مترجم: قیصر نذیر خاورؔ
ایک چمکیلی دوپہر کو ایک چیونٹی خوراک کی تلاش میں تیزی سے بھاگی جا رہی تھی کہ اُس کا ٹاکرا ایک پیوپا سے ہوا، جو اپنی جون بدلنے کی حالات میں تھا۔ پیوپا نے اپنی دم ہلائی، تو چیونٹی اُس کی طرف متوجہ ہوئی اور اُسے احساس ہوا کہ یہ بھی کوئی جان دار ہے۔ وہ حقارت سے بولی: ’’بے چارے جانور، تمھیں دیکھ کر تو ترس آتا ہے۔ تمھاری قسمت کتنی خراب ہے کہ تم حرکت بھی نہیں کرسکتے، اور اپنے خول میں قید صرف دم ہلا سکتے ہو…… جب کہ مَیں اپنی مرضی اور خوشی سے اِدھر اور اُدھر تیزی سے دوڑ سکتی ہوں…… اور اگر میں چاہوں، تو سب سے اونچے درخت کی سب سے اُوپر والی شاخ تک بھی پہنچ سکتا ہوں۔‘‘
دیگر متعلقہ مضامین:
موت کی سرگوشی (افسانچہ) 
منفی رپورٹنگ (افسانچہ)  
پیوپا نے یہ سب سنا، لیکن چیونٹی کو جواب دینے سے گریز کیا۔ کچھ دنوں بعد کہ جب چیونٹی کا گزر ایک بار پھر وہاں سے ہوا۔ وہاں پیوپا کا بس خول پڑا تھا۔ وہ حیران ہوئی کہ اُس خول میں موجود پیوپا کہاں گیا۔ ابھی وہ یہ سوچ رہی تھی کہ اُسے اپنے اوپر سائے کا احساس ہوا۔ اُس نے اُٹھا کر دیکھا، تو اُسے بڑے بڑے پروں والی ایک رنگ بہ رنگی خوب صورت تتلی ہوا میں اُڑتی نظر آئی۔
تتلی نے چیونٹی سے کہا: ’’مَیں وہی پیوپا ہوں، جسے تم نے چند روز قبل دیکھ کر اُس پر ترس کھایا تھا اور اپنی برتری جتلائی تھی۔ اب مجھے تم پر ترس آتا ہے۔‘‘
یہ کَہ کر تتلی فضا میں بلند ہوئی اور موسمِ گرما کی ہوا کے دوش پر، فضا میں تیرتی، چیونٹی کی نظروں سے ہمیشہ کے لیے اوجھل ہوگئی۔
’’ظاہری حالت اکثر دھوکا دیتی ہے۔‘‘
(بہ حوالہ: ’’عالمی ادب اور افسانچہ‘‘، مصنف: ’’ایسوپ‘‘، مترجم: ’’قیصر نذیر خاورؔ‘‘)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔