مترجم: خالد محمود ایڈوکیٹ
اپنے اس خط میں تم نے ایک دوست کا حوالہ دیا ہے اور ساتھ ہی مجھے پابند کر دیا ہے کہ اس سے زیادہ راز و نیاز کی بات نہ کروں۔
یہ عجیب اُلجھن ہے، جس سے تم نے مجھے دوچار کردیا ہے۔ ایک ہی خط میں ایک شخص کو دوست قرار دینے کے بعد اُس کا انکار بھی کر دیا ہے۔ مزید آسان لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ تم نے یہ لفظ اپنے حقیقی معنوں میں استعمال کرنے کے بجائے ایسے انداز میں استعمال کیا ہے کہ جیسے ہم کسی ملنے یا جاننے والے کو پہلی ملاقات میں ’’میرے آقا‘‘، ’’جناب‘‘، ’’معزز‘‘ یا ’’صاحب‘‘ کَہ کر پکارتے ہیں اور پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اُس کا نام ہمارے حافظے سے محو ہوجاتا ہے، یعنی مٹ جاتا ہے۔ اگر تم ایسے شخص کو دوست بھی قرار دیتے ہو اور اس پر بھروسا بھی نہیں کرتے، تو تم غلطی پر ہو۔ میرے نزدیک تم دوستی کے حقیقی معنوں سے قطعاً ناواقف ہو۔
یقینا تمھیں ایک دوست کے ساتھ ہر بات شیئر کرنی چاہیے، لیکن اس سے پہلے تمھیں یہ بات اپنے دماغ سے کرنی ہوگی۔
کسی شخص کو دوست بنانے کے بعد اُس پر مکمل بھروسا کرو، لیکن بھروسا کرنے سے پہلے اُس کو پرکھ لو۔
وہ لوگ جو کسی شخص کو پرکھنے سے پہلے ہی دوست بنالیتے ہیں، ’’تھیوفراسٹس‘‘ کے بہ قول ایسے لوگوں کا عمل گھوڑے کے آگے چھکڑا باندھنے کے مترادف ہے۔
یاد رکھو……! کسی شخص کو دوست بنانے سے پہلے عرصۂ دراز تک اُسے اپنے خیالات میں بساؤ اور دوست بنانے کے بعد ہر حوالے سے اُس پر اعتبار کرو۔ دل و جاں سے اُس کا استقبال کرو اور دل کی ہر بات اُس کے ساتھ زیرِبحث لاؤ…… بالکل ایسے جیسے تم خودسے سوچتے ہو یا کرتے ہو۔
اپنے دوست کے ساتھ ہر وہ بات کرو جیسے کہ تم اپنے دشمن سے ہر اہم بات چھپاتے ہو۔ اپنی زندگی میں درپیش آنے والا ہر اچھا برا واقعہ اور خدشہ اپنے دوست کے علم میں لاؤ۔ اُسے اپنا وفادار سمجھو اور اس طرح تم اُسے اپنے وفاداروں کی فہرست میں شامل کرلوگے…… یعنی لوگوں کا خوف کہ کہیں اُن کے ساتھ دھوکا نہ ہوجائے، اُنھیں دوسروں کے ساتھ برائی کرنے پر مجبور کرتا ہے…… اور بعض اوقات وہ ایسا کر گزرتے ہیں۔ اس قسم کے خدشات اُنھیں دوسروں کو دھوکا دینے کا حق یا جواز فراہم کرتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک دوست کی موجودگی میں کوئی بات کیوں چھپاؤں؟ یہ تصور کیوں کرنا چاہتے ہیں کہ اپنے دوست کی معیت (Company) میں بھی تنہا ہوں۔
ہمیں زندگی میں دو طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے…… ایک وہ جو خود سے ملنے والے ہر شخص سے دل کی بات کرلیتے ہیں، بھلے وہ شخص اس قابل ہو یا نہ ہو۔
دوسری طرف ایسے لوگ ہیں جو ہر اچھی بری بات بغیر کسی کو بتائے اپنے دل میں ہی رکھتے ہیں۔ اگر وہ کسی متعلقہ بات کسی دوست کے ساتھ شیئر کرلیتے، تو وہ ضرور اس کی مدد کرتا۔
میرے نزدیک دونوں قسم کے لوگ غلطی پر ہیں، اور افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ ان دونوں سے اعراض کرنا چاہیے۔ ہر کس و ناکس کی وفا پر اعتبار کرنے میں بھی اتنی ہی خرابی ہے، جتنا کہ کسی پر اعتبار نہ کرنے میں۔
وہ لوگ کبھی سکون میں نہیں رہتے اور وہ جو ہر وقت آرام و سکون کی زندگی گزارتے ہیں، یقینا تمھاری نظر میں دونوں ٹھیک نہیں ہونے چاہئیں۔ ایسی ذہنی کیفیت کے حامل لوگ جو ہر سرگرمی کو تھکے انداز یا بے زاری سے دیکھتے ہیں، حقیقت میں اعتماد کے اہل نہیں، بلکہ ایک طرح کے بے عملی اور جمود کا شکار ہیں۔
ایک علاقے میں مجھے ایسے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا، جو دن کے اُجالے میں خود کو ایسے حصار میں بند کرلیتے ہیں، جہاں بھولے سے بھی روشنی نہیں آتی اور اگر آئے بھی، تو اُنھیں مغالطہ ہوتا ہے۔ یہ مطمحِ نظر صحت مند زندگی کے لیے درست نہیں۔ ایک متحرک انسان کو متعصبانہ بھول بھلیوں میں اُلجھنے کی بجائے حقائق کو عملی نقطۂ نظر سے دیکھنا چاہیے۔
فطرت سے استفسار کرو…… وہ تمھیں بتائے گی کہ دن اور رات دونوں اس کی تخلیق ہیں۔
(نوٹ:۔ بہ حوالہ ’’گوشہ نشین کے خطوط‘‘ (Epistulae Morales ad Lucilium)، مصنف ’’سینیکا‘‘ (Lucius Annaeus Seneca)، مراسلہ (خط) نمبر 3، پبلشر ’’فکشن ہاؤس، لاہور‘‘۔)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔