انتخاب: محمد احسن
جنوبی فرانس کے قصبے ’’وسکوس‘‘ میں ایک روایت مشہور ہے کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک آدمی اپنے گھوڑے اور کتے کے ہم راہ پائنیریز کے پہاڑوں میں جا رہا تھا۔ موسم اَبرآلود تھا۔ بارش ہونے والی تھی۔ وہ ایک درخت کے نیچے سے گزرا۔ اچانک بجلی کڑکی اور درخت پر گرگئی۔ درخت آناً فاناً آگ کی لپیٹ میں آ گیا، آدمی اور اُس کے دونوں جانوروں سمیت۔ سب کچھ اتنی سُبک رفتاری سے ہوا کہ آدمی کو سوچنے کا موقع تک نہ مل سکا۔
چناں چہ وہ آدمی، اُس کا گھوڑا اور کتا، بہ دستور پگڈنڈی پر چلتے رہے۔ اُنھیں پتا ہی نہ چل سکا کہ وہ تینوں مرچکے ہیں اور اَب بطورِ روح چل رہے ہیں۔
مناظر تو وہی تھے، مگر کچھ معاملات بدل چکے تھے۔ ہلکی دھند شروع ہوگئی، مگر سورج بھی کسی جانب سے نکل رہا تھا۔ اُس کی شعاعیں پہاڑوں، وادی اور دھند کو روشن کر رہی تھیں۔ اِس کے علاوہ خوش بو بدل چکی تھی۔ ایک ’’برزخ نما‘‘ ماحول وجود میں آچکا تھا۔ آدمی اور جانوروں نے توجہ نہ دی۔ پہاڑوں میں موسم یک دم بدلتے رہتے ہیں۔ وہ چلتے رہے۔ اب اُنھیں پیاس لگ رہی تھی، مگر قریب کوئی چشمہ موجود نہ تھا۔
کچھ دور پہنچ کر آدمی کو پگڈنڈی سے دائیں جانب سنگِ مرمر کا ایک بڑا سا دروازہ نظر آیا۔ وہ کافی حیران ہوا۔ کیوں کہ آج سے پہلے یہاں ایسا کوئی دروازہ نہ تھا۔ پیاس کی شدت زوروں پر تھی۔ تینوں دروازے کے قریب پہنچے، تو وہاں ایک دربان نظر آیا۔ آدمی نے دروازے کی سنگِ مرمری سلاخوں سے اندر جھانکا۔ سنگِ مرمر کا عظیم الشان محل نظر آ رہا تھا۔ بہت سے امیر کبیر لوگوں کی چہل پہل دکھائی دے رہی تھی۔ ایک سرخوشی کا ماحول تھا۔ سامنے قریب ایک سفید فوارا تھا جس میں سے تازہ پانی ابل رہا تھا۔
آدمی نے دربان سے کہا: ’’محترم، ہمیں پیاس لگی ہے ۔ فوارے سے پانی پی لیں؟‘‘
دربان نے میٹھی مسکراہٹ سے جواب دیا: ’’ہاں ہاں، آ جاؤ۔ اسے اپنی جگہ ہی سمجھو۔ یہ جگہ اُس کی ہوتی ہے جسے نظر آ جائے۔ گھبرانے کی ضرورت نہیں، آ جاؤ!‘‘
دروازہ کھل گیا۔ آدمی اپنے جانوروں سمیت اندر جانے لگا، تو دربان نے کہا: ’’یہاں صرف انسانوں کو داخلے کی اجازت ہے۔ اپنے جانور باہر باندھ کر آ جاؤ۔‘‘
آدمی نے کہا: ’’مگر پیاس تو ہم تینوں کو لگی ہے۔ مَیں اپنے جانوروں کو پیاسا رکھ کر اپنی پیاس نہیں بجھا سکتا…… یا تو ہم تینوں پانی پئیں گے…… یا تینوں پیاس سے مریں گے۔‘‘
دربان نے دروازہ واپس بند کرتے ہوئے کہا: ’’چلو ٹھیک ہے…… جیسے تمھاری مرضی۔ کوشش کرنی چاہیے کہ اگر یہ دروازہ نظر آ جائے، تو اِسے اپنے پر بند مت کرواؤ۔ بدنصیبی کی بات ہے۔‘‘
آدمی نے کہا: ’’یہ کیسی جگہ ہے؟ مجھے پہلے کیوں نظر نہیں آئی؟‘‘
دربان نے کہا: ’’یہ جنت ہے۔ تب نظر آتی ہے، جب اعمال درست ہوں۔ مزید یہ کہ روح جسم سے آزاد ہو چکی ہو۔‘‘
آدمی کے پسینے چھوٹ گئے۔ اُسے شک سا پڑ گیا کہ جیسے وہ واقعی مرچکا ہے، مگر پیاس کی شدت نے اُس بات پر مزید سوچنے نہ دیا۔ وہ اپنے جانوروں سمیت واپس مڑ کر پگڈنڈی پر آگیا اور آگے بڑھ گیا۔
بہت دیر گزر گئی۔ تینوں کی ہمت جواب دیتی جا رہی تھی۔ اچانک پگڈنڈی سے بائیں جانب اُنھیں ایک خستہ حال پھاٹک نظر آیا، جس کے قریب ایک اُتنا ہی خستہ حال بوڑھا بیٹھا ہوا تھا۔
آدمی نے پھاٹک کے قریب پہنچ کر اندر کا منظر دیکھا۔ اُسی قسم کے درخت تھے، جیسے پگڈنڈی پر تھے۔ البتہ پھاٹک کے اندر چھاؤں کا ماحول تھا اور گھاس کافی بلند تھی۔ کوئی خاص جگہ نہیں تھی۔
آدمی نے بوڑھے سے کہا: ’’باباجی، مجھے اور میرے جانوروں کو شدید پیاس لگی ہے۔ آپ کے پاس پانی ہے؟‘‘
دیگر متعلقہ مضامین:
پائیلو کوئیلہو کا ناول ’’گیارہ منٹ‘‘ (تبصرہ) 
پائیلو کوئیلہو کی ترجمہ شدہ کتاب ’’تیر انداز‘‘ سے اقوال کا انتخاب 
ناولٹ "The Prophet” کا مختصر جائزہ 
بوڑھے نے نیم وا آنکھوں سے آدمی کی جانب دیکھا اور کہا: ’’پھاٹک کھول کر اندر چلے جاؤ۔ وہ بڑے پتھروں کے پیچھے چشمہ نکل رہا ہے ۔ سب مل جُل کر پانی پیو۔ بعد میں گھوڑے کو گھاس چرنے دو۔ کتے کے لیے بھی یہاں کوئی ہڈی یا گوشت وغیرہ ہوگا۔ فارغ ہو کر میرے پاس آ جانا۔ مَیں قہوہ بنانے لگا ہوں۔‘‘
آدمی فوراً اپنے جانوروں سمیت چشمے پر پہنچا۔ سب نے خوب سیراب ہو کر پانی پیا۔ گھوڑا اور کتا جیسے دوبارہ جی اُٹھے۔ اُنھیں کھانے کے لیے بھی مل چکا تھا۔
قہوہ پینے کے دوران میں آدمی نے بوڑھے سے پوچھا: ’’باباجی، یہ کون سی جگہ ہے؟ پہلے کبھی نظر نہیں آئی۔ آپ کو بھی پہلی بار دیکھا ہے۔‘‘
بوڑھے نے قہوہ کی چسکی لیتے ہوئے کہا: ’’یہ جنت ہے ۔ فردوسِ برِیں ہے۔‘‘
آدمی نے کہا: ’’مگر وہ تو مَیں پیچھے چھوڑ آیا ہوں۔ وہاں تو محلات تھے ۔ امیر کبیر لوگوں کی چہل پہل تھی۔ ہر چیز سنگِ مرمر سے تعمیر شدہ تھی۔
بوڑھے نے کہا: ’’مجھے معلوم ہے کہ تم وہیں سے آ رہے ہو۔ جو جو شخص میرے پاس پہنچتا ہے، وہ وہیں سے ہو کر آیا ہوتا ہے۔ جو مجھ تک نہ پہنچ سکے، وہ بدنصیب وہیں رہ جاتا ہے۔‘‘
آدمی نے کہا: ’’بدنصیب…… وہ کیسے؟
بوڑھے نے کہا: ’’کیوں کہ وہ جنت نہیں، دوزخ تھی!‘‘
آدمی نے کہا: ’’مَیں سمجھا نہیں۔ وہ دوزخ کیسے ہے؟‘‘
بوڑھے نے کہا: ’’پہلے ہمیں جنت کی تعریف سمجھنی چاہیے۔ خدا نے نیک دِل اور رحم دل انسانوں کے لیے دِل کی تسکین کا انتظام کیا ہوا ہے۔ اس کے لیے مرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ جنت ایسے انسانوں کو بحالتِ زندگی ملنا شروع ہوجاتی ہے، بلکہ کائنات بھر میں موجود ہے۔ ایسے انسانوں کی خاص بات یہ ہے کہ وہ خدا کی باقی مخلوق کے لیے بھی اُتنا ہی رحم دل ہوتے ہیں، جتنا خود اپنے لیے۔ اسی لیے جنت میں خود بھی جاتے ہیں اور اپنے پیاروں کو بھی ہم راہ لے جاتے ہیں۔ چاہے پیاروں میں جانور بھی کیوں نہ شامل ہوں۔ اسی سے اندازہ ہوجانا چاہیے کہ دوزخ کس شے کا نام ہے۔ وہ پچھلی جگہ اسی لیے دوزخ ہے۔ کیوں کہ وہاں آپ تو چلے جاؤگے، مگر اپنے پیارے نظر نہیں آئیں گے۔ وہاں انسان تو نظر آئیں گے، مگر باقی کی مخلوق نہیں۔ ایک بار سنگِ مرمر کے دروازے سے اندر چلے جاؤ، تو پھر قید شروع ہو جاتی ہے۔ وہ غلامی ہے، جب کہ یہ آزادی ہے جہاں تم اور تمھارے جانور اس وقت موجود ہیں۔ جب چاہے آؤ جاؤ، کائنات گھومو، یہ جنت ہمیشہ ہم راہ رہے گی۔ یاد رکھو، خدا دوسرے جانوروں کو دوزخ میں نہیں ڈالتا، مگر انسانوں کا امتحان ضرور لیتا ہے۔ اگر تم دوزخ کے جادو میں آ کر اُس میں داخل ہو جاتے، تب ہمیشہ وہیں رہتے۔ تمھارے جانور تم سے بچھڑ جاتے۔ جی ہاں، دوزخ دور سے خوب صورت نظر آتی ہے۔ پتا تب چلتا ہے جب اُس کے اندر خود کو پاؤ۔‘‘
بوڑھے نے آخری چسکی لی اور پھر آخری الفاظ بولے: ’’اگر تمھیں کسی جان دار سے محبت ہو، مگر جنت میں وہ تمھارے ہم راہ نہ ہو، تو سمجھ لو کہ تم جنت میں نہیں ہو!‘‘
(پائیلو کوئیلہو کی کتاب "The Devil & Miss Pryme” سے مقتبس، مترجم ’’مسافرِ شب‘‘)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔