تحریر: سیمیں کرن
’’کنفیوشس‘‘ یا ’’کونگ فو زی‘‘ ساڑھے پانچ سو قبلِ مسیح کا وہ مفکر، عالم اور فلسفی ہے جس کی تعلیمات نے چین، جاپان، تائیوان، کوریا اور مشرقِ بعیدمیں زبردست پذیرائی حاصل کی اور یہاں ’’کنفیوشس ازم‘‘ نے نہ صرف ایک مذہب کی حیثیت اختیار کرلی، بلکہ وہ اُن کی زندگیوں کا ایک لازمی جزو بھی بن گیا اور اب بھی ہے۔ اس طرح ’’کنفیوشس مت‘‘ غیر سامی مذاہب میں ایک اہم مذہب کی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔
ایک ایسا مکتبۂ فکر جسے ختم کرنے کی کوشش کے دوران میں نہ صرف اس کے مفکرین کو زندہ دفن کر دیا گیا، بلکہ اس کی کتب کو جلایا بھی گیا۔ پھر مگر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس کے نظریات کو نہ صرف سرکاری طور پر اپنالیا گیا، بلکہ علم و انصاف کے معاملے بھی اسی راہ نمائی میں طے ہونے لگے اور شاہی ملازمت کے لیے کنفیوشس کی پانچ کتابوں کا مطالعہ لازمی قرار پایا۔ نیز سول سروس کے امتحانات میں یہ سلیبس کا حصہ بن گئیں۔ یہ امتحانی نظام ماسوا ایک چھوٹی سے رکاوٹ کے 1905ء تک مسلسل کئی سوسال تک جاری رہا۔ سو کنفیوشس کا مطالعہ میرے لیے ایک تہذیب اور عہد کا مطالعہ تھا، جس نے جنوبی ایشیا اور مشرقِ بعید کی ایک وسیع بیلٹ کو متاثر کیا۔
میرے لیے یہ سفر علم و معرفت اور فکرو فلسفے کا سفر ثابت ہوا۔ مجھے خوشی ہے کہ محترم یونس خان کی اس اہم کتاب کے مسودے کی نظرِ ثانی کا موقع مجھے ملا اور جب میرے علم میں یہ آیا کہ کتابیں جلائے جانے کے بعد کنفیوشسی مبلغین نے اِسے پتھر کی سلوں پر کندہ کرکے محفوظ کیا، تو مَیں نے ان کتابوں کو بے ساختہ سنگی کتابیں، کاغذی پیراہن کہا۔ یہی پھر اس کتاب کا عنوان ٹھہرا۔اس کتاب کی اہمیت دو چند اس لیے بھی ہوجاتی ہے کہ ان قوانین اور فکر و فلسفہ نے صدیوں چین پر حکومت کی اور ایک مذہبی فکر و فلسفہ کا صدیوں حکومت کرنا، ان کے نتائج اوران کی تعلیمات کو جاننا اور مشرقی طرزِ فکر کو سمجھنا، مشرقی معاشروں میں اپنی الگ ہی ایک اہمیت رکھتا ہے۔
کنفیوشس کے ہزاروں کی تعداد میں شاگرد تھے اور اُن میں سے 70 اپنے عہد کے مشہور دانش ور ہوئے۔
دیگر متعلقہ مضامین:
ایلف شفق کی ایک اثر انگیز تحریر  
تاریخ پر لیو ٹالسٹائی کے خیالات کی اہمیت  
کچھ خلیل جبران کے بارے میں  
انتون چیخوف کی ایک لازوال تحریر  
چیخوف کا سوانحی خاکہ  
گو کہ ’’کنفیوشس مت‘‘ ایک غیر سامی مذہب کہلایا، بلکہ یہ بحث بھی جاری رہی اور ہے کہ کیا یہ واقعی کوئی مذہب ہے بھی یا نہیں؟
اس کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے یہ احساس شدت سے ہوا کہ کنفیوشس کی دی گئی تعلیمات، اخلاقی اُصول و قوانین ضرور کسی الہامی قوت کے زیرِ سایہ تشکیل پائے ہیں۔
یہ سلسلۂ تعلیم موتیوں کی تسبیح میں پرونے جیسا بے ساختہ عمل ہے جہاں ہر نتیجہ خود بہ خود دوسرے نتیجے پہ منتج ہو کر جڑتا چلا جاتا ہے اور جب کنفیوشس خود یہ پیغام دیتا ہے کہ ’’مَیں اصل میں مفکر نہیں محض ایک پیامبر ہوں!‘‘ تو یہ بھی اس کی الہامی شخصیت کا اعلامیہ ٹھہرتا ہے۔
الہامی اور آسمانی کتب کے ضابطۂ اخلاق سے حیرت انگیز مماثلت بھی کنفیوشس کی صداقت کے لیے ایک اہم دلیل اور حجت ثابت ہوتی ہے۔ کنفیوشس کے بہت سے اقوال قرآنی آیات سے مماثلت کرتے بھی میرے لیے ایک سوال چھوڑ گئے کہ کیا کنفیوشس واقعی اپنے عہد کا پیغمبر تھا؟ کیا یہ پیغامات و تعلیمات واقعی کسی مقدس ذات اور ادارے سے جاری کیے گئے تھے؟یہ سوالات کتاب کے مطالعے کے دوران میں بار بار آپ کے سامنے بھی کھڑے ہوں گے۔
کنفیوشس کہتا ہے کہ
٭ اعلا انسان کو نہ تو کوئی پریشانی ہے، نہ خوف۔
٭ جو اپنے لیے پسند کرو، وہ دوسروں کے لیے بھی نا پسند نہ کرو۔
٭ غلطی کرنا اور اس کی اصلاح نہ کرنا ہی اصل غلطی ہے۔
ہر فلسفی کی طرح ایک اعلا، برتر اور ایک مثالی انسان کا تصور کنفیوشس کے ہاں بھی بہت واضح ہے۔ کنفیوشس کا یہ بہتر اور اعلا انسان ہی در اصل معاشرے اور حکومت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جس کے گرد یہ ڈھانچا کھڑا ہے۔
اس کتاب، اس تہذیب کا مطالعہ اس لحاظ سے بھی اہم ثابت ہوتاہے کہ کنفیوشس اپنے درس و تدریس کے سلسلے کے دوران میں بار بار اس خطے کے قدیم انسان اور قدیم تعلیمات کا ذکر کرتا ہے…… اور اپنے عہد کو جدید گردانتا ہے۔ اس سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ ا س علاقے کی تہذیبی بستیوں کی تاریخ کتنی قدیم ہے!
کنفیوشس کے قوانین اور ضابطۂ اخلاق بہ ظاہر سادہ اور کتابی باتیں معلوم پڑتی ہیں، مگر یہی اُصول اور ضابطۂ حیات ہیں جو ایک اچھے فرد اور معاشرے کی اساس ہوا کرتے ہیں……اور شاید یہی وجہ ہے کہ اُن اصولوں نے چین میں صدیوں حکومت کی۔
مشرقی اور جنوبی ایشیاکے اس مفکر کا مطالعہ کئی جہتوں سے ہمارے لیے مفیدثابت ہوسکتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ کتاب اس طرزِ فکر کو سمجھنے میں کئی لحاظ سے اہم ثابت ہوگی۔ کیوں کہ کنفیوشس کے اخلاقی ضوابط ایسے ہیں کہ وہ ہر معاشرے کے لیے اہم ہیں۔ ایسی اخلاقی قدریں جو نہ صرف مشرقی بلکہ مغربی معاشرے میں بھی بنیادی کلیدی کردار ادا کرسکتی ہیں۔ اخلاقی ضوابط، رسوم اور فکر و فلسفہ بے شک ہر معاشرے کا جداگانہ ہے مگر کچھ آفاقی سچائیاں ہر طرف یکساں ہیں۔ سو وہ سنگی کتابیں جو صدیوں پہلے کندہ ہوئیں تھیں، ان کا یہ کاغذی پیراہن یقینا بابِ علم و فکر میں اِک حرفِ معتبر ثابت ہوگا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔