رات اپنے تاریک بازو کائنات پر پھیلا چکی تھی۔ فضا پر سناٹا طاری تھا۔ برف گر رہی تھی۔ لوگ اپنے مکانوں محلوں اور جھونپڑیوں میں گھسے ہوئے تھے۔ راستے ویران اور سڑکیں سنسان تھیں۔
شہر سے باہر ایک نواحی بستی میں دوسرے مکانات سے الگ ایک ٹوٹی پھوٹی جھونپڑی میں ایک نوجوان اپنی زندگی کے آخری سانس لے رہا تھا۔ اس کے قریب ہی طاق پر ایک کڑوے تیل کا ایک دیا ٹمٹما رہا تھا، جیسے وہ اپنے مالک کی حالت کا آئینہ دار ہو۔
یہ نوجوان شاعر تھا، جس نے مختصر سی زندگی میں بہت سے تجربات حاصل کرلیے تھے۔ یہ نوعمر انسان یہ محسوس کرچکا تھا کہ وہ وقت دور نہیں جب کہ وہ زندگی کے آرام و مصائب سے آزاد ہوجائے گا۔ وہ موت کا اس طرح منتظر تھا جیسے موت اُس پر کوئی احسان کرنے والی ہے۔ اُس کے زرد چہرے پر اُمید کی جھلک تھی۔ اُس کے ہونٹوں پر ایک یاس انگیز مسکراہٹ تھی اور اُس کی آنکھوں سے صبر و سکون ظاہر ہو رہا تھا، جسے اُسے دنیا سے کوئی شکایت نہ ہو۔
وہ ایک شاعر تھا، جو دولت مندوں کے اس عظیم شہر میں فاقہ کشی کی موت مر رہا تھا۔ وہ اس مادی دنیا میں اس لیے آیا تھا کہ انسان کے دل میں اپنے روح پرور نغموں کی اُمنگ اور آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کرے۔ اُس کی روح عظیم تھی، شعور کی دیوی نے اُسے دنیا میں بھیجا تھا، تاکہ وہ انسان کی روح اور اُس کے باطن کو منور کرے، انسان کے قلب کو گندگی سے پاک کرے…… لیکن آہ وہ اس خود غرض دنیا سے واپس جا رہا تھا۔ اس دنیا کو الوداع کَہ دیا تھا، مگر اُسے الوداع کہنے والا کوئی نہ تھا۔ اس دنیا کے خود غرض لوگوں سے اُسے ایک مسکراہٹ بھی نہ مل سکتی تھی۔
دیگر متعلقہ مضامین:
موت کی سرگوشی (افسانچہ) 
منفی رپورٹنگ (افسانچہ)  
چیونٹی اور پیوپا (افسانچہ)  
وہ مر رہا تھا۔ کڑوے تیل کے چھوٹے سے چراغ کے علاوہ اُس کے پاس اور کوئی نہ تھا۔ وہ اکیلا تھا، تنہا تھا، وہ رو رہا تھا۔ اُس کے سرہانے کوئی نہ تھا۔ اردگرد بھی کوئی نہ تھا۔ سوائے کاغذ کے چند ٹکڑوں کے، جن پر اُس کا پیغام لکھا ہوا تھا۔ جب اُس کے جسم میں بالکل طاقت نہ رہی، تو اُس نے اپنا ہاتھ بڑی مشکل سے سیدھا کیا اور اوپر اُٹھا لیا اور جھونپڑی کی چھت کی طرف مایوس نظروں سے دیکھنے لگا، جسے اُس کی آنکھیں چھت سے پار بادلوں سے آنکھ مچولی کرتے ہوئے ستاروں کو دیکھنا چاہتی ہوں۔
پھر وہ کم زور آواز میں بڑبڑایا: آ…… اے حسیں موت……! اے پیاری موت آجا……! میری روح تیری منتظر ہے۔
اِدھر آ……! میرے قریب آجاؤ، اور زندگی کی ان زنجیروں کو توڑ کر پھینک دو، جن کی بندش اور جن کے بوجھ سے میں تھک چکا ہوں۔
آ پیاری موت……! آجا، اور مجھے میرے پڑوسیوں سے علاحدہ کر دے…… جو مجھے پاگل دیوانہ سمجھتے ہیں۔ اس لیے کہ مَیں اُن کو فطرت کا پیغام سناتا ہوں۔ جلدی کر۔ اُنھوں نے محض اس لیے مجھے تاریکی میں دھکیل دیا کہ مَیں غریب اور کم زور پر رحم کرتا ہوں، جب کہ یہ سرمایہ پرست چاہتے ہیں کہ ان کم زوروں کو زیادہ سے زیادہ ستایا جائے۔
آ…… اے فیاض موت……! مجھے اپنے بازوؤں میں چھپا لے۔ اس لیے کہ میرے ساتھیوں کو میری ضرورت نہیں۔
آ…… اے موت……! مجھے گلے لگالے۔
آ…… اے پیاری موت……! ان ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے چوم لے، جنھیں ماں کے ہونٹوں کا لمس حاصل نہ ہوسکا، جنھوں نے کسی حسین پیشانی کو بوسہ نہیں دیا، جو کسی محبوبہ کی انگلی کی حرارت سے نا آشنا ہیں۔
اے پیاری موت……! آجا، مجھے اپنے ساتھ لے چل……!
اُس وقت مرنے والے شاعر کے سرہانے ایک فرشتہ نظر آیا، جو غیر معمولی حسن کا مالک تھا۔ اُس کے ہاتھوں میں حسین للی کے پھولوں کا حسین یار تھا۔
فرشتے نے شاعر کو اپنی آغوش میں لے لیا اور اس کی آنکھیں بند کر دیں، تاکہ وہ اس مادی دنیا کو زیادہ نہ دیکھ سکے۔ جو کچھ دیکھے صرف روح کی آنکھوں سے…… فرشتے نے اُس کے ہونٹوں کا ایک طویل بوسہ لیا، جس نے اُس کے ہونٹوں کو غیر فانی مسکراہٹ بخش دی۔
اور پھر وہ جھونپڑی ہمیشہ کے لیے خالی ہوگئی اور وہاں کاغذ کے چند ٹکڑوں کے سوا جن پر شاعر نے اپنا آخری پیغام لکھا تھا، کچھ بھی باقی نہ رہا۔
دن گزرتے رہے۔ سیکڑوں برس بعد جب اس کے شہر کے لوگ ناقدر دانی، جہالت اور ناواقفیت کی تکلیف دہ نیند سے بیدار ہوئے، تو اُنھوں نے شہر کے سب سے خوب صورت باغ میں اس شاعر کا مجسمہ نصب کیا۔ اُس کے نام پر عمارات بنائی گئیں، ادارے کھولے گئے اور لوگ ہر سال نہایت دھوم دھام سے اُس شاعر کی برسی منانے لگے…… جس کے پیغام نے اُنھیں آزادی، علم اور عرفان کی دولت سے مالا مال کیا تھا۔
آہ، انسان کی ناواقفیت کتنی ظالم ہے……!
(کلیاتِ خلیل جبران سے انتخاب)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔