انتخاب: احمد بلال
جنگ کے ختم ہونے کے بعد جب ایک جنرل کو جنگ میں مارے گئے فوجیوں کی باقیات تلاش کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے، تو اُس تلاش میں اُنھیں ایک بوڑھا مل جاتا ہے، جو اُسے ایک سپاہی کی کچھ دوسری باقیات اور ساتھ میں ایک ڈائری دیتا ہے۔
وہ کہتا ہے کہ وہ سپاہی روز اس میں کچھ نہ کچھ لکھ دیا کرتا تھا۔ اُس سپاہی نے جنگ کے دوران میں اس بوڑھے کے گھر پناہ لی تھی۔ اس بوڑھے کی ایک بیٹی تھی، جسے یہ سپاہی پسند کرنے لگا تھا۔ اس حوالے سے وہ لکھتا ہے:
٭ جولائی؛ دوپہر:
کرسٹین کی آنکھیں تمام البانوی لڑکیوں کی طرح مکمل طور پر علامتی ہیں۔ محبت……؟ میری طرف سے ہاں…… اُس کی طرف سے ، کچھ نہیں……!
٭ اتوار:
مجھے اتفاق سے یہ پتا چلا ہے کہ کرسٹین ایک ہفتے میں شادی کرنے والی ہے۔ مَیں نہیں جانتا، لیکن اُس کی منگنی کافی دنوں سے ہوچکی تھی، اور کل جب آنٹی فروسا نہر سے پانی بھررہی تھی، مَیں نے اُس سے صرف بات کرنے کی خاطر پوچھا:’’آپ لوگوں کے ہاں بہت سارے کاموں میں تیزی آگئی ہے…… ایسا کیوں ہے ؟
’’کیوں کہ دن بہت قریب آگیا ہے ، میرے بیٹے……!‘‘
’’کیسا دن؟‘‘
’’کیسا دن مطلب……؟ ہم اگلے ہفتے اپنی بیٹی کی شادی کر رہے ہیں۔ یقینا تم کو معلوم ہوگا؟‘‘
’’نہیں…… مَیں نے کہا: ’’مجھے نہیں معلوم……!‘‘
لیکن میری آواز اتنی ٹوٹی ہوئی تھی کہ آنٹی فروسا نے ایک لمحے کے لیے مجھے گھور کر دیکھا۔
میرا پہلا خیال یہ تھا کہ مَیں اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش کروں، لیکن پھر مَیں نے سوچا بھاڑ میں جائے کوشش…… مجھے اپنا درد چھپانے کی کیا ضرورت ہے؟ مَیں یقین سے نہیں کَہ سکتا کہ وہ جان گئی تھی یا نہیں کہ اُس کے لفظوں نے مجھے کیا صدمہ پہنچایا تھا…… لیکن اُس نے باقاعدہ مجھے گھورتے ہوئے کہا: ’’کیوں نہیں بیٹا……! وقت گزرتا ہے اور لڑکیاں بڑی ہوتی جاتی ہیں، تو اُن کی شادی کرنی پڑتی ہے…… جیسے ہی یہ جنگ ختم ہو گی، اور تم اپنے گھر واپس جاؤگے، تو تمھاری ماں بھی تمھاری شادی کسی حسین لڑکی سے کر دے گی، جو مئی میں کھلتے پھولوں کی طرح خوب صورت ہو گی۔‘‘
جب اُس نے یہ کہا، تو مَیں تقریباً ٹوٹ چکا تھا۔ کیوں کہ مجھے لگا کہ وہ مجھے تسلی دینے کی کوشش کر رہی ہے، جس نے میرے درد کو مزید بڑھا دیا۔
پھر میں واپس چکی میں آکر بیٹھ گیا…… اور مَیں نے خود سے اونچی آواز میں کہا: ’’کرسٹین تمھاری شادی ہو رہی ہے، بس یہی سچ ہے……!‘‘
دو دن پہلے مَیں کرسٹین کو ایک چھوٹا سا تحفہ دینا چاہتا تھا، لیکن کیا……؟ میرے پاس کچھ نہیں تھا۔ پھر میں نے اُسے اپنا تمغا دینے کا سوچا۔ مَیں نے اُسے دو تین بار اُس کی طرف متجسس نظروں سے گھورتے ہوئے دیکھا۔
’’یہ لو، تمھیں میری یاد دلانے کے لیے……!‘‘
وہلے یکر اُسے خوشی سے دیکھنے لگی: ’’کیا یہ کنواری مریم ہے…… ؟‘‘
’’ہاں……!‘‘
’’تمھیں کس نے دیا…… تمہاری ماں نے……؟‘‘
’’نہیں، فوج نے……!‘‘
’’کیوں…… ؟‘‘
’’تاکہ مَیں مرتے وقت پہچانا جاؤں……!‘‘
(نوٹ:۔ ناول ’’مردہ لشکر کا سپہ سالار‘‘ سے مقتبس، ناول کے مصنف ’’اسماعیل کادرے‘‘ ہیں اور اس کا ترجمہ ’’قربان چنا‘‘ نے کیا ہے۔)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔