تحریر: دیوان سنگھ مفتون 
میرے ایک مسلمان دوست کو ایک لڑکی سے محبت تھی۔ دونوں شادی کا ارادہ رکھتے تھے۔ وہ اُس لڑکی کے گھر والوں سے بات کرنے ساتھ مجھے بھی لے گیا۔ اُس لڑکی کی والدہ میرے پاس بیٹھیں۔ گھاس پر فرش بچھا تھا۔ لوگ مجھے باعزت صحافی خیال کرتے تھے۔ مَیں نے محبت پر ایک طرح سے وعظ شروع کیا کہ محبت خدا ہے اور خدا کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ وسلم بھی محبت کو پسند کرتے تھے۔ تمام نبیوں، اوتاروں اور گروؤں نے محبت کے درجہ کو بہت بلند قرار دیا ہے۔ محبت سے روح پاک ہوتی ہے اور اُس شادی کو شادی نہیں سمجھنا چاہیے، جس کی تہ میں محبت نہ ہو، وغیرہ۔
آخر میں کہا کہ چوں کہ میرے دوست اور آپ کی بیٹی کی آپس میں محبت ہے، اس لیے ان دونوں کی شادی ہو جائے، تو اچھا ہے۔ تا کہ یہ دونوں ایمان و راحت کی زندگی بسر کریں۔
لڑکی کی والدہ کو میں نصف گھنٹا کے قریب سمجھاتا رہا اور وہ میرا منھ دیکھتی رہیں اور خاموشی کے ساتھ سنتی رہیں۔
دیگر متعلقہ مضامین: 
دیوان سنگھ مفتون کی ایک پرانی تحریر  
محبت جگانے کا راز  
وضع داریاں  
معقولیت باعثِ اطمینان  
دریاؤں کے پانی کا مہمان نوازی پر اثر  
عورت اور بناو سنگار  
مَیں جب اپنی تمام نصیحتوں کا ذخیرہ ختم کر چکا، تو لڑکی کی والدہ نے پنجابی زبان میں جواب دیا:
‘‘سردار جی! آپ کس خیال میں پھر رہے ہو؟ ہمارے گھروں میں تو محبت کو بڑا عیب سمجھا جاتا ہے۔ ہماری بچیاں جب پیدا ہوتی ہیں، تو اُن کے کانوں میں کہا جاتا ہے کہ آیندہ زندگی میں جو دل چاہے کرنا، مگر کسی سے محبت نہ کرنا۔ جب یہ بڑی ہوتی ہیں، تو ایک ہی سبق دیا جاتا ہے کہ ’محبت محبت‘ کہنے والے لوگ خود غرض اور بدمعاش ہیں، جن کا مقصد یہ ہے کہ یہ شریف لڑکیوں کو گھروں سے بھگا کر لے جائیں اور برباد کر دیں۔ ہمارے دل سے پوچھو، تو ہم کہتے ہیں کہ اگر لڑکی نے کسی آشنا یا دوست سے محبت کرنی ہو، تو بہتر ہے کہ وہ مر جائے…… اور ہم اس کے جنازہ کو بھی کندھا نہ دیں۔ مَیں تو سنتی تھی کہ اخبار والے بڑے شریف آدمی ہوتے ہیں۔ آپ کہاں کے شریف ہیں…… جو لوگوں کی لڑکیوں کو برباد کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ ہمارا گھر تباہ ہو جائے گا، تو آپ کے ہاتھ کیا آئے گا……؟‘‘
مَیں یہ باتیں سن کر دنگ رہ گیا کہ لوگ کیسی جہالت میں ڈوبے بیٹھے ہیں۔صدیوں نے ان کے شعور کو ذرا نہیں بدلا۔
دیوان سنگھ مفتون
ایڈیٹر ’’ریاست‘‘ اخبار
دہلی، 1960ء
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔