انتخاب: چوہدری سہیل شریف 
23 اپریل نام ور ڈراما نگار اور شاعر ’’ولیم شیکسپیئر‘‘ (William Shakespeare) کا یومِ وفات ہے۔ بعض محققین کے نزدیک ان کا جنم دن اور یوم وفات 23 اپریل ہے۔
ولیم شیکسپیئر شاید انگریزی زبان کا واحد شاعر ہے، جسے دنیا میں سب سے زیادہ پڑھا گیا، جس کے ڈراموں کے سب سے زیادہ تراجم ہوئے، جس نے انسانوں کی نفسیات، محبت، ہم دردی، دشمنی، دُکھ اور سکھ کے بارے میں سب سے زیادہ لکھا، جس کی عظمت کو دنیا کے سب اَدیبوں اور شاعروں نے تسلیم کیا۔
بس دو بڑے ادیب تھے، جنھوں نے اُسے شک کی نظروں سے دیکھا۔ دونوں کا تعلق روس سے تھا۔ ایک ٹالسٹائی تھا اور دوسرا دوستو فسکی۔
ٹالسٹائی کو تو شیکسپیئر نے بالکل متاثر نہیں کیا۔ اُنھوں نے اپنی سوانح عمری میں لکھا ہے کہ مَیں نے شیکسپیئر کو 15 سال کی عمر میں پڑھا، تو مجھے وہ بس یوں سا ادیب دکھائی دیا۔ 70 سال کی عمر میں جاکر مَیں نے سوچا کہ اُسے دوبارہ پڑھا جائے، تا کہ اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرسکوں۔ مَیں نے جب اُسے دوبارہ پڑھا، تو بھی اپنا فیصلہ نہ بدل سکا۔
دوستو فسکی کو شیکسپیئر پسند تو تھا، مگر اُسے وہ ایک ایسا شاعر کہتا تھا، جس کے ہاں بہت غلطیاں تھیں…… اور یہ اس لیے تھیں کہ اُس نے لکھتے ہوئے محنت نہیں کی۔
دوستو فسکی 31 مئی 1859ء کو لکھے اپنے بھائی کے نام خط میں لکھتا ہے: ’’پشکن نے اپنی شاعری کی بہت کانٹ چھانٹ کی، بہت محنت کی…… لیکن شیکسپیئر اپنے لکھے کی کانٹ چھانٹ نہیں کرتا تھا۔ اسی لیے اُس کے ہاں بے شمار غلطیاں اور خامیاں موجود ہیں۔ کاش! اُس نے اپنے کام پر محنت کی ہوتی۔‘‘
کہا جاتا ہے کہ انسانی زندگی کے دُکھ سُکھ کا جتنا احاطہ شیکسپیئر نے کیا ہے، شاید ہی کسی دوسرے شاعر نے کیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہر پڑھنے والے کو اُس کے ڈراموں میں اپنا عکس نظر آتا ہے۔ انسانوں کی ایک بڑی تعداد اُس کے قارئین میں شمار ہوتی ہے۔ دنیا کی تمام لائبریریوں کا ایک خاص حصہ اُس کے نام اور کام کے لیے مخصوص ہے۔ اُس کے ڈراموں پر بے شمار کتابیں لکھی گئیں۔ بہت تنقیدی کام ہوا۔ اُس کے ڈراموں پر لکھی جانے والی کتابوں کی تعداد اُس کے ڈراموں سے یقینا ہزار گنا زیادہ ہوں گی…… لیکن کیسی عجیب بات ہے کہ اُس کی زندگی اور اُس کے حالات پر دو ڈھائی صفحات سے زیادہ مواد دست یاب نہیں ہوتا۔
شیکسپیئر کی زندگی کے حالات کے بارے میں بہت سے ابہام ہیں۔ اُس کے بارے میں لکھنے والوں نے یہاں تک لکھا کہ وہ ایک زمین دار کا ہرن چراتا ہوا پکڑا گیا، یا یہ کہ جب وہ لندن آیا، تو پہلا کام اُسے یہ ملا کہ اُسے گھوڑوں کی دیکھ بھال کے لیے سائس بنا دیا گیا۔ یہ سب کچھ شاید اس لیے ہوا کہ ڈراما نگار کی حیثیت اُس زمانے میں بس یہ تھی کہ وہ ڈراما لکھ کر دے دے۔ ریہرسل کے وقت موجود رہے۔ اداکاروں کے تلفظ کی طرف دھیان دے۔ کوئی پبلشر اُس کے ڈرامے کو چھاپنے پر اُس وقت تک رضا مند نہیں ہوتا تھا،جب تک کوئی امیر، ر ئیس یا پیسے والا اُس ڈرامے کو سپانسر نہیں کرتا تھا۔ ڈراما نگار کی سوانح عمری چھاپنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اس لیے ڈراما نگار کی زندگی کے حالات زیادہ تر اندھیرے ہی میں رہتے تھے۔
شیکسپیئر کو یہ دن بھی دیکھنا نصیب نہ ہوا کہ اُس کے ڈرامے اُس کی زندگی میں چھپ سکیں۔
شیکسپیئر کی موت کے سات سال بعد اُس کے دو اداکار دوستوں ’’ہنری کونڈل‘‘ اور ’’جان ہیمنگ‘‘ نے اُس کے دو ڈرامے چھپوا کر مارکیٹ میں پیش کیے…… اور ٹھیک 100 سال بعد باقاعدہ سوانح عمری چھپ کر لوگوں تک پہنچی۔
ولیم شیکسپیئر 23 اپریل 1564ء کو ’’جان شیکسپیئر‘‘ کے گھر سٹیفورڈ میں پیدا ہوا۔ ماں کا نام میری آرڈن تھا۔ اُس کی چار بہنیں اور تین بھائی اور بھی تھے۔
دیگر متعلقہ مضامین: 
ولیم شیکسپیئر کا یومِ پیدایش  
ولیم شیکسپیئر کے ’’ہیلمٹ‘‘ کا اُردو ترجمہ 
ڈراما ’’رومیو جولیٹ‘‘ کا سفر  
شیکسپیئر کو ڈرامے دیکھنے اور ڈراما لکھنے کا شوق بچپن ہی سے تھا۔ اُس کے گاؤں میں جب ڈراما دِکھانے نوٹنکی آتی تھی، تو وہ بہت شوق سے دیکھنے جاتا تھا۔ اَداکاروں کے بولے ہوئے مکالمے تنہائی میں دُہراتا۔ یہ شوق اتنا بڑھا کہ کئی بار اُس نے ارادہ کیا کہ وہ گھر چھوڑ کر نوٹنکی والوں کے ساتھ بھاگ جائے۔
شیکسپیئر کا باپ پیشے کے لحاظ سے قصاب تھا۔ سنا ہے کہ ایک بار شیکسپیئر نے ایک جانور کو ذبح کرنے کی کوشش کی۔ چھری چلانے سے پہلے ایک لمبی چوڑی تقریر جھاڑ دی۔ یہ وہ مکالمے تھے، جو اُس نے تھیٹر کے اداکاروں سے سنے تھے۔ جانوروں پر چھری چلانے کا شاید یہ اُس کا آخری موقع تھا۔ شیکسپیئر کے لیے 13 کا ہندسہ منحوس ثابت ہوا۔ کیوں کہ 13 سال کی عمر میں اُسے سکول سے اُٹھا لیا گیا۔ غربت اور مفلسی نے اُس کی تعلیم کا راستہ روک لیا۔ 18 سال کی عمر میں اُس نے ’’جین ہیتھ وے‘‘ سے شادی کرلی۔ یہ شادی اگرچہ اُس کی مرضی کے خلاف تھی، لیکن اُسے یہ شادی اس لیے کرنا پڑی کہ سسرال والوں نے اُس کے مالی حالات بہتر کرنے کی ہامی بھرلی تھی۔
شادی کے بعد شیکسپیئر نے بیوی سے جوں توں گزارا کیا۔ ایک بیٹے اور دو بیٹیوں کا باپ بنا اور پھر بھاگ کر لندن چلا گیا۔ تھیٹر کمپنیوں میں چھوٹے موٹے کئی کام کیے۔ اداکاری کا شوق تھا۔ چھوٹے موٹے کردار کرکے ایکٹروں کی صف میں شامل ہوگیا۔ قلی سے کام شروع کیا تھا، آہستہ آہستہ اداکاروں کے گروپ کا ناظم بن گیا۔ پھر قلم ہاتھ میں تھاما اور ڈرامے لکھنا شروع کر دیے۔ اِس کام میں اُس نے بہت عذاب دیکھے، مگر ہمت نہ ہاری۔ 1603ء میں اپنا نام ایکٹروں کی اس فہرست میں درج کر اہی لیا، جو بادشاہِ وقت جیمز اول کے منظورِ نظر تھے۔ ڈراما نویسی جاری رکھی اور پھر وہ مشہور ڈراما نگار بن گیا۔
ولیم شیکسپیئر انگریزی زبان کا سب سے بڑا شاعر اور ڈراما نگار تسلیم کیا جاتا ہے۔ اُس کی شاعری نے اُس کے ڈراموں کو حسن بخشا۔ اسی شاعرانہ ڈرامے کی بہ دولت اُسے ساری دنیا میں عظمت حاصل ہوئی۔ ٹی ایس ایلیٹ کا کہنا ہے:
"For the Greates Drama is a Poetic Darama, and Dramatic Defacts can be Compensated by Poetic Excellence.”
ٹی ایس ایلیٹ کا خیال ہے کہ اپنی خوب صورت شاعرانہ خصوصیات کی بنا پر شیکسپیئر، جی بی شا اور ابسن سے بڑا ڈراما نویس ہے۔ وہ ایک عہد کا ڈراما نویس نہیں بلکہ آنے والے تمام عہدوں کا ڈراما نویس ہے۔
شیکسپیئر کے مشہور ڈراموں میں درجِ ذیل ڈرامے بہت اہم سمجھے جاتے ہیں
٭ ہنری ہشتم ( تین حصے)۔
٭ مرچنٹ آف وینس۔
٭ کنگ جان۔
٭ ٹیمنگ آف شریو۔
٭ایزیولائک اِٹ۔
٭ ہیملٹ۔
٭ کنگ لیئر۔
٭ جولیس سیزر۔
٭ میری واٹوز آف ونڈسٹر۔
٭ وتھیلو۔
٭ رومیو اینڈ جیولٹ۔
٭ میگبتھ۔
٭ ٹویلوتھ نائٹ۔
٭ دی ٹمپسٹ۔
٭ ونٹرزٹیل۔
٭ انتھونی اینڈ قلوپطرہ۔
٭ کامیڈی آف ایررز۔
٭ مچ اُوڈ اِ باؤٹ نتھنگ۔
٭ لوز لیبر لاسٹ۔
٭ اے مڈسمر نائٹ ڈریمز۔
شیکسپیئر کے ڈراموں کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
٭ تاریخی ڈرامے، جن میں ’’رچرڈ II‘‘ اور ’’رچرڈ III‘‘، ’’ہنری ہشتم‘‘ (تین حصے)، ’’جولیس سیزر‘‘، ’’انتھونی‘‘ اور ’’قلوپطرہ‘‘ رہتے ہیں۔
٭ ٹریجڈی ڈرامے، جن میں ’’کنگ لیئر‘‘، ’’ہیملٹ‘‘، ’’اوتھیلو‘‘ اور ’’میکبتھ‘‘ کے نام آتے ہیں۔
٭ کامیڈی ڈرامے، جن میں ’’مرچنٹ آف وینس‘‘، ’’رومیو اینڈ جیولٹ‘‘، ’’ٹیمنگ آف دی شریو‘‘، ’’میری انفز آف ونڈسٹر‘‘، ’’ٹویلوتھ نائٹ‘‘، ’’ونٹرز ٹیل‘‘، ’’کامیڈی آف ایررز‘‘، ’’اے مڈسمر نائٹ ڈریمز‘‘ اور ’’لوزلیبر لاسٹ‘‘ کے نام آتے ہیں۔
اپنے المیہ ڈراموں میں شیکسپیئر نے یونانیوں کے تصورِ المیہ کے کسی اُصول کو مدِ نظر نہیں رکھا، اور نہ اُس نے المیہ کے بارے میں کوئی اپنے اصول ہی بنائے ہیں۔
یونانیوں کے تھیٹر میں 30 ہزار مرد اور عورتیں ایک وقت میں ڈراما دیکھنے آتے تھے۔ موسیقی کے وہ فن پارے سننے آتے تھے، جو اُن کی روح کو اپنے قبضے میں لے کراس مذہبی عقیدے کی گرفت میں رہنا چاہتے تھے، جو اُنھیں اپنا اسیر بنالے۔ وہ ٹریجڈی میں رونما ہونے والے ایکشن کے منتظر رہتے تھے، جو اُن کے دل اور روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دے۔ ایسے شان دار لباس اور آرایش جو اُن کی آنکھوں کو چکا چوند کر دے۔ تھیٹریکل اثرات، مناظر کے علاوہ مذہب کا جذبہ بھی تھا، جو اُنھیں بِٹھائے رکھتا تھا۔ خوف، ڈر اور دہشت اُن لوگوں کی تطہیرِ جذبات کا باعث بنتے تھے۔ یہ سب کچھ شیکسپیئر کے المیوں میں نہ تھا۔
یونانی المیہ میں پلاٹ کو بہت اہمیت حاصل تھی، جب کہ شیکسپیئر کے المیہ میں سب سے زیادہ اہمیت کردار کی تھی۔ ’’ہیملٹ‘‘، ’’کنگ لیئر‘‘، ’’اوتھیلو‘‘، ’’میکبتھ‘‘، ’’جولیس سیزر‘‘، ’’قلوپطرہ‘‘ اور ’’کنگ جان‘‘ کے کردار اس بات کی وضاحت کے لیے کافی ہیں۔
شیکسپیئر کے ڈراموں کی اکثر کہانیاں پہلے سے مشہور گویوں (Bards) کے ذریعے گلی گلی پھیل چکی تھیں…… لیکن اس عظیم ڈراما نگار نے جب اُنھیں اپنے ڈراموں کا موضوع بنایا، تو اُنھیں لافانی بنا دیا۔ مثال کے طور پر وہ کہانیاں جو تاریخ سے تعلق رکھتی ہیں، صرف تاریخ کا حصہ تھیں…… لیکن جب شیکسپیئر نے اُن پر ڈرامے لکھے، تو وہ گھر گھر پھیل گئیں۔
شیکسپیئر کا مشہورِ زمانہ ’’ہیملٹ‘‘ بھی اس قسم کی کہانی ہے۔ بارہویں صدی کے ایک محقق نے اس کہانی کو ایک سچی کہانی قرار دیا ہے۔ اس واقعے کو شیکسپیئر نے اپنے ڈرامے کا موضوع بنایا اور یہ ڈراما لیجنڈکی صورت اختیار کرگیا…… لیکن عجیب بات یہ ہے کہ بالکل اس سے ملتا جلتا قصہ یونانی ڈراموں میں بھی پایا جاتا ہے۔ اسکائی لیس کا ڈراما ’’آگامم نان‘‘، ’’الیکٹر‘‘ اور ’’اورسٹیز‘‘ تینوں ڈراموں میں پھیلی ہوئی کہانی ایک ہو جائے، تو شیکسپیئر کا ہیملٹ بن جاتا ہے۔
’’آگامم نان‘‘ جب ٹرائے سے واپس آتا ہے، تو اُس کی بیوی کلائیٹم نسٹرا اپنے عاشق سے مل کر اُسے قتل کر دیتی ہے۔ الیکٹر اُس کی بیٹی اور چھوٹا بیٹا اور سٹیز یہ سب کچھ جانتے ہیں اور سٹیز محل سے چلا جاتا ہے، جو ان ہو کر واپس آتا ہے اور اپنے باپ کا انتقام اپنی ماں اور اُس کے عاشق کو مار کر لیتا ہے۔ ہیملٹ میں باکل یہی کہانی ہے۔ ’’ہیملٹ‘‘ جب اپنی ریاست میں واپس آتا ہے، تو تخت پر اپنے باپ کو بیٹھا دیکھتا ہے۔ باپ کا بھوت ہیملٹ کو ساری کہانی سناتا ہے۔ وہ باپ کا انتقام لینا چاہتا ہے، لیکن انتقام لینے میں نا کام رہتا ہے۔
شیکسپیئر کسی نہ کسی حوالے سے یونانی ڈرامے سے اثر قبول ضرور کرتا ہے۔ چاہے وہ کرداروں کی تشکیل کا سلسلہ ہو یا ماحول اور فضا کا۔ مثلاً: ’’اسکائی لیس‘‘ کا ڈراما ’’آگامم نان‘‘ دیکھیے۔ آغاز میں ڈر اور خوف کی ایک کیفیت ہے، جو ہر طرف طاری نظر آتی ہے اور شروع ہی میں محسوس ہوتا ہے کہ محل میں کچھ ہونے والا ہے…… اور پھر محل میں ’’کلائی ٹم لسٹرا‘‘ اور اُس کے عاشق کی منصوبہ بندی سے ’’آگامم نان‘‘ کا قتل ہوجاتا ہے۔
اب ذرا شیکسپیئر کے ڈرامے ’’میکبتھ‘‘ پر نظر ڈالیں۔ ڈراما شروع ہوتا ہے، تو چڑیلوں کی ملاقات ایک سازش اور منصوبہ بندی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ’’میکبتھ‘‘ کے محل میں موت کا سایہ اسی طرح گردش کرتا نظر آتا ہے ، جس طرح ’’اسکائی لیس‘‘ کے ڈرامے ’’آگامم نان‘‘ میں موت دکھائی دیتی ہے۔ اسی طرح ’’میکبتھ‘‘ کی سازش بادشاہ کو موت کے گھاٹ اُتار دیتی ہے۔
1564ء میں پیدا ہونے والاشیکسپیئر ، 30 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے سب سے بڑا ڈراما نویس بن گیا۔ 20 سال اُس نے ڈرامے لکھے اور گھر واپس اپنے گاؤں سٹیفورڈ واپس آگیا۔ لندن رِہ کر بھی گاؤں کو نہ بھولا۔ 23 اپریل 1606ء میں جب 52 سال کا ہوا، تو انتقال کرگیا۔
شیکسپیئر لندن میں رہا، تو طربیہ ڈرامے لکھتا رہا۔ وراثت اور جانشینی اور دوسرے ہلکے پھلکے موضوعات کو ڈرامے میں سموتا رہا۔ آخری سالوں میں شیکسپیئر نے اُن ڈراموں کی طرف توجہ دی، جو اُس کے عظیم المیے بن کر دنیا کے سامنے آئے، جن میں زندگی مصیبت سے نبر دآز ما نظر آتی ہے، جن میں ایک وقار بھی ہے اور شان و شوکت بھی، بلند خیالی بھی ہے اور فکر کی عظمت اور گہرائی بھی۔
(احمد عقیل روبی کی کتاب ’’ علم ودانش کے معمار‘‘ سے مقتبس)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔