحانی شخصیت اور عوام الناس میں توقیر کی وجہ سے اہل کاروں کو زبردستی کرنے کی جرات نہ ہوئی۔ سو انہوں نے حکمران کو جاکر آگا ہ کیا کہ وہ آنے سے انکاری ہیں۔ بادشاہ نے ان کو کہا کہ وہ خود آکر ملنا چاہتا ہے۔ سو بادشاہ کا یہ پیغام جب سرکاری اہلکار لائے، تو بری شاہ لطیفؒ نے کہا کہ تمھارا حکمران بے شک آ جائے، لیکن یہ بات اس کو بول دینا کہ ’’یہاں وہ ہم سے کسی اضافی پروٹوکول یا عزت کی توقع نہ کرے۔ یہاں مخلوقِ خدا کو برابر سمجھا جاتا ہے۔‘‘ بہرحال حکمران آیا اور دوسروں لوگوں کے ساتھ عام طریقہ سے بیٹھ گیا۔ بری شاہ لطیفؒ نے اس کی طرف دیکھا اور کہا کہ ’’تم کو اتنی رعایت دیتا ہوں کہ اول تم نے کوئی بات کرنی ہے، تو کر لو…… اور یہ رعایت تم کو تمھارے عہدے یا طاقت کی وجہ سے نہیں بلکہ محض اس وجہ سے ہے کہ بطورِ حکمران تم مصروف ہوگے اور تمھارا وقت زیادہ قیمتی ہے۔‘‘ بادشاہ تو پہلے ہی سے اس عظیم روحانی شخصیت اور نورانی چہرے سے متاثر تھا۔ سو بہت احترام سے آگے بڑھا اور کہا حضور اور تو کچھ نہیں، میری بس دو درخواستیں ہیں۔ ایک میرے واسطے دعا کریں اور دوسرا مجھے کوئی حکم دیں (مطلب کچھ طلب کریں)۔ حضرت صاحب نے کہا، ’’دعا تو مَیں کروں گا کہ خدا تم کو عادل و خدا ترس بنائے۔ باقی مجھے ذاتی طور پر کچھ مطلوب نہیں……!‘‘ لیکن بادشاہ نے دوبارہ ضد کی، تو بری شاہ لطیفؒ نے کہا، ’’ٹھیک ہے اگر تم ضد کرتے ہو، تو مانگ لیتا ہوں…… لیکن یاد رہے کہ پھر تم کو دینا ہوگا۔‘‘ بادشاہ نے احترام سے کہا کہ وعدہ ہے میرا ایک خدا کے ولی سے۔ مجاور اور عوام حیرت زدہ تھے کہ بری شاہ لطیفؒ بھی معاذ اﷲ لالچ میں آگئے۔ سورج کدھر سے نکلا ہے۔ بادشاہ نے کہا، حکم کریں۔ تب بری شاہ لطیفؒ نے بادشاہ سے کہا کہ ’’غور سے سن…… خدا ہمیشہ رحم کرنے والوں اور مخلوق کے لیے آسانیاں پیدا کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ ہمارا یہ خطہ یعنی پوٹھوہار بارانی علاقہ ہے۔ لوگوں کی فصلوں کا انحصار بارشوں پر ہے، اور اکثر پانی کی کمی کی وجہ سے فصلیں صحیح نہیں ہوتیں۔ سو اس وجہ سے تم سے میری یہ درخواست ہے کہ ان لوگوں کو زرعی ٹیکس یا آبیانے سے بری کر دو (مطلب ان سے یہ نہ لیا جائے)۔‘‘ بادشاہ کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اس کی ہچکی بندھ گئی اور وہ بری شاہ لطیفؒ کے قدموں میں گر گیا۔ اس نے اسی وقت حکم جاری کیا کہ اس علاقہ میں آبیانہ سے سب کو بری کیا جاتا ہے۔ شاہ عبدالطیفؒ کے اس اقدام کی وجہ سے ان کا نام ’’بری شاہ‘‘ پڑھ گیا کہ انہوں نے لاکھوں انسانوں کو اس زیادتی سے ’’بری‘‘ کروایا تھا۔
ایک اور واقعہ جو میری نظر سے گزرا ہے اجمیر شریف والے ’’خواجہ غریب نواز‘‘ کا ہے۔ آپ کا اصل نام معین الدین تھا جو کہ بعد میں خواجہ معین الدین چشتیؒ بن گیا۔ آپ کو سلطان الہند بھی کہا جاتا ہے اور بڑے بڑے راجے، مہاراجے اور بادشاہ آپ کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہوتے تھے۔ جن میں ہندو، سکھ، عیسائی، مسلمان سب شامل ہیں۔ اب آپ کو خواجہ غریب نوازؒ کے نام سے یاد رکھا جاتا ہے۔ ان کے بارے میں یوں تو کئی روایات ہیں لیکن میں صرف آج ایک روایت اپنے قارئین کے لیے بیان کرنا چاہتا ہوں۔ کہا جاتا ہے کہ آپ بہت زیادہ نفلی روزوں کا اہتمام کرتے تھے۔ یہ ایک عام سا دن تھا۔ آپ روزہ کی حالت میں مریدین کو وعظ فرما رہے تھے کہ اتنے میں ایک ہندو کھانا لے کر حاضر ہوا، تو مجاوروں نے روک لیا کہ اجازت نہیں تم کو…… ایک تو تم ہندو اور دوسرا خواجہ صاحب ویسے بھی روزہ کی حالت میں ہیں۔ تمھارا کھانا نہیں کھا سکتے…… لیکن ہندو بضد تھا کہ میں ایک دفعہ خود یہ کھانا پیش کرکے جاؤں گا۔ جب آوازیں ذرا اونچی ہوئیں، تو خواجہ صاحب ادھر متوجہ ہوئے اور ایک شخص کو بھیجا کہ صورتِ حال کا جائزہ لے۔ اس شخص نے باہر جا کر خود کو آگاہ کیا اور واپس آکرخواجہ صاحب کو ماجرا سنایا۔ تب خواجہ صاحب نے یک دم سے وہ حکم دیا کہ جس نے مریدین کو حیرت زدہ کر دیا۔ آپ نے فرمایا کہ ’’اُس ہندو کو بولو کھانا لے کر اندر آجائے۔‘‘ جب وہ اندر آیا اور اپنا مدعا بیان کیا، تو آپ نے فرمایا، ’’ہم تمھارا کھانا کھائیں گے اور ضرور کھائیں گے…… بلکہ تمھارے ساتھ مل کر کھائیں گے!‘‘ اور پھر آپ نے اس ہندو کے ساتھ بیٹھ کر اس کا لایا ہوا کھانا کھایا۔ مرید حیران تھے کہ حضرت نے روزہ توڑ دیا۔ آپ نے ان کی حیرانی کی وجہ سمجھی اور کہا کہ ’’دیکھو یہ نفلی روزہ تھا…… لیکن اگر یہ فرضی روزہ بھی ہوتا…… تب بھی روزہ کی قضا ہے۔ لیکن اگر میں اس کا لایا کھانا نہ کھاتا، تو اس کا دل ٹوٹ جاتا۔‘‘ اس کے بعد خواجہ صاحب نے کہا کہ ’’میری ایک نصیحت کو غور سے سن کر اس پر عمل کرنا۔‘‘
آپ نے کہا دیکھو روزہ ٹوٹ جائے، اس کی قضا ہے۔ نماز چھوٹ جائے اس کی قضا ہے۔ حج رہ جائے اس کا متبادل ہے…… لیکن یاد رکھنا اگر کسی انسان کا دل ٹوٹ جائے، دُکھ جائے، تو اس کی نہ کوئی قضا ہے نہ مداوا۔ اس وجہ سے کوشش کرنا کبھی تمھاری وجہ سے کسی انسان کا دل نہ ٹوٹے۔ یہ جو شخص آیا تھا کہ جس کو ہندو سمجھ کر تم نے نفرت کا اظہار کیا تھا۔ یہ بھی تمھاری طرح کا انسان ہے۔ اُسی خدا کی تخلیق کہ جس نے تم کو بنایا۔ اُس کا بھی ایک دل ہے جو ٹوٹ بھی سکتا ہے اور دکھ بھی سکتا ۔ سو خبردار! زندگی میں کسی کا دل توڑنے کی کوشش مت کرنا۔ اس کی معافی ہے نہ مداوا۔ یہ سب باتیں باہر موجود وہ ہندو سن رہا تھا۔ اس پر اس بات کا اتنا اثر ہوا کہ وہ دوسرے دن پورے خاندان کے ساتھ خواجہ غریب نواز کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا خواجہ آپ واقعی غریب نواز ہیں۔ مجھے اور میرے خاندان کو وہ دین سکھا دیں جو آپ کا ہے۔ کیوں کہ اس سوچ اور کردار والا انسان غلط ہو ہی نہیں سکتا اور یوں اس سمیت اس کا پورا خاندان خواجہ غریب نوازؒ کے رسولؐ کی گواہی دے کر خواجہ غریب نواز کے خدا پر ایمان لے آیا۔
ایک اور واقعہ پاک پتن میں مقیم فریدالدین مسعود المعروف بابا فرید گنج شکرؒ کا ہے، جہاں آج امت نے ایک تماشا لگایا ہوا ہے…… بلکہ معذرت کے ساتھ گدی نشینوں نے اپنے واسطے کمائی کا ایک ذریعہ بنایا ہوا ہے اور وہ ہے بہشتی دروازہ۔ یعنی پاکستان میں موجود امت کی اکثریت اس بات پر یقین کیے بیٹھی ہے کہ سال بھر جو مرضی کرو لیکن سال میں ایک بار دس محرم کے مقدس دن اس دروازہ سے گزر جاؤ، تو آپ بہشتی ہو جاؤ گے۔ دس محرم کو آپ اگر وہاں جائیں، تو لوگوں کی اتنی بڑی قطاریں لگی ملیں گی کہ ایک عام سمجھ بوجھ رکھنے والا انسان بھی حیرت زدہ رہ جائے۔ یعنی جہالت اور کم فہمی کی انتہا ہے کہ یہ عقیدہ آپ کا مکہ و مدینہ بارے نہیں لیکن پاک پتن بارے ہے۔ جب کہ اس پر میری معلومات اتنی ہے کہ بابا فرید گنج شکرؒ چوں کہ اس دور کے ایک تعلیم یافتہ شخص تھے…… بلکہ ان کے بہت سے اشعار تو سکھ بھی مذہبی طور پر استعمال کرتے ہیں۔ آپ کا زیادہ وقت تحقیق، تعلیم اور عبادات میں وقف رہتا تھا، لیکن عام لوگ آپ کے پاس یہ سوچ کر آتے تھے کہ وہ آپ سے روحانی فیض حاصل کریں۔ فضول بیٹھ کر احمقانہ سوالات کر کے آپ کے وقت کا غلط استعمال کرواتے تھے۔ اب آپ کسی کا دل تو توڑنا نہیں چاہتے تھے، سو آپ نے ایک اصول بنا دیا کہ اگر کسی کو روحانیت کا اتنا ہی شوق ہے، تو وہ اس ’’سلیبس‘‘ پر عمل کرے۔ وہ چالیس دن مع تہجد سمیت ایک بھی نماز قضا نہ کرے۔ بیس دن نفلی روزہ رکھے۔ ایک بار بھی جھوٹ نہ بولے۔ زیادہ سے زیادہ مخلوقِ خدا خاص کر غربا و مساکین کی کسی صورت میں مدد کرے۔ حسبِ توفیق صدقہ کرے۔ صفائی ستھرائی کا خیال جسمانی طور پر باہر بشمول اردگرد اور اندر دل کی مکمل صفائی کرے۔ پھر میرے پاس آئے، تو شاید اس پر میری تعلیمات کا اثر ہو۔ وگرنہ بنا کردار کی پختگی کے میری تعلیمات اور دعائیں تم پر اثر انداز نہ ہوں گی۔
اب لوگوں نے اس پر عمل کرنے کی کوشش کی اور جو کوئی چالیس دن کا ایک لحاظ سے چلہ کاٹ کر آتا، تو بابا فرید کے خادمین کہتے، دیکھو ایک شخص جنتی بن کر آیا۔ یعنی اس کو جنتی محض آنے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی چالیس دن کی محنت کی وجہ سے کہا جاتا۔ دروازہ چوں کہ داخلہ کا ذریعہ تھا، اس وجہ سے کہا جاتا کہ دیکھو دروازہ سے ایک جنتی روح داخل ہوئی، نہ کہ داخلہ جنتی بنا رہا ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ تاثر بن گیا کہ جو وہاں سے گزرے گا وہ جنتی ہوگا۔ پھر زمانہ کی روانی سے جب کچھ مفادات پیدا ہوئے، تو پھر یہ باقاعدہ ایک طے شدہ طریقہ سے پھیلا دیا گیا کہ جو اس دروازہ سے گزرے گا وہ کنفرم جنتی ہوگا۔ اب عوام اس جہالت پر یقین کرچکی ہے۔
برصغیر کی ایک اور عظیم شخصیت حضرت عثمان المعروف بابا لعل شہباز قلندر سہیون شریف ہیں۔ یہ اہلِ بیت میں سے تھے اور آپ کا شجرۂ نسب امام جعفر صادق سے جا کر ملتا ہے۔ آپ کی سہون میں ڈیرہ لگانے کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ تب سیہون شریف کے ہندو راجہ کے دور میں یہاں بت پرستی تو تھی…… لیکن فحاشی و بے حیائی کی بھر مار تھی۔ آپ نے یہاں قیام کر کے بہت کم عرصہ میں یہاں سے بت پرستی اور فحاشی کو ختم کر دیا…… لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ آج قلندر کی دھمال کے نام پر عین قلندر کی آخری قیام گاہ میں خواتین سمیت دھمال کے نام پر رقص کا بے ہودہ بلکہ بہت حد تک مخلوط اہتمام کیا جاتا ہے۔ حالاں کہ تاریخی طور پر یہ بات ثابت شدہ ہے کہ قلندر جب اپنے بزرگوں کی زیارت واسطے کربلائے معلی گئے، تو وہاں آپ کو بتایا گیا کہ کس طرح بعد واقعۂ کربلا امام حسین کے خاندان کو قیدی بنا کر کوفہ ابن زیاد کے دربار لایا گیا۔ کربلا کے اکلوتے باقی بچ جانے والے مرد جو امام حسین کے بیٹے علی بن حسین المعروف امام زین العابدین تھے…… کے پیروں میں بیڑیاں اور اور گلے میں وزنی طوق ڈال کر دس میل تک پیدل چلایا گیا۔ ظاہر ہے کہ بیمار آدمی کے گلے میں طوق ہو اور پاؤں میں بیڑیاں، تو چلنے میں دشواری تو ہوتی ہے…… بلکہ نارمل طریقے سے چلا بھی نہیں جاتا۔ پاؤں کو اس طرح دبا کر چلنا پڑتا ہے کہ جس طرح اچھلا جائے۔ بس قلندرؒ پر اس بات کا شدید اثر ہوا۔ کیوں کہ قلندر نہ صرف خود محبانِ آل رسولؐ تھے بلکہ وہ براہِ راست امام زین العابدین کی اولاد میں سے تھے۔ سو انہوں نے جذباتی طور اس درد کا خیال کر کے خود پاؤں میں بیڑیاں پہن کر سہون میں اس طرح اپنے احاطہ میں چلنا شروع کر دیا اور اندازہ سے ہی وہ اس طرح پاؤں چلاتے اتنی دیر کہ دس میل کا فاصلہ بن جائے ۔ یہ دہ میل ہی بگڑ کر آگے دھمال بن گیا…… لیکن قلندر کے اس عمل کو آج سہون شریف میں کس نیت سے اور کس طرح استعمال کیا جاتا ہے؟ ہمارے واسطے قابل شرم بھی ہے اور قابل فکر بھی۔
آپ ایک منٹ واسطے یہ تصور کریں کہ اگر آج حضرت لال شہباز قلندرؒ تشریف لے آئیں اور وہ یہ دیکھیں کہ کس طرح خواتین و حضرات ایک ہی جگہ دھمال ڈال رہے ہیں۔ ان خواتین کے سر پر دوپٹہ تک نہیں، تو وہ کیا سوچیں یا کیا حکم دیں گے!
اس طرح کی درجنوں مثالیں مَیں تاریخی طور پر دے سکتا ہوں کہ ہم لوگوں نے اولیاء ﷲ کا نام اس کی روح کے مطابق نہ لیا، نہ استعمال کیا۔ ایک طرف کچھ مفادات پرست جو نام نہاد گدی نشین بن گئے ہیں…… اور ان اولیا کے مزارات کو اپنے فائدے کے واسطے استعمال کر رہے ہیں۔
دوسری طرف ہمارے جاہل معصوم غموں کے مارے عوام جن کو سکون کی واحد جگہ یہی نظر آتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ آج ہمارے ملک میں معاشی بدحالی، معاشرتی بے چینی، جنسی گھٹن، سیاسی انارکی اور جذباتی بے سکونی اتنی زیادہ شدت سے بڑھ چکی ہے کہ اب عام عوام کے پاس کوئی متبادل نہیں۔ اُوپر سے نہ حکومت نہ سول سوسائٹی اس طرف متوجہ ہے۔ نہ ہمارے اساتذہ بچوں کی اخلاقی تربیت کرتے ہیں، نہ علما روحانی تربیت…… اور گدی نشین کہ جن کا اول فریضہ ہی یہ ہونا مطلوب ہے کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کی تعلیمات کی تبلیغ کریں، غربا و مساکین کی پرورش کریں، لوگوں کے جذباتی و اخلاقی رویوں کی اصلاح کریں، انہوں نے ان مزارات کو نوٹ بنانے والی مشین سمجھ کر پیسا چھاپنا شروع کر دیا ہے۔ اگر کوئی اس پر بات کرے، تو حشر علامہ ناصر مدنی کی طرح ہوتا ہے۔ اور پھر مار کھا کر مولانا کو اکٹھا پروگرام کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے اس پر ہم سب کو بطورِ ایک معاشرہ قیام کرنا ہوگا۔ لوگوں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں یہ بات سمجھانا ہوگی کہ اﷲ تعالا قرآنِ پاک میں بار بار غور و فکر کا حکم دیتا ہے۔ اسلام کی ابتدا ہی ’’اقرا‘‘ یعنی ’’پڑھ‘‘ سے ہوئی۔ اور تمام مذاہب میں سے شاید اسلام وہ واحد دین ہے کہ جس نے علم پر سب سے زیادہ ذور دیا ہے۔
قارئین، اولیاء اﷲ سے عقیدت کا یہ طریقہ نہیں کہ آپ ان کے گدی نشینوں کو مال کھلائیں۔ مزارات جا کر چرس پئیں۔ مخلوط محافل میں دھمال کے نام پر رقص کریں…… بلکہ سچی عقیدت یہ ہے کہ ان کی تعلیمات کو اپنائیں۔ ان کے کردار کو اپنائیں اور جب آپ ان کی تعلیمات کو اپنا لیں گے، تو اِن شاء ﷲ خود بخود آپ روحانی سکون سے مستفید ہوں گے۔ پھر آپ کو یہ دنیاوی مصائب بالکل حقیر محسوس ہوں گے اور یقین رکھیں یہی مقصودِ اولیاء اﷲ بھی ہے اور یہی حکم اﷲ بھی ہے۔ اس لیے جہالت سے باہر آئیں اور اندر کے سکون کو فضول حرکات میں مت تلاش کریں۔ اس جہالت سے آپ کا نکلنا ہی اولیاء اللہ کا مشن ہے۔
………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔