تحریر: عمر خان 
رابندر ناتھ ٹیگور کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اُن کا شہرہ آفاق ناول ’’ٹھاکرانی کی ہاٹ‘‘ ٹیگور کی ابتدائی تصنیفات میں سے ہے، جس کا اُردو ترجمہ پرتھوی راج نشتر نے ’’اندھیرے میں‘‘ کے نام سے کیا ہے۔ ناول کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کا ترجمہ تقریباً سب ہندوستانی زبانوں میں ہوچکا ہے۔ اس ناول کا پلاٹ پرانے راجواڑوں سے لیا گیا ہے۔
ناول کے کرداروں میں پرتاب دت (جو کہ یشوہر کا راجا ہے)،اُس کا بیٹا ’’ادیا دت‘‘، بہو ’’سرما‘‘، بیٹی ’’وبھا‘‘ اور بیوی ’’مہارانی‘‘ شامل ہیں۔ جب کہ اس کے علاوہ راجا رام چندر رائے ( جو کہ چندر دیپ کے راجا اور پرتاب دت کے داماد ہیں)، وسنت رائے ( پرتاب دت کے چچا اور رائے گڑھ کے راجہ ہیں)، سیتا رام، رکمنی، رمائی اور رام موہن ناول کے اہم کرداروں میں شامل ہیں۔
دیگر متعلقہ مضامین:
جاپانی ناول نگار سوشاکو ایندو کا ناول ’’خاموشی‘‘ (تبصرہ)  
ملا نصیر الدین (تبصرہ)  
عمر ریوابیلا کا ناول ’’ماتم ایک عورت کا‘‘ (تبصرہ)  
ودرنگ ہائیٹس (تبصرہ)  
کلیلہ و دِمنہ (تبصرہ)  
ناول کی کہانی نفرت، محبت، سیاسی چال بازیوں، سنگ دلی اور اقتدار کی ہوس جیسے موضوعات سے تشکیل پائی ہے۔ ناول کے مرکزی کردار ’’ادیا دت‘‘ اور اس کی بہن ’’وبھا‘‘ ہیں۔ دونوں آخری دم تک ایک دوسرے کا سہارا بنے رہتے ہیں ۔ پرتاب دت کا کردار اس ناول میں ایک ظالم ، سفاک اور سنگ دل باپ کی صورت میں دکھائی دیتا ہے۔
مجھے اس ناول کو شروع کیے کافی عرصہ گزر چکا تھا جس کو بہ طورِ قاری آج تکمیل تک پہنچایا۔ زیادہ عرصہ لگنے کی وجہ یہ نہیں کہ ناول خاصا ضخیم ہے۔ ناول 150 صفحات پر مشتمل ہے۔ وجہ یہ ہے کہ میرے پاس وقت کی قلت ہے۔ صبح شام بہ وجۂ روزگار گھر سے باہر ہوتا ہوں۔ رات کو تھکا ماندا گھر آتا ہوں، تو کچھ وقت نکال کر یہ شوق پورا کرلیتا ہوں۔ بہ ہر حال ناول کی کہانی بہت اچھی ہے۔ ناول میں ربط اس قدر مضبوط ہے کہ قاری کا حوصلہ کہیں نہیں ٹوٹ سکتا۔ ناول میں کوئی مقام ایسا نہیں جہاں پڑھنے والا بے زار ہو۔
جب آپ یہ ناول پڑھیں، تو اپنی آرا سے آگاہ کیجیے گا!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔