تبصرہ نگار: زین سلیم 
دنیا کی 40 بڑی زبانوں میں ترجمہ ہونے والا ہندوستانی کلاسیک شاہ کار ’’کلیلہ و دِمنہ‘‘ کہانیوں اور داستان کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کو مشہور عربی ادیب عبد اللہ بن المقفع نے عربی میں ترجمہ کیا تھا۔ ابن المقفع نے اسے اپنے ہی انداز میں لکھا۔ پھر اُردو ترجمہ مفتی رفیع الدین قاسمی نے کیا اور اب خال ہی میں ڈاکٹر حنا جمشید نے اس کتاب کو اپنے انداز پایۂ تکمیل پر پہنچایا ہے۔
مصنف نے اس کتاب میں جانوروں کے کردار پیش کیے ہیں۔ کتاب میں موجود کہانیاں کئی موضوعات پر مشتمل ہیں، جن میں سب سے اہم موضوع بادشاہ اور رعایا کے درمیان تعلقات ہیں۔ کہانی کے ضمن میں حکمت و دانائی کی باتیں پیش کی گئی ہیں۔ کلیلہ و دِمنہ دراصل دو گیدڑوں کے عربی نام ہیں جن کی کہانی اس کتاب میں بیان کی گئی ہے، جو بہت ہی عقل مند اور زیرک ہونے کے ساتھ چالاک اور مکار ہیں، جو بادشاہ کے قرب سے اس کو نصیحتیں کرتے ہیں اور پھر اپنی چالاکی سے بادشاہ کے قریبی ساتھی شتربہ نامی بیل کا بادشاہ سے قتل کروا دیتے ہیں۔
’’کلیلہ و دِمنہ‘‘ قدیم ہندوستان کی دانش و حکمت پر مشتمل کتاب ہے ۔جس کو ’’بیدپا فیلسوف‘‘ نامی ایک عاقل برہمن نے ہندوستانی بادشاہ کے سامنے پرندوں اور جانوروں کی کہانیوں کے انداز میں پیش کیا اور اُس کو پند و نصائح کیے۔ کچھ روایات کے مطابق بادشاہ پر یہ نصیحتیں کافی گراں گزریں، جس پر اس نے بیدپا فیلسوف کو قید کروا دیا، مگر اُسی رات تاروں کی گردش نے اُس کو سوچنے پر مجبور کیا اور اُس نے برہمن فلسفی کو قید خانے سے بلاکر اس کی نصیحتیں سنیں۔ پھر بادشاہ کے حکم پر ایک سال کے اندر بیدپا فیلسوف نے اُن پند و نصائح اور کہانیوں کو کتاب کی صورت میں مکمل کیا۔
یہ کتاب سب سے پہلے سنسکرت زبان میں لکھی گئی۔ بیدپا فیلسوف نے بادشاہ سے یہ خواہش کی کہ اُس کی یہ کتاب ہندوستان سے باہر نہ جائے۔ بالخصوص ایرانیوں کے ہاتھ یہ کتاب نہیں لگنی چاہیے۔ برہمن فلسفی کی خواہش کے احترام میں کتاب کو شاہی خزانے کا حصہ قرار دیا گیا اور اس کی حفاظت کا خصوصی انتظام کیا۔
دیگر متعلقہ مضامین:
کبڑا عاشق (تبصرہ) 
موت کی خوشی (تبصرہ)  
البرٹ کامیو کا ناول "اجنبی” (تبصرہ)  
جنت کی تلاش (تبصرہ)  
صوابی کی ثقافت کا آئینہ (تبصرہ)  
اس کتاب کے ایران آنے کی داستان بھی کافی دلچسپ ہے۔ ایرانی بادشاہ نوشیرواں عادل کو اس کتاب کی شہرت کا پتا چلا، تو اُس نے اُس کو ایران لانے کے لیے اپنے وزیر بزرجمہر سے مشاورت کی۔ بزرجمہر نے ایک ادیب ’’بروزیہ‘‘ جو کہ اچھی شہرت کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ فارسی و ہندی زبان پر عبور رکھتا تھا، کا انتخاب کیا کہ وہ کسی طرح اس خزانے کو حاصل کرے۔ بروزیہ ہندوستان آیا اور یہاں پر بادشاہ کے خواص سمیت صاحبِ مرتبت افراد، فلاسفہ اور صاحبانِ علم و فضل کے ساتھ اپنے تعلقات قائم کیے۔ اُس نے اپنے اصلی وطن اور مقصد کو چھپایا اور بتایا کہ وہ علم کا متلاشی ہے۔ اُس نے طویل قیام کے دوران میں بہت سے دوست بنالیے اور ایک ایسے ہی انتہائی قریبی دوست جس کو وہ آزما بھی چکا تھا، سے اُس نے کتاب کو حاصل کیا اور اُس کو پہلوی میں منتقل کیا۔ اس کے بعد وہ ایران واپس چلا گیا۔ نوشیرواں عادل بروزیہ کی اس کوشش سے بے حد خوش ہوا اور اس کو منھ بولے انعام حتی کہ آدھی سلطنت تک کی پیشکش کی، تو بروزیہ نے کہا کہ اس کتاب کے شروع میں اس کا ذکر اور روداد نقل کر دی جائے۔ یہ ہی اس کا انعام ہے۔ اس سے بروزیہ کی دور اندیشی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ وہ بے شمار دولت لے کر اپنی زندگی آسان کرسکتا تھا اور پھر گم نام ہو جاتا، مگر اُس نے ایک کتاب میں اپنا ذکر درج کروا کر اپنے نام کو زندہ کر لیا۔ اب جب تک یہ کتاب موجود رہے گی، بروزیہ کا ذکر باقی رہے گا۔
بروزیہ نے اپنی روداد میں ایک زبردست بات کی ہے کہ مَیں نے یہ دیکھا کہ غافل بے پروا شخص، جو بالکل حقیر اور کم تر شے کو جو آج حاصل ہوکر کل ختم ہونے والی ہوتی ہے، اُس غیر معمولی اور عظیم چیز پر ترجیح دیتا ہے جس کا نفع برقرار رہنے والا ہوتا ہے۔
اس کتاب میں داستان گوئی اور اس میں دانش کے چھپے ہونے کو بیان کیا اور بتایا کہ ’’کلیلہ و دِمنہ‘‘ کی تدریس سے وہ ہندوستان کے اس خزانے سے مکمل روشناس کیا۔ اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ جانوروں کی حکایات بھی ایک قدیم طریقہ ہے، جس سے قصہ گوئی کا کام لیا جاتا ہے۔ یہ انسان کے زرخیز دماغ کا ایک ثبوت ہے کہ تخیل کرکے وہ مختلف جانوروں کی زبانی سبق آموز کہانیاں بناتا ہے۔ جانوروں کی حکایات سب سے پہلے مصری تہذیب و ادب میں پائی جاتی ہیں۔ وہاں سے یہ قصے دوسری تہذیبوں میں داخل ہوئے۔
مصنف نے ہندوؤں کی اسی سوچ کو سامنے رکھتے ہوئے دو کردار تخلیق کیے کلیلہ و دِمنہ جو کہ دو گیدڑ ہیں، اور دونوں انتہائی چالاک، مکار اور ذی علم ہیں۔ یہ دونوں اس کتاب کے مرکزی کردار ہیں، جس کے بعد اور بہت سے جانوروں کو پیش کیا گیا۔ جیسے شیر کو بادشاہ بناکر اور اس کی رعایا میں باقی تمام جانوروں کو دِکھایا گیا اور بادشاہ کو اشاروں اور کنائیوں سے سمجھایا گیا کہ رعایا کے ساتھ کیسے رہنا چاہیے۔ پھر اُلو اور کوے کی کہانی بیان کی کہ کسی دشمن سے کیسے بچ کر رہنا چاہیے۔ پھر چوہے اور بلی کی کہانی کہ دشمنوں سے دوستی اور مصالحت کرنی چاہیے کہ نہیں، اور اگر کرنی چاہیے، تو کن خطوط پر؟ پھر کبوتر، لومڑی اور بگلے کی کہانی کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کی کہ جو دوسروں کو رائے اور مشورے دیتا ہے، اسے خود بھی اس پر عمل کرنا چاہیے۔
ویسے تو یہ کتاب نصیحتوں سے بھری پڑی ہے اور انسان پڑھتے وقت شروعات کی جگہ پر بور ہو ہوتا ہے، جیسے کہانی بڑھتی ہے، کتاب سے لطف آنے لگتا ہے۔ کتاب میں موجود تمام تر واقعات آپ نے کسی نہ کسی زبانی سنے ضرور ہوں گے، بس کردار بدلے گئے ہیں۔ مطلب اس کتاب میں کوئی بھی ایسا واقعہ نہیں گزرا جو سنا نہ ہو۔ مختلف کرداروں کے ساتھ، مختلف اوقات میں اور زندگی کے مختلف مواقع پر، لیکن ان تمام سنے ہوئے واقعات سے ایک کمال اور اعلا درجے کی کتاب ثابت ہوتی ہے اور جو کہ آج کے دور میں قصہ گوئی ختم ہونے پر ایک اچھی اور قابلِ ستایش کاوش ہے۔ آپ بھی اسے اپنے مطالعہ کی زینت بنایئے گا، شکریہ……!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔