انتخاب: نواب ایم ایس 
رومی کو سننے کے لیے دور دور سے لوگ آتے تھے۔ ایک دن ایک طوائف، جس کا نام ’’ڈیزرٹ روز‘‘ تھا، بھی اُن کو سننے کے لیے مسجد پہنچ گئی۔ طوائف نے اس مقصد کے لیے اپنا حلیہ بدل لیا تھا۔ رومی کی گفت گو سننے کے دوران میں اُس کے ایک پرانے گاہک نے اُسے پہچان لیا۔ اُس پر وہاں شور مچ گیا کہ ایک طوائف مسجد میں موجود ہے۔ لوگوں نے اُسے وہاں سے نکالا۔ ہجوم میں غصہ بڑھ رہا تھا۔ طوائف کو لگا، اب اُسے وہیں کھڑے کھڑے سنگسار کر دیا جائے گا۔ اسی اثنا میں ایک درویش اس ہجوم کے قریب پہنچا اور چیخ کر بولا: ’’رُک جاؤ!‘‘
ہجوم ساکت ہو گیا۔ ’’تم لوگوں کو شرم آنی چاہیے۔ 30 لوگ ایک کم زور عورت پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔ کیا یہ انصاف ہے!‘‘ وہ بولا۔
’’اُس کے ساتھ کسی انصاف کی ضرورت نہیں۔‘‘مجمع میں سے کوئی بولا: ’’یہ طوائف یہاں ایک مرد کے لباس میں آئی، تاکہ ہم اچھے مسلمانوں کو دھوکا دے سکے۔‘‘
’’تم لوگ مجھے یہ بتا رہے ہو کہ اِس عورت کو اِس لیے مارنا چاہتے ہو کہ یہ مسجد کیوں آئی تھی؟، کیا یہ جرم ہے؟‘‘ درویش کے لہجے میں اب طنز تھا۔
’’یہ طوائف ہے۔‘‘ ہجوم سے کوئی چلایا۔ ’’مسجد میں اس کی کوئی جگہ نہیں۔‘‘
ہجوم ’’طوائف، طوائف‘‘ کے نعرے لگانا شروع ہوگیا۔ ایک نے کہا: ’’آئیں طوائف کو مارتے ہیں۔‘‘
دیگر متعلقہ مضامین:
’’جنت اور دوزخ‘‘ پائیلو کوئیلہو کے ناول سے مقتبس  
چینی ادیب ’’مویان‘‘ کے نوبل خطبے سے انتخاب 
چیخوف کا سوانحی خاکہ
وضع داریاں 
ایک فوجی کے عشق کی کہانی 
لگتا تھا کہ اس فقرے نے درویش کے جلال کو مزید تیز کر دیا: ’’رُک جاؤ اور مجھے ایک بات بتاؤ۔ کیا تم واقعی اس عورت سے نفرت کرتے ہو یا پھر تم لوگوں کے اندر اسے حاصل کرنے کی خواہش ہے؟ـ‘‘ یہ کَہ کر درویش نے اُس طواف کا ہاتھ پکڑا اور اُسے اپنی طرف کھینچ لیا۔ طوائف درویش کے پیچھے چھپ گئی، جیسے ایک چھوٹی سی بچی خطرہ دیکھ کر اپنی ماں کے پیچھے چھپ گئی ہو۔
ہجوم کے سربراہ نے درویش سے کہا: ’’تم اس علاقے میں اجنبی ہو، تم بہت بڑی غلطی کر رہے ہو، تمھیں ہمارا پتا نہیں۔ تم اس سے دور رہو۔‘‘
کوئی اور بولا: ’’تم کیسے درویش ہو؟ کیا تمھارے پاس ایک طوائف کا دفاع کرنے سے بہتر کوئی اور کام نہیں۔‘‘
درویش ایک لمحے کے لیے خاموش رہا، جیسے وہ اس سوال پر غور کر رہا ہو۔ اُس نے غصے کا اظہار نہیں کیا اور پُرسکون رہا۔ پھر کہا: ’’پہلے تم لوگ یہ بتاؤ کہ تم لوگ مسجد میں عبادت کے لیے آتے ہو یا اپنے اردگرد لوگوں کو دیکھنے؟ کیا مسجد میں خدا سے اہم وہ لوگ ہوتے ہیں جنھیں تم لوگ تکتے رہتے ہو؟ اگر تم خدا کی عبادت کرنے گئے تھے، تو پھر تمھیں تو یہ عورت وہاں نظر نہیں آنی چاہیے تھی۔ حلیہ بدلنا تو دور کی بات ہے، اگر اس نے کپڑے تک نہ پہنے ہوتے پھر بھی وہ تم لوگوں کو نظر نہیں آنی چاہیے تھی۔ جاؤ، لوٹ جاؤ…… اور رومی کا وعظ سنو۔ اِس کم زور عورت کو مارنے سے وہ کام زیادہ بہتر ہے۔‘‘
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔