میں محلہ گڑھیا میں رہتا تھا، تو وہاں میرے پڑوس میں مسلمانوں کا ایک شریف گھرانا تھا۔ دہلی کے مسلمانوں کے ہاں اُرد کی ایک خاص قسم کی دال پکا کرتی ہے، جسے پھریری دال کہتے ہیں۔ یہ دال بے حد لذید ہوتی ہے۔ اُس گھر میں جب یہ دال پکتی، تو گھر کی مالکہ اپنے ملازم کے ہاتھ مجھے یہ دال ضرور بھیجتیں۔ مَیں نے ایک روز اُس خاتون کو کہلا بھیجا کہ مَیں کسی عورت کا انتظام کرتا ہوں، جو پردہ نہ کرتی ہو۔ آپ اُس عورت کو دال پکانا سکھا دیجیے، تاکہ وہ مجھے سکھا دے۔ میری اِس درخواست پر اُس خاتون نے جو جواب دیا وہ یہ تھا، اُس نے کہا: ’’مَیں دال پکانا اُس عورت کو سکھا تو دوں گی، مگر یہ تو اپنا اپنا ہاتھ ہے۔ تمام عورتیں ہی کھانا پکاتی ہیں، مگر کوئی لذیذ پکاتی ہے، کوئی بدمزا…… یہ ضروری نہیں کہ یہ عورت یا آپ بھی دال ایسی ہی پکا سکیں گے!‘‘
سردار دیوان سنگھ کے دیگر مضامین:
پبلک لائف  
جہالت میں ڈوبے ہوئے لوگ  
وضع داریاں  
معقولیت باعثِ اطمینان 
عورت اور بناو سنگار  
اس جواب پر مَیں نے دال پکانا سیکھنے والی عورت کو بھیجنے کا خیال بدل دیا۔
ہندی زبان کے مشہور شاعر بہاری نے ایک دوہا لکھا ہے، جس میں آپ فرماتے ہیں کہ بغیر عورت کے داخل ہوئے نہ تو باورچی خانہ پوتر (پاک) ہوتا ہے اور نہ عورت کا ہاتھ لگے بغیر کھانا لذیذ پک سکتا ہے۔ چاہے کوئی مرد باورچی کتنی بھی کوشش کرے۔
چناں چہ بہاری نے ایک جگہ تو عورت کو باورچی خانہ کی حور بھی لکھا ہے اور کہا ہے کہ اس حور کے بغیر باورچی خانہ کو برکت اور رونق نصیب نہیں ہوسکتی۔
کھانے کے متعلق میرا تجربہ یہی ہے کہ جس طرح اخبار کی تیاری کے لیے کاغذ، کتابت، چھپائی، ایڈیٹنگ، چھاپا خانہ کی سیاہی اور مشین مین وغیرہ، اگر تمام ہی اچھے ہوں، تو اخبار اچھا، دل چسپ اور صاف ستھرا شائع ہو سکتا ہے اور اگر ان میں سے ایک بھی نقص ہو، تو تمام کے تمام اخبار کا ستیاناس ہوجاتا ہے۔
اسی طرح ہی کھانے کے لیے بھی اچھا گھی، اچھی سبزی، اچھا نمک، اچھا کوئلہ اور نیت کا اچھا پکانے والا اور کھلانے والا بھی طبعاً فیاض ہو، تو ہی کھانا لذیذ ہوگا…… اور اگر اُن میں سے ایک میں بھی نقص ہو، تو کھانا بدمزا ہوجاتا ہے…… اور اگر عورت کھانا نہ بھی پکائے، تو بہ قول مہا کوی بہاری کے عورت صرف کھانے کو ہاتھ ہی لگا دے، تو اُس کھانے میں لذت پیدا ہو جاتی ہے۔
دیوان سنگھ مفتون
ایڈیٹر ’’ریاست‘‘ اخبار
دہلی 1960ء
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔