ایڈیٹر ’’ریاست‘‘ کی عمر ایک ماہ دس روز کی تھی جب والد کا انتقال ہوگیا اور یتیمی نصیب ہوئی۔ اُس وقت گھر میں روپیا، زیورات، زمین اور مکانات کے کاغذ تھے۔ کیوں کہ والد صاحب نے اپنی کام یاب زندگی میں کافی روپیا پیدا کیا تھا، مگر والد کے انتقال کے بعد رشتہ داروں نے زمین اور مکانات پر قبضہ کرلیا۔ 12 سال تک بغیر کسی آمدنی کے ضروریاتِ زندگی اور بڑے بھائی اور بہنوں کی چار شادیوں پر روپیا صرف ہونے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایڈیٹر ’’ریاست‘‘ کی عمر جب 12 سال کی تھی، تو گھر میں کھانے کے لیے بھی کچھ نہ تھا۔ چناں چہ تعلیم کا سلسلہ منقطع ہوگیا اور ایڈیٹر ’’ریاست‘‘ پانچ روپیا ماہوار پر حافظ آباد میں ایک بزاز کی دکان پر ملازم ہوا۔ کام یہ تھا کہ اندر سے کپڑوں کے تھان لا کر خریداروں کو دکھائے جائیں۔ اس ملازمت کے دو واقعات مجھے یاد ہیں، جن کا میرے کیریکٹر پر بہت نمایاں اثر ہوا۔
سردار دیوان سنگھ کے دیگر مضامین:
پبلک لائف  
جہالت میں ڈوبے ہوئے لوگ  
وضع داریاں  
معقولیت باعثِ اطمینان 
عورت اور بناو سنگار  
یہ دُکان ایک ہندو بزاز کی تھی۔ اس دکان پر ایک بوڑھا مسلمان درزی اور اس کا جوان بیٹا کام کرتے تھے۔ یہ باپ اور بیٹا حافظ آباد کے قریب کسی گاؤں کے رہنے والے تھے۔ چند دن کے لیے باپ کسی شادی میں شریک ہونے اپنے گاؤں گیا، تو اپنی غیر حاضری کے دنوں کے لیے اپنے بیٹے کو چند کپڑے سپرد کرگیا، تاکہ ان کو وہ تیار کر رکھے۔ بوڑھا درزی جب واپس آیا، تو بیٹے کے سلے ہوئے کپڑوں کو دیکھا، تو اُن میں کسی بچے کا سبز رنگ کی مخمل کا ایک کوٹ بھی تھا، جو اس کے بیٹے نے سبز رنگ کے تاگے کی بجائے سفید رنگ کے تاگے سے سیا تھا۔ اس غلطی کو دیکھ کر بوڑھے باپ نے جوان بیٹے کے منھ پر زور سے تھپڑ مارا، اور کہا کہ: نالائق تو دیہات کے رہنے والے جاٹ کے لڑکے (جس کا کوٹ سیا تھا) پر رحم نہ کرتا، مگر اس مخمل پر تو رحم کرتا، جس کا ستیاناس کر دیا۔ چناں چہ اُس مسلمان بوڑھے باپ نے مخمل کے اس کوٹ کی سلائی کو کھولا، سفید تاگے نکالے اور سبز تاگے سے سیا۔
اس واقعہ کا میری طبیعت پر ایسا اثر ہوا کہ چاہے میں نے چھے روپیا تنخواہ لی یا 12 روپیا یا دو سو روپیا اور چاہے ملازمت کی یا خود اپنا کام کیا۔ تمام زندگی ہمیشہ کام کو دیکھ کر کام کیا، نہ کہ اس کے معاوضہ کو۔ ہمیشہ 12 گھنٹے سے 18 گھنے تک کام کیا ۔ چاہے تنخواہ کچھ بھی ملتی تھی…… اور شاید ایک دفعہ بھی ایسا نہ ہوا ہو گا کہ کسی کام کو کرتے ہوئے اُس پر پوری توجہ نہ دی ہو۔
غرض میرے کیریکٹر پر اس واقعہ نے بہت بڑا اثر کیا۔
دیوان سنگھ مفتون
’’ریاست‘‘ اخبار
دہلی 1960ء
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔