تلخیص و ترجمہ: صوفیہ کاشف
اس بار مجھے قبل از وقت ہی ایک ایسا کرسمس گفٹ ملا جس نے مجھے بے تحاشا خوشی دی۔’’پرائڈ اینڈ پرجوڈس‘‘(Pride and Prejudice) کا خوب صورت انداز کی ہارڈ کاپی میں چھپا نیا ایڈیشن۔ ایک ایسی کتاب جس کی دنیا بھر میں 20 لاکھ سے زیادہ کتابیں بکیں اور جو 1811ء میں پہلی بار چھپنے کے بعد آج صدیوں بعد بھی اُسی شوق سے پڑھی اور مباحثے کا باعث بنتی ہے۔
جین آسٹن ایک حیران کن ہستی تھیں۔ انسانی رویوں اور تعلقات پر بڑی گہری نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ وہ نہ صرف بے چین اور باغی دل رکھتی تھیں بلکہ خود بھی باغی تھیں۔ ایک ایسے وقت میں جب عورت کے لیے یہ سوچا تک نہ جاسکتا تھا کہ وہ شادی نہیں کرنا چاہتیں، اُنھوں نے ایسا کیا بھی۔ وہ بہت تحمل اور بردباری سے اپنی تخلیقات میں اپنے زمانے میں رائج رسوم و رواج اور رویوں پر سوال اُٹھاتی رہیں۔ ایک ایسے کلچر میں، جہاں یہ فرض کیا جاتا تھا کہ غیر شادی شدہ خواتین خود کو سنبھال سکتی ہیں، نہ کوئی مفید زندگی ہی گزار سکتی ہیں۔ اُنھوں نے یہ کر دکھایا۔ اُن کے ناول عزم،ہمت اور ذہانت سے بنے گئے ہیں۔ جین آسٹن نے محبت اور زخمی دلوں کی داستانیں لکھیں۔ اُس نے ایک ایسی ہیروین تخلیق کی جو لوگوں سے محبت کرنے میں فنا ہونے پر یقین نہ رکھتی تھی۔ اگر مَیں اُس کے دل میں جھانک سکتی، تو چیزیں بہت آسان ہو جاتیں۔
یہ میریانے نے ’’سینس اینڈ سینسبیلٹی‘‘(Sense and Sensibility) میں کہا تھا۔ اگر ہم صرف محبوب کے دل کے اندر جھانک سکتے۔
جین آسٹن کی مہارت اور ذہانت کا اقرار کرتے ہمیں یہ بھولنا نہیں چاہیے کہ بہت طویل عرصے تک ادبی دنیا میں جین آسٹن کی انتہائی بے وقعتی کی گئی ہے۔ خاص طور پر درمیانی عمر کے گورے مرد مصنفین کے ہاتھوں۔ جین آسٹن سے نفرت کرنا مارک ٹوین کا محبوب مشغلہ تھا۔ اُس کا دعوا تھا کہ بہترین لائبریری وہ ہے جس میں جین آسٹن کا ایک بھی ناول نہ ہو۔ اُس کی نفرت کی حد تھی کہ ایک بار اس نے مذاق اُڑاتے کہا: ’’ہر بار جب میں پرائڈ اینڈ پریجوڈس پڑھتا ہوں، میرا دل چاہتا ہے کہ مَیں جین آسٹن کو ڈھونڈوں اور اُس کی کھوپڑی پر اُسی کے گھٹنے سے ضرب لگاؤں۔‘‘
آرنلڈ بیننٹ جین کو ایک ’’عظیم چھوٹی ناولسٹ‘‘ کَہ کر بلاتا تھا۔ اُس کا دعوا تھا کہ آسٹن کوئی صلاحیت نہیں رکھتی۔ چناں چہ ایک بڑی ناول نگار کبھی نہیں بن سکتی۔اور اچھی بات یہ ہے کہ اُس نے کبھی اس کی کوشش بھی نہیں کی۔ اسے اپنی جگہ کا پتا ہے۔‘‘
ڈی ایچ لارنس مستقل جین آسٹن کی تحریروں کا مذاق اُڑاتا۔ اِسی طرح ہینری جیمز کھلے عام اُس کی تخلیقات کا مذاق اُڑاتا رہا۔ جوزف کونا ر نے تحقیر کرتے ہوئے ایچ جی ویلز سے پوچھا: ’’اس میں ہے کیا،اور یہ سب کیا ہے؟‘‘ جین آسٹن نے اُسے حیران کر دیا تھا اور یہی چیز اُسے ناپسند تھی۔
اِس بارے میں نابوکوف کو کیسے بھول سکتے ہیں: ’’مجھے جین ناپسند ہے!‘‘ اُس کا مشہور فقرہ ہے: ’’مجھے پرائڈ اینڈ پریجوڈس میں کچھ نظر نہیں آتا!‘‘
مَیں اِس میں ایک اہم چیز کی نشان دہی کرنا چاہتی ہوں۔ نابوکوف نے یہ نہیں کہا کہ اُسے جین آسٹن ناپسند ہے (یا پھر آسٹن ہی) اُس نے کہا:’’مجھے جین ناپسند ہے!‘‘
جین جیسے ایک چھوٹی سی لڑکی…… جین ایک بچکانہ ہستی……!
جین جو مردوں کی بڑی مہارت سے بنائے ادبی مندر میں کہیں بہت نچلے درجے پر ہے۔ بالکل ایسے جیسے آرنلڈ بینینٹ نے کہا: ’’عظیم چھوٹی ناولسٹ!‘‘
نابوکوف کا ’’سر نام‘‘ کے بغیر نام پر اصرار دراصل جانتے بوجھتے یہ یقینی بنانے کے لیے تھا کہ ’’اسے اپنے مقام کی خبر رہے!‘‘
مَیں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی کہ نابوکوف، دووستوئیفسکی کو کبھی اُس کے صرف ایک نام سے پکارے گا…… نہیں! وہ کبھی اُس عظیم روسی مصنف کو صرف ’’فیودر‘‘ کَہ کر نہیں پکارے گا۔ بالکل ایسے ہی وہ کبھی پروست کو صرف مارسل نہیں کہے گا…… اور مجھے نہیں لگتا کہ کوئی تبصرہ نگار کبھی خود نابوکوف کو صرف ولادیمیر کَہ کر بلائیں گے، لیکن آسٹن کو صرف جین کَہ دینا بالکل مناسب حرکت ہے۔
جب نابوکوف نے کارنل یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کیا۔ اُس نے یورپی ادب کا سلیبس تیار کیا، جو سارے کا سارا صرف مرد مصنفین سے بھرا تھا۔ چارلس ڈکنس، گستاف فلابیر، رابرٹ لوئیس سٹیوینسن، مارسل پروست، فرانز کافکااور جیمز جائیس۔
یہ ایک شان دارسلیبس تھا، مگر اس میں ایک اہم چیز کی کمی تھی……عورت کی!
دیگر متعلقہ مضامین:
ایلف شفق کی کتاب ’’چالیس چراغ عشق کے‘‘ 
دیوان سنگھ مفتون کی ایک پرانی تحریر 
اونٹ کو عزت دو 
انتہائی عجیب لگتا تھا کہ مکمل سلیبس انتہائی دیدہ دلیری سے مردوں سے بھرا تھا اور جب اُس نے ایڈمنڈواشنگٹن سے مشورہ مانگا، تو واشنگٹن نے کہا کہ کم سے کم جین آسٹن کو ہی شامل کرلو۔ نابوکوف نے اُس مشورے کو یہ کہتے ٹھکرا دیا: ’’مجھے جین ناپسند ہے…… اور مَیں درحقیقت تمام خواتین مصنفین کو ناپسند کرتا ہوں۔ وہ سب دوسری کلاس سے تعلق رکھتی ہیں۔‘‘
بالآخر نہ چاہتے ہوئے نابوکوف مینز فیلڈ پارک کو اپنے لیکچر سیریز میں شامل کرنے پر راضی ہوگیا، لیکن پھر بھی اس کے لیے جین آسٹن پر تنقید کرنے سے گریز ناممکن تھا: ’’مادام باوری‘‘ اور ’’آنا کرینینا‘‘ جیسے ناول خوب صورتی سے تراشے ہوئے شاہ کار ہیں، جب کہ ’’مینز فیلڈ پارک‘‘ ایک خاتون کا کام ہے اور بچوں کا کھیل ہے،جس کی کام کی ٹوکری میں سے سوئی کا خوب صورت کام جنم لے سکتا ہے اور اس بچے میں حیران کن ذہانت کا شائبہ ہے۔‘‘
’’ایک عورت کا کام‘‘ اور ’’بچوں کا کھیل!‘‘
دوسرے بہت سے مصنفین کی طرح نابوکوف کے لیے خواتین مصنفین خصوصاً وہ جو پیار و محبت پر لکھیں، مکمل طور پر ایک دوسری کلاس سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان میں کوئی ادبی ہنر موجود ہے نہ کوئی حکایت گوئی کی صلاحیت…… وہ ہمیشہ صرف ’’جین‘‘ ہی رہیں گی۔
اس ہفتے لندن سے کیمبرج سفر کرتے مَیں یہی سوچتی رہی۔ میرا خیال تھا کہ ’’جین آسٹن‘‘ پر سبٹیک کے لیے ایک تحریر لکھوں گی کہ کس طرح اُس نے ادبی اندازِ تحریر کے ساتھ تجربات کیے…… اور کس طرح سے اُس نے اس قدر خوب صورت اور دل چسپ مکالمے تخلیق کیے، جو روزمرہ کی گفت گو کا انداز لیے ہوئے تھے۔ اسی لمحے مَیں نے اپنے سامنے بیٹھے دو مردوں کی گفت گو سنی جو ٹیلر سوئفٹ پر بات کر رہے تھے: ’’مجھے سمجھ نہیں آتی لوگ اس کے بارے میں اتنے پاگل کیوں ہیں۔‘‘
ایک بولا: ’’اس کا ہر گانا صرف رومانس ہی ہے۔ خوبصورت چہرہ ! ہے ناں! بس اوکے آواز! لیکن اتنی مقبولیت……؟مجھے سمجھ نہیں آتی یہ ہو کیا رہا ہے؟‘‘
دوسرے شخص نے سر ہلاتے ہوئے اتفاق کیا: ’’پاگل پن ہے!‘‘
مجھے یاد آیا کہ جوزف کونار نے ایچ جی ویلز سے جین آسٹن کے بارے میں کیا کہا تھا: ’’اس میں ہے کیا؟ آخر یہ سب کیا ہے……!‘‘
ٹیلر سوئفٹ لفظوں کی جادوگر ہے۔اس میں لفظوں کو خوب صورتی سے پرونے کا ہنر ہے۔یہ صرف شاعری کے معانی کی، ان کے چنچل پن یا لفظی جادوگری کی بات نہیں، بلکہ اِس کے علاوہ اُس کے الفاظ میں ایک سر بھی ہے، جو مجھے انتہائی اہم صلاحیت لگتی ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے گیت خود لکھتی ہے اور اس پر کئی بار بحث کی گئی ہے کہ اُس کے الفاظ کا ذخیرہ کتنا وسیع ہے۔
مجھے یہ دعوا نہیں کہ یہ دونوں خواتین ایک ہی کشتی کی سوار ہیں کہ جین آسٹن کی تو نہ صرف اپنے زمانے میں بلکہ بہت بعد تک پذیرائی نہ کی گئی، جب کہ ٹیلر سوئفٹ جو اَب اپنے کثیر تعداد فالورز کے ساتھ ایک امیر ترین خاتون ہے۔
18ویں صدی کے اواخر کے انگلینڈ سے آج کا تیز رفتار ڈیجیٹل زمانہ جتنا بھی مختلف ہو،کچھ ایسا ہے جو دونوں خواتین میں مشترک ہے۔ آج بھی ایک عورت جو پیار و محبت پر لکھتی ہے، ایک گھٹیا قسم کی لکھاری سمجھی جاتی ہے۔ ضرورت سے زیادہ مقبول، جس کی وہ حق دار نہیں۔
ایک ایسا مصنف کبھی ماہر حکایت گو نہیں کہلاسکتا۔ اسی طرح ایسا گلوکار آج کا ایوارڈ ونر نہیں کہلا سکتا۔ وہ ہمیشہ کمرشل گانے والا ہی رہے گا۔ یہ صرف گلوکار اور مصنفین ہی نہیں، جن کو حقیر سمجھا جاتا ہے، بلکہ اُن کے پڑھنے اور سننے والوں کو بھی ایسا ہی سمجھا جاتا ہے۔ جین آسٹن کے پڑھنے والی خواتین بے زار بیویاں، یا خوابوں میں رہنے والی نوجوان لڑکیاں سمجھی جاتیں۔ اسی طرح ٹیلر سوئفٹ کو سننے والے نوجوانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے: ’’ان نوجوانوں کو میوزک کا کیا پتا ہے!‘‘
جب کہ اسی انداز کا ادب لکھنے والے مردوں کی طرف سے ایسا رویہ آنکھیں بند کرلیتا ہے۔
جین آسٹن اور ٹیلر سوئفٹ جس طرح بہادری سے اپنے ہنر میں نسوانیت کو اپناتے، معاشرے میں رائج حدوں اور گھٹیا ظرافت کو توڑتی ہیں۔ یہی بات اُن کے نقادوں کو بری لگتی ہے۔ وہ دونوں اتنی مختلف ہیں کہ اُن کو اسی فریم میں دیکھیں تو سمجھ آتی ہے کہ ’’رقص کا شوقین ہونا پیار کی طرف ایک قدم ہے!‘‘
’’پرائڈ اینڈ پریجوڈس‘‘…… وقت میں جتنے لمحے ہوتے ہیں، اتنی ہی اقسام کی محبت ہو تی ہے۔
’’مینسفیلڈ پارک‘‘ ان کے ساتھ ایسا رویہ نہ رکھیں جیسے وہ کوئی صورتِ حال ہیں، جن کو بدلنا ضروری ہے!‘‘
مجھے لگتا ہے یہ سب ایک ہی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں سے کوئی جس نے ایک بار پیار کیا وہ ہمیشہ پیار کرتا رہے گا۔
لوگوں سے بھری اس دنیا میں جہاں کوئی بے کار انعام جیتنے کے لیے بے کار کھیل کھیلتا ہے، وہ بڑی شدت سے اس بات پر یقین کرنا چاہتا ہے کہ ہر انجام جو تمھارے ساتھ ہو، بہترین انجام ہے۔‘‘
تو لوگوں کو جین اور ٹیلر سوئفٹ سے کیا ملتا ہے؟
بہت کچھ……!
اس کا جواب اتنا طویل ہے کہ چند لفظوں میں سمیٹنا مشکل ہے۔ لیکن یقینی طور پر ان دو مختلف خواتین میں جو چیز مشترک اور اہم ہے، وہ ان کی دل کش زُبان ہے۔ جو زندگی، ذہانت اور جرات سے بھری ہوئی ہے۔ جو جذبات اور مشاہدات کا مسحورکن اظہار کرتی ہے۔ یہی وہ راز ہے جو ان عورتوں کے الفاظ کی مقبولیت میں ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔