پیدایش: 1608ء
انتقال: 1674ء
جان ملٹن (John Milton) انگریزی ادب کا ایک بڑا شاعر ہے، جسے شیکسپیئر کے بعد دوسرا درجہ دیا جاتا ہے۔ اُس نے اعلا تعلیم کیمبرج یونیورسٹی سے حاصل کی اور پھر اپنے باپ کے دیہاتی مکان میں تنہائی اختیار کرکے چھے سال تک اُن تمام علوم کا مطالعہ کیا، جو اُس کی دست رس میں تھے۔ وہ کئی زبانیں جانتا تھا جن میں یونانی، لاطینی، عبرانی، ہسپانوی اور اٹالین کے علاوہ معمولی عربی بھی تھی۔ اسی وسیع مطالعے نے اُس میں گہری فکر اور سوچ پیدا کی جس کا اندازہ اُس کی شاعری سے ہوتا ہے۔
جان ملٹن کا عہد سیاسی طور پر انتشار اور بحران کا تھا۔ بادشاہ اور پارلیمنٹ کے درمیان خانہ جنگی نے لوگوں کو سیاسی طور پر تقسیم کردیا تھا۔ پارلیمنٹ نے بادشاہ کو شکست دینے کے بعد اُس پر مقدمہ چلا کر اُسے قتل کی سزا دی۔ ملٹن سیاست میں ملوث ہونے کی وجہ سے حکومت کی نظروں میں مشکوک ٹھہرا اور وہ واپس تنہائی میں چلا گیا۔
اولیور کرومول جس کی وفات 1658ء میں ہوئی اور جب بادشاہت کو واپس لایا گیا، تو ملٹن کو قیدِ تنہائی سے رہائی ملی، لیکن اس کے ساتھ دوسرا صدمہ یہ پیش آیا کہ اُس کی نظر آہستہ آہستہ کم زور ہوئی اور وہ مکمل طور نابینا ہوگیا۔ لیکن اسی دوران میں اُس نے اپنی مشہور نظم "Paradise Lost” لکھی۔
جان ملٹن سیاسی طور پر ریپبلک کا حامی تھا اور یہ لازم سمجھتا تھا کہ لوگوں ہی کو حکومت کرنا چاہیے بادشاہت کو نہیں۔ وہ سیاسی نظام میں بدعنوانیوں اور برائیوں کا ناقد تھا۔ اُس کی تنقید سوال بن کر سامنے آئی ہے کہ خدا اور شیطان کے درمیان جو تصادم ہورہا ہے، کیا وجہ ہے کہ اُس میں برائیوں کا تسلط ہے اور انسان نیکی سے زیادہ بدعنوانی کا مرتکب ہوتا ہے؟
دیگر متعلقہ مضامین: 
ولیم شیکسپیئر (شخصیت و فن)  
محمد سلیم الرحمان کا ادبی مقام 
محمد کاظم، ادب کا چھپا رُستم 
کتاب ’’جانے دیں‘‘ کے دس اسباق  
ایلف شفق کے ناول ’’محبت کے چالیس اُصول‘‘ سے اقتباس 
شیطان اور برائی کا تصور ملٹن کے ہاں ابتدائی عیسائیت سے آیا جس کی عہدِ وسطیٰ میں چرچ نے تبلیغ کی۔ ملٹن کے ہاں شیطان طاقت ور نظر آتا ہے، جس نے خدا کے خلاف بغاوت کی اور اپنی ذات کو بلند و بالا رکھا۔ جہنم میں جہاں وہ ایک غار کی تہ میں عذاب سہ رہا ہے، فرشتوں سے مخاطب ہوکر کہتا ہے کہ میرے لیے یہ جہنم ہی جنت ہے، جہنم کی آزادی جنت کی غلامی سے بہتر ہے۔ شیطان کو اپنی ذات پر فخر ہے۔ اُس کی بغاوت، اُس کے پختہ ارادے اور عزائم کو ظاہر کرتی ہے۔ دوسری جانب وہ خدا کو الزام دیتا ہے کہ اِس دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ اُس کے منصوبوں کے مطابق ہے۔ یہاں تک کہ برائی بھی اُس کی جانب سے ہے اور لوگوں کو الزام دینا غلط ہے۔ ہاں قصور میرا ہے کہ وہ برائی کی جانب آئے ہیں۔
ملٹن کی اس نظم میں آدم اور حوا کے قصے کا ذکر ہے۔ اُنھیں منع کیا جاتا ہے کہ وہ علم کے درخت کی جانب نہ جائیں، لیکن وہ اس کے باوجود وہاں جاتے ہیں۔ کیوں کہ اُن کی تقدیر میں یہ لکھ دیا گیا ہے اور وہ مجبور ہیں کہ گناہ یا بغاوت کے مرتکب ہوں اور اس کی سزا پائیں۔ عیسائی عقیدے کے تحت یہ انسان کا بنیادی گناہ ہے اور اس گناہ کا کفارہ ادا کرنے کی غرض سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس دنیا میں آئے تھے۔
دنیا کے مذاہب میں خدا اور شیطان، جنت اور دوزخ، نیکی اور برائی اور ان میں انسان کا کردار یہ ایسے پیچیدہ عقائد ہیں کہ جن کی مختلف مذاہب میں مختلف تاویلیں کی گئی ہیں۔ اگر خدا ہر شے پر قادر ہے اور برائی بھی اس کے منصوبے کا حصہ ہے، تو پھر انسان کو سزا کے لیے جہنم کی کیا ضرورت ہے؟ اور اگر ہر فرد کی تقدیر سے پہلے سے ہی متعین ہے جیسا کہ جان کالون (John Calvin) نے کہا، تو پھر اس کو سزا کیوں دی جائے؟
(کتاب ’’عہدِ حاضر: تاریخ کے تناظر میں‘‘ از ’’ڈاکٹر مبارک علی‘‘ مطبوعہ ’’بدلتی دنیا پبلی کیشنز، اسلام آباد‘‘ سے مقتبس)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔