تبصرہ: انور مختار 
شہزاد حسین بھٹی صاحب ’’ہم سب بلاگ‘‘ پر اس ناول کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ایملی کا ناول ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ پہلی بار 1847ء میں ایلس بیل کے قلمی نام سے شائع ہوا، لیکن 1850ء میں شائع ہونے والا ایڈیشن ان کے حقیقی نام سے چھاپا گیا۔
یہ ناول گوتھک فکشن ہے جس میں رومانس تو موجود ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ ایسے خوف ناک واقعات بھی کہانی کا حصہ ہیں، جو پُراَسرار قدرتی طاقتوں کے زیرِ اثر ہیں۔ یہ ناول دو ایسے خاندانوں کی کہانی ہے جو پڑوسی جاگیروں ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ اور ’’تھرش کراش گرینج‘‘ کے درمیان پیچیدہ اور ہنگامہ خیز تعلقات کو بیان کرتی ہے۔ ایملی برانٹے نے محبت، جنون، نفرت اور انتقام جیسے موضوعات کی مدد سے ایسی خوف ناک کہانی خلق کی ہے کہ جو ڈیڑھ صدی گزرنے کے باوجود بھی کلاسیکی اَدب کے قارئین کو محصور کیے ہوئے ہے۔اس ناول کا اُردو ترجمہ 1985ء میں سیف الدین حسام نے کیا…… لیکن اس سے پہلے اس ناول کا ترجمہ ’’عشقِ بلا خیز‘‘ کے نام سے سید قاسم محمود نے 1961ء میں کیا، جسے 1963ء میں شمع بک ڈپو دہلی سے دہلی پبلک لائبریری کے تعاون سے شائع کیا گیا۔
اس ناول کے بارے میں ستار طاہر لکھتے ہیں کہ ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ عشقِ بلاخیز کی داستان ہے۔ پاگل کردینے والا عشق، جو مُثبت اقدار کو دبا کر منفی اقدار کو نمایاں کرتا ہے، جو ایسا وحشی جذبہ بن کر سامنے آتا ہے کہ انسانوں کو اُن کی سطح سے گرا کر وحشیوں اور جانوروں کی صف میں لاکھڑا کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا ناول ہے، جس کا سکہ ایک صدی سے زاید عرصے سے رائج ہے اور وقت کے گزرنے اور زمانے کی تبدیلیوں نے اس سکے کو دھند لایا ہے، نہ اسے بے وقعت بنایا ہے بلکہ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے، اس سکے کی قیمت میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔
’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ کی عالمگیر کشش کو ہر قاری نے محسوس کیا ہے۔ اس پر مبنی کئی بار ٹی وی ڈرامے لکھے اور پیش کیے جاچکے ہیں۔ ریڈیو کے لیے اسے بار بار دُنیا بھر میں استعمال کیا گیا ہے۔ اس پر مبنی کئی بار فلمیں بن چکی ہیں، جن میں وہ فلم خاص طور پر قابلِ ذکر ہے جس میں سرلارنس اولیور نے ہید کلف کا کردار ادا کیا تھا۔ شیکسپیئر کے بعض لازوال کرداروں کی طرح ہید کلف بھی ایک ایسا کردار ہے جسے دُنیا کے بڑے فن کار اپنے لیے ایک چیلنج سمجھتے ہوئے اسے ادا کرنے کی خواہش دل میں رکھتے ہیں۔
’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ دُنیائے ادب کا عظیم تخلیقی کارنامہ ہے۔ یہ اس لیے بھی بڑا فن پارہ ہے کہ اس کی خالق نے بھی کرب ناک زندگی بسر کی تھی، اور وہ سارا کرب اس ناول میں منتقل ہو جاتاہے۔ اس عشق میں وہ منفی قوتیں شامل ہوجاتی ہیں جنھوں نے ہید کلف کو وحشی بنا دیا۔
ایملی برانٹے کو زندگی نے اتنی مہلت ہی نہ دی کہ وہ کوئی دوسرا ناول لکھ سکے۔ اس کا پہلا اور آخری ناول ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ ہے اوراس ناول نے ہی اسے زندہ ٔجاوید کر دیا۔
دیگر متعلقہ مضامین:
جین آئر (تبصرہ)
جاپانی ناول نگار سوشاکو ایندو کا ناول ’’خاموشی‘‘ (تبصرہ)  
ملا نصیر الدین (تبصرہ)  
عمر ریوابیلا کا ناول ’’ماتم ایک عورت کا‘‘ (تبصرہ)  
کلیلہ و دِمنہ (تبصرہ)  
’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ مقامی لوگوں کی زُبان میں اس جگہ کو کہتے تھے جہاں آندھیاں چلتی ہوں، ہوائیں چیختی ہوں، طوفان آتے ہوں۔ یہ ناول بھی عشق کے طوفان اور عشق کی آندھی کا قصہ ہے۔
’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ کی ناول نگار ایملی جین برانٹے (30 جولائی 1818ء تا 19 دسمبر 1848ء) انگریزی کی مشہور ناول نگار اور شاعرہ، اپنے واحد ناول ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ کے لیے پوری دُنیا میں پہچانی گئی۔ ابتدا میں ایلس بیل (Ellis Bell) کے قلمی نام سے لکھا۔ بعداز مرگ بڑی بہن شارلٹ برانٹے کے انکشاف سے کتابیں ایملی برانٹے کے اصل نام سے شائع ہوئیں۔ پیدایش بریڈفورڈ کے نواحی گاؤں تھونٹن میں ہوئی، جہاں باپ مقامی گرجے کا پادری تھا۔ ایملی کا بچپن مشکل حالات میں گزرا۔ نوعمری میں ہی اپنی ماں اور دو بڑی بہنوں کی موت کا صدمہ سہنا پڑا۔ وبا پھیلی، تو مختصر سی تعلیم گھر پر ہی ہوئی۔ 20 سال کی عمر سے سکول میں بچوں کو پڑھانے کا سلسلہ شروع کیا۔ چار سال بعد فرنچ اور جرمن زبان سیکھنے کے لیے شارلٹ کے ہم راہ برسلز کا سفر کیا…… مگر خالہ کی ناگہانی موت کے باعث وطن واپس لوٹنا پڑا۔ ایملی اور اس کی چھوٹی بہن این چھپ کر لکھا کرتی تھیں۔ ایک روز دونوں کی قلمی بیاضیں شارلٹ کے ہاتھ لگ گئیں۔ 1846ء میں پہلی بار تینوں برانٹے سسٹرز کی شاعری یک جا صورت میں "Poems by Currer, Ellis and Acton Bell” کے ٹائٹل سے ان کے قلمی ناموں سے منظرِ عام پر آئی۔ اشاعت کے کئی ماہ تک اس کتاب کی صرف دو کاپیاں فروخت ہوسکیں، مگر ان بہنوں نے ہمت نہ ہاری اور ناول لکھنے کی طرف متوجہ ہوئیں۔ یوں شارلٹ نے ’’جین آئر‘‘، این نے ’’ایگنس گرے ‘‘ اور ایملی نے ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ جیسے لازوال ناول تخلیق کیے ۔
ایملی نے اپنی مختصر سی زندگی میں بہت دُکھ سہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اُس نے جو کرب ناک زندگی بسر کی، اس کا سارا کرب اپنے اس اکلوتے شاہ کار ناول ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ میں بھر دیا۔
ایملی کی زندگی ہمیشہ ایک معمہ رہی ہے۔ کیوں کہ اُس کی زندگی کے حالات، ماسوائے اُس کی بہن شارلٹ اور برسلز کے استاد کی زبانی، کہیں اور سے نہیں ملتے۔
پُراسرار اور شرمیلی ایملی اپنے باپ کے انتقال کے کچھ عرصہ بعد ٹی بی کا شکار ہوگئی اور ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ جیسا شاہ کار چھوڑ کر 30 سال کی عمر میں اپنے ماں، باپ اور بہنوں کے پاس چلی گئی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔